ماں باپ کے جھگڑوں اور علیحدگی کا خمیارہ معصوم بچوں کو اٹھانا پڑتا ہے

ماں باپ کے جھگڑوں اور علیحدگی کا خمیارہ معصوم بچوں کو اٹھانا پڑتا ہے

لاہور(رپورٹ:کامران مغل) فیملی کورٹس میں ماں باپ کے جھگڑوں کا خمیازہ بچے بھگتنے لگے ۔ عدم برداشت ، معاشی بدحالی ، ذاتی انا اور روزمرہ کے تنازعات کے سبب میا ں بیوی میں علیحدگی کے باعث نقصان صرف اور صرف معصوم بچوں کو ہی اٹھانا پڑتاہے ۔ذہنی انتشار کا شکار ہونے کی وجہ سے بچے تعلیمی میدان میں بھی کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوپاتے اور اپنامستقبل تاریک ہونے کاذمہ دار ساری عمر اپنے والدین کو ہی ٹھہراتے ہیں۔رواں سال 3ہزار خواتین نے خلع کی بنیاد پر طلاق کی ڈگریاں حاصل کیں ،ایک ہزار پانچ بچے ماں یا باپ کی شفقت سے محروم ہوئے ،2300بچوں کی مختلف فیملی کیسوں میں عدالتوں کے حکم پر سول کورٹ میں ماں اور باپ سے ملاقات کرائی گئی،عدالتوں میں 2ہزار دعوے حق مہر، خرچے اور طلاق کے مقدمات جبکہ5ہزار بچوں کے حصول کے دعوے سات گارڈین عدالتوں میں دائر کئے گئے ۔رواں سال میں ہی سیشن جج لاہور نے ایڈیشنل سیشن ججوں سے بچوں سے متعلق 59 مقدمات واپس لیتے ہوئے نئی قائم ہونے والی خصوصی چائلڈ کورٹ کے جج اختر بھنگو کی عدالت میں بھجوا ئے ہیں۔ گزشتہ روز فیملی کورٹس میں روزنامہ "پاکستان "کی جانب سے کئے جانے والے سروے کے دوران ملاقاتوں کے دوران جذباتی مناظر دیکھنے کو ملے،جہاں بچوں نے اپنے والدین پر دباؤ ڈالا کہ وہ ان کی زندگیوں کو تباہ نہ کریں اور ان کی خاطر مصالحت کرکے ان کا مستقبل تاریک ہونے سے بچائیں ۔ملاقاتوں کیلئے آنے والے لواحقین کا کہنا تھا کہ گھریلو جھگڑوں کی وجہ سے میاں بیوی کی ناچاقی کے باعث پہلے اناکا مسئلہ کھڑا ہوتا ہے اور بعد میں نوبت طلاق تک پہنچ جاتی ہے اورپھر ایک دوسرے کے خلاف دعوے دائر کردئے جاتے ہیں ،اس سارے معاملے میں صرف اور صرف کمسن بچوں کی زندگیاں ہی تباہ وبرباد ہوتی ہیں او ر بچے احساس کمتری کا شکار ہونے کے ساتھ ساتھ تعلیمی میدان میں بھی پیچھے رہ جاتے ہیں اور ان کا مستقبل بھی تاریک ہوجاتا ہے۔ملاقاتوں کے دوران والدین بچوں کے لئے گفٹ، کھلونے اورکپڑے وغیرہ بھی لائے ،کچھ بچے تو کھلونوں سے محظوظ ہوتے رہے لیکن بعض بچوں نے تو نظر بھر کر دیکھنا بھی گوارانہیں کیا جبکہ وہ بھی ماں باپ میں صلح صفائی کروانے کے لئے دہائیاں دیتے رہے ۔ماں سے بچوں کی ملاقات کروانے کیلئے آنے والے باپ محمدعبدالحق نے بتایا کہ ما ں باپ کی ضد کی وجہ سے کمسن بچے تعلیم سے جان چھڑانے لگے ہیں جبکہ ملاقاتوں کی وجہ سے ڈپریشن کا شکار بن جاتے اور اپنی زندگی میں کچھ کرنے کے قابل نہیں رہتے اور والدین کو ہی اپنی بربادی کا ذمہ دارسمجھتے ہیں۔انہو ں نے مزید کہا کہ ایک کمسن بچہ جسے اپنے والدین کی شفقت کی ضرورت ہوتی ہے وہ کیسے فیصلہ کرسکتا ہے کہ اسے ماں یا با پ کس کے پاس رہنا ہے ؟ ۔گزشتہ روز ایسے رقت آمیز مناظر بھی دیکھنے میں آئے جب بچے والدین کوصلح کے واسطے دیتے رہے لیکن سنگ دل ماں باپ پر ان کی فریاد کا بھی کوئی اثر نہیں ہوا اور وہ اپنی انا اورضد پر قائم رہے ۔مغل پورہ سے آئی بچی فاطمہ نے کہا پاپاآپ ماما سے صلح کرلیں ،ایک اور بچے نے کہا ماما آپ پاپا سے لڑائی جھگڑے ختم کرلیں اور آئیں اکھٹے گھر چلیں... اس موقع پر متعدد والدین کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑے۔ اس حوالے سے نمائندہ "پاکستان"سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان بار کونسل میڈیا سیل کے سابق کوارڈینیٹر محمدمدثرچودھری ،سینئر ایڈووکیٹ غلام مجتبی چودھری اورمرزا حسیب اسامہ نے کہا کہ والدین کو چاہئے کہ وہ اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کی خاطر خندہ پیشانی سے حالات کا مقابلہ کریں ، والدین اپنی انا،گھریلو ناچاقیاں اور ایک دوسرے کے خلاف دعووں سے اپنیکمسن بچوں کی زندگیاں تباہ نہ کریں۔انہوں نے مزید کہاکہ ہمیں ایک ایسا ما حول تشکیل کر نا ہوگا جہا ں والدین اپنے ہی بچے کے ذریعے ایک دوسرے سے انتقام نہ لیں۔

ماں باپ علیحدگی

مزید : صفحہ اول