الزام بے بنیاد ثابت ہوئے چینی کمپنی کے بلیک لسٹ ہونے سے پاکستانی عوام کی عزت بڑھی : شہباز شریف

الزام بے بنیاد ثابت ہوئے چینی کمپنی کے بلیک لسٹ ہونے سے پاکستانی عوام کی عزت ...

لاہور(جنرل رپورٹر) وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت نے شہریوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کیلئے جاپان کی ایجنسی جائیکاکے تعاون سے صوبائی دارالحکومت میں 105پرانے اور خراب ٹیوب ویلوں تبدیل کرنے کا منصوبہ مکمل کر لیا ہے۔اس منصوبے کی تکمیل سے لاہور کے شہریوں کو آرسینک سے پاک صاف پانی مل رہا ہے۔18ماہ کی مدت میں مکمل ہونے والے اس منصوبے پر 2ارب30کروڑ روپے خرچ ہوئے ہیں اور اس تعاون پر ہم جاپان کے شکر گزار ہیں۔ پنجاب حکومت گزشتہ9برسوں سے صوبے کے عوام کے پینے کے صاف پانی ، تعلیم ، صحت اور دیگر شہری سہولتوں کی فراہمی پر خصوصی توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے۔صاف پانی ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور یہ حق اسے دینے کے لئے انتھک محنت سے کام کیا گیا ہے۔پینے کے صاف پانی کے بڑے پروگرام پر تیز رفتاری سے کام کیا جا رہا ہے۔اگر اللہ تعالیٰ نے عوام کی خدمت کا دوبارہ موقع فراہم کیا تو ہمارا پنجاب کے عوام سے وعدہ ہے کہ صوبے کے ہر گھر میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائیں گے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے ان خیالات کا اظہار آج ماڈل ٹاؤن میں جاپان کے ادارے جائیکا(JICA)کے تعاون سے پینے کے صاف پانی کی فراہمی کیلئے لاہور میں105ٹیوب ویلوں کی تبدیلی کے منصوبے کی تکمیل پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صوبائی وزراء خواجہ عمران نذیر، مجتبیٰ شجاع الرحمن، ملک ندیم کامران ، ترجمان پنجاب حکومت ملک احمد خان ، مسلم لیگی رہنما خواجہ احمد حسان، پاکستان میں جاپان کے سفیرتاکاشی کورائی اور ان کی ٹیم کے اراکین، چیف سیکرٹری اور پنجاب کے اعلیٰ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وزیر اعلیٰ محمد شہباز شریف نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فیصل آؓباد میں13ارب روپے کی لاگت سے پینے کے صاف پانی کی فراہمی کی سکیم مکمل کی گئی ہے جبکہ14ارب روپے کی ایک اور سکیم کا آغاز جلد کیا جا رہا ہے۔صاف پانی کی فراہمی کے پروگرام میں برادر اسلامی ملک ترکی کی معاونت بھی حاصل کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان وسائل کی دولت سے مالا مال ہے۔ہمیں عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے منصوبوں کیلئے وسائل کی ضرورت نہیں۔ہمیں ان کی تکنیکی معاونت درکار ہے اور اس مقصد کے لئے جہاں سے بھی مدد ملتی ہے،اس کا شکریہ ادا کرنا چاہیئے۔راولپنڈی میٹروبس کے منصوبے پر 42ارب روپے جبکہ ملتان میٹروبس پر 20ارب روپے پنجاب حکومت نے اپنی جیب سے لگائے ہیں ۔دوسری جانب کے پی کے کی حکومت نے میٹروبس کے لئے ایشیائی ترقیاتی بینک سے قرضہ لیا ہے ۔پنجاب میں اربوں روپے کے وسائل سے جدید ہسپتال بنائے جارہے ہیں ۔پاکستان کڈنی اینڈ لیور ٹرانسپلانٹ انسٹی ٹیوٹ کا پہلا مرحلہ مکمل ہونے کو ہے۔گردہ و جگر کے امراض کی اس جدید علاج گاہ پر 20ارب روپے خرچ کیے جارہے ہیں ۔گزشتہ 70سالوں میں کونسا ایسا موقع تھا جب ایسے منصوبے بیرونی قرض لیے بغیر لگائے گئے ہوں۔ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ رحیم یار خان میں اربوں روپے کی لاگت سے پاکستان کی پہلی انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی مکمل ہونے کو ہے،اسی طرح خانیوال سے لودھراں تک 24ارب روپے کی لاگت سے دورویہ سڑک بنائی جارہی ہے جبکہ ڈی جی خان سے مظفر گڑھ روڈ پر 15ارب روپے خرچ کیے جارہے ہیں ۔یہ نیشنل ہائی ویز کی سڑکیں ہیں اور پنجاب حکومت اپنے وسائل سے بنارہی ہے ۔لاہور کے بعد ملتان اورلودھراں میں عوام کی سہولت کے لئے سپیڈ و بس سروس بھی چلائی گئی ہے۔ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ مجھ پر الزام لگانے والی چینی کمپنی یابیٹ کو میں نے نہیں بلکہ چین کی حکومت نے بلیک لسٹ کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ مجھ پر الزام لگایا گیا کہ میں نے ملتان میٹروبس کے منصوبے سے 1ارب 75کروڑ روپے چین میں اپنے اکاؤنٹ میں بھجوائے ہیں۔ٹی وی چینل اے آر وائی نے اس الزام کی تصدیق کیے بغیر میرے خلاف پراپیگنڈا کیا۔سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے جن افسران نے غلط معلومات دیں ان کا بھی احتساب ہوگا۔اس الزام کے پیچھے پی ٹی آئی کے لوگ بھی شامل تھے ۔چینی کمپنی یا بیٹ کا جھوٹ ثابت ہونے پر اسے چین کی حکومت نے بلیک لسٹ کیا ہے اوراسے بھاری جرمانے بھی ہوئے۔چینی کمپنی کے بلیک لسٹ ہونے سے پاکستان کے عوام کی عزت بڑھی ہے اور مجھ پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ثابت ہوئے ہیں۔ یہ میری بے گناہی نہیں بلکہ پوری قوم کا اعزاز ہے اور ہمارے لئے فخر کا مقام ہے کہ بیرون ملک پاکستانیوں کے وقار میں اضافہ ہوا ہے۔ اے آر وائی کا بے بنیاد اورجھوٹا الزام غلط ثابت ہوااور ایس ای سی پی نے جو معلومات اے آر وائی کو دی تھیں وہ بھی غلط ثابت ہوئیں۔اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اے آر وائی اورمجھ پر غلط الزام لگانے والوں کا جھوٹ عوام کے سامنے آیااورحقیقت کھل گئی اور دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے دیانتداری سے عوام کی دن رات خدمت کی ہے۔دوسری جانب ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے غریب عوام کی محنت کی کمائی پر ڈاکے ڈالے ۔این آئی سی ایل،اوگرااورای او بی آئی میں ہونیوالی اربوں ر وپے کی ڈاکہ زنی بھی عوام کے سامنے ہیں ،جنہوں نے ان اداروں میں ڈاکہ ڈالا انہوں نے نیب میں بیان دیا کہ ہم لوٹا ہوا مال واپس کرنے کیلئے تیار ہیں لیکن اس کے باوجود نیب نے اس پر کوئی کارروائی نہیں کی ۔اس طرح پاکستان آگے نہیں بڑھ سکتا۔میری میڈیا سے بھی گزار ش ہے کہ وہ الزام تراشی نہ کرے بلکہ احتساب کرے اورنیک نیتی سے خامیاں سامنے لائے۔ جو کرپشن کرتے ہیں ان کا گلا پکڑا جائے۔ اے آر وائی نے غلط پراپیگنڈا کیا، جس سے اس کی ساکھ خراب ہوئی ہے۔ یہ پاکستان پر بڑا ظلم اورزیادتی ہے۔ہم نے گزشتہ 9 سالوں میں مختلف ترقیاتی منصوبوں میں غریب عوام کے 5سو ارب روپے بچائے ہیں۔ جاپان کے سفیر نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جاپان اور پاکستان کے مابین معاشی تعاون موجود ہے اورہم جائیکا کے تعاون سے مکمل ہونے والے منصوبے پر عوام کو مبارکباد دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کے ساتھ واٹر سیکٹرز سمیت دیگرشعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دیں گے۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف سے یہاں جاپان کے سفیر تاکاشی کورائی نے ملاقات کی جس میں باہمی دلچسپی کے امور، دو طرفہ تعلقات کے فروغ اورمختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جاپانی قوم نے اپنی محنت سے نمایاں ترقی کی ہے اور میں جاپانی قوم کی محنت کا بہت بڑا معترف ہوں۔وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف سے انڈونیشیا کے صدر کے خصوصی ایلچی برائے او آئی سی (اسلامی ممالک کی تعاون تنظیم) اور مشرق وسطیٰ ڈاکٹر علوی شہاب (Dr. Alwi Shihab) کی قیادت میں اعلیٰ سطح کے وفد نے ملاقات کی جس میں باہمی دلچسپی کے امور، پاکستان اور انڈونیشیا کے مابین دو طرفہ تعلقات کے فروغ اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات میں مختلف شعبوں اور معاشی میدان میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان اچھے برادرانہ اور دوستانہ تعلقات موجود ہیں۔انڈونیشیا کے ساتھ مختلف شعبوں اور معاشی تعلقات کو بھی فروغ دینا چاہتے ہیں۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انڈونیشیا نے پالیسیوں کے تسلسل کے باعث معاشی و صنعتی ترقی کی ہے اورایگروبیسڈ انڈسٹری میں انڈونیشیا بہت آگے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں مل کر معاشی میدان میں آگے بڑھنے کی جنگ لڑنی ہے کیونکہ روایتی جنگوں کا دور گزر چکا ہے۔ اب مل کر غربت،بیروزگاری اور عدم مساوات کے خاتمے کی جنگ لڑنا ہوگی۔صوبائی وزراء ملک ندیم کامران، شیر علی خان، شیخ علاؤالدین، وائس چیئرمین پنجاب سرمایہ کاری بورڈ، خواجہ احمد حسان، متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام اور انڈونیشیا کی مختلف کمپنیوں کے سربراہان بھی اس موقع پر موجود تھے۔انڈونیشیا کے سفیر آئیوان سیودھی امری بھی اس موقع پر موجود تھے۔دریں اثنائشہبازشریف کی جانب سے ماڈل ٹاؤن میں مسیحی برادری کے لئے کرسمس کی خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ نے اقلیتی حقوق کمیشن بل اسمبلی سے پاس کرانے کا اعلان کیا اور کہا کہ صوبائی وزیرقانون اس ضمن میں باقاعدہ مشاورت کر کے اقلیتی حقوق کمیشن کے بل کواسمبلی سے منظور کرانے کے لئے اقدامات کریں گے۔ وزیراعلیٰ نے مسیحی قیدیوں کے لئے سزاؤں میں تین ماہ کی رعایت دینے کا اعلان بھی کیا اور کہا کہ مسیحی قیدیوں کو بھی کرسمس کے موقع پر اسی طرح رعایت دی جائے گی جس طرح عید کے موقع پر قیدیوں کو دی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ یوحنا آباد اور جوزف کالونی سے متعلقہ مسائل کے حل پر غور کیا جائے گا۔ وزیر اعلی نے کہا کہ اقلیتوں کے لئے ملازمتوں میں پانچ فیصد کوٹہ مختص کیا گیا ہے اور اس کوٹے پر عملدرآمد سے اقلیتوں کے بچے و بچیاں سرکاری محکموں میں اچھی ملازمتیں حاصل کر رہے ہیں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یوم ولادت پاکستان میں عزت و احترام سے منایا جاتا ہے۔بدقسمتی سے کوئٹہ میں چند روز قبل دہشت گردی کا اندوھناک واقعہ پیش آیا جہاں مسیحی بھائیوں کو سفاک طریقے سے مارا گیا۔یہ قبیح حرکت کرنے والے انسانیت کے دشمن ہیں۔ان دہشت گردوں کو پاکستان میں کہیں پناہ نہیں ملے گی۔یہ سفاک درندے قانون کے ہاتھوں گرفتار ہوں گے اور انہیں کڑی سے کڑی سزا ملے گی۔ محمد شہبازشریف نے کہا کہ میں ،مسلم لیگ(ن)، حکومت پنجاب اور پنجاب کے عوام کی جانب سے اس المناک واقعہ پر مسیحی برادری سے اظہار افسوس کرتاہوں۔وزیراعلیٰ نے کرسمس کے تہوار پرمسیحی برادری کو مبارک باد دی اورمسیحی برادری کے ساتھ مل کر سمس کا کیک کاٹا۔

شہباز شریف

لاہور(جنرل رپورٹر)وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے کہاہے کہ کاشتکاروں کے مفادات کا پہلے بھی تحفظ کیا ہے آئندہ بھی کریں گے ۔کاشتکاروں کے سا تھ کسی قسم کی زیادتی قبول نہیں ۔پنجاب کے کاشتکاروں کے مفادات کی خاطر ہر حد تک جاؤں گا۔ کاشتکاروں سے گنے کی 180روپے فی من قیمت کی وصولی ہر قیمت یقینی بنائی جائے گی اور گنے کا وزن کم کرنے کی شکایت کسی صورت برداشت نہیں کروں گا،شوگر ملیں کاشتکاروں کو پکی رسید دینے کی پابند ہوں گی اورجو ملیں کچی رسید دیں گی ان کے خلاف کارروائی ہوگی اوراس ضمن میں کئے جانے والے فیصلوں پر شوگر ملیں من وعن عملدرآمد کریں گی اور شوگر مل مالکان نے کسی فیصلے کی خلاف ورزی کی تو میں کسی کا لحاظ نہیں کروں گا۔گنے کے وزن یا قیمت میں کمی کی شکایت پر مل مالک کے خلاف کارروائی ہوگی۔ کاشتکاروں نے محنت سے گنا کاشت کیاہے ان کی محنت کو ضائع نہیں ہونے دیا جائے گا اور گنے کے کاشتکاروں سے کوئی ظلم وزیادتی نہیں ہوگی ۔وزیراعلی نے ان خیالات کا اظہار آج یہاں کسان ا تحاد کے وفود سے ملاقات اور پنجاب زرعی کمیشن کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔وزیراعلی نے گنے کے کاشتکاروں کے لئے کئے جانے والے فیصلوں پر عملدرآمد کے لئے کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے کہاکہ یہ کمیٹی فیصلوں پر عملدرآمد کا جائزہ لے گی۔ کاشتکاروں کے ساتھ زیادتی پر شوگر مل مالک سے کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔اگر شکایت میرے کسی رشتہ دار کے خلاف بھی آئی توبھی ایکشن لوں گا۔کاشتکاروں کو ملوں سے ادائیگی کے حوالے سے بھی سہولت فراہم کریں گے ۔کمشنر ز ، ڈپٹی کمشنرز اور پولیس افسران کاشتکاروں کے مفادات کے تحفظ کے لئے کئے جانے والوں فیصلوں پر عملدرآمد یقینی بنانے کے پابندہوں گے۔ فیصلوں کی خلاف ورزی کی شکایت پر متعلقہ انتظامی وپولیس افسران کے خلاف کارروائی ہوگی ۔صدرکسان اتحاد( خالد کھوکھر گروپ)خالد کھوکھر، چیئرمین شوگر ملز ایسوسی ایشن پنجاب جاوید کیانی ، صدر کسان اتحاد (چودھری انور گروپ) راؤ طارق اشفاق ، صدر کسان بورڈ پاکستان سرفراز خان کے علاوہ دیگر ترقی پسند کاشتکار بھی اس موقع پر موجود تھے۔صوبائی وزراء رانا ثنا اللہ، شیخ علاؤ الدین، نعیم اختر بھابھہ،رکن پنجاب اسمبلی سید حسین جہانیاں گریزی، چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ ، انسپکٹر جنرل پولیس اور اعلی حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔

وزیراعلیٰ پنجاب

بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک)چین نے شہباز شریف پر منی لانڈرنگ الزامات لگانے والی کمپنی بلیک لسٹ کردی۔تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف پر مبینہ منی لانڈرنگ کے الزامات کی وجہ بننے والی چینی کمپنی جیانگ ژو یا بائٹ کو چین میں ہمیشہ کیلئے بلیک لسٹ کردیا گیا اور اس کے مالک کو سخت سزائیں سنا دی گئیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق17 دسمبر کو یابائٹ کمپنی کے مالک نے کمپنی کی آفیشل ویب سائٹ پر معافی نامہ شائع کیا، جس میں اعتراف کیا گیا ہے کہ انہوں نے عوام سے فراڈ کیا، جس کے نتیجے میں ملنے والی سزا اور مارکیٹ میں داخلے پر تا حیات پابندی کے فیصلے کو قبول کرلیا ۔چینی ریگولیٹری ادارے سی ایس آر سی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جیانگ ژو یابائٹ کو 6 لاکھ یوان اور اس کے مالک کو 3 لاکھ یوان جرمانہ کیا ہے، جبکہ چینی ریگولیٹری ادارے نے اس کمپنی کے سیکیورٹیز مارکیٹ میں داخلے پر بھی تاحیات پابندی لگا دی ہے۔چینی سفارتی مشن کے ڈپٹی چیف مسٹر لی جیان ژاؤ نے تصدیق کی کہ چین کے ریگولیٹری ادارے 'سی ایس آر سی' نے اپنا فیصلہ جاری کردیا ہے اور یابائٹ کے مالک کا معافی نامہ بھی اصلی ہے۔انہوں نے کہا یہ چینی کمپنی فراڈ میں ملوث رہی ہے جس کے متعلق چینی دفتر خارجہ پہلے ہی وضاحت جاری کرچکا ہے۔

چینی کمپنی بلیک لسٹ

مزید : صفحہ اول