شہباز شریف کی نامزدگی نے خاندانی اختلافات کی فسانہ طرازیوں کاْ صہ تمام کر دیا

شہباز شریف کی نامزدگی نے خاندانی اختلافات کی فسانہ طرازیوں کاْ صہ تمام کر ...

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

جن دنوں نوازشریف ابھی وزیراعظم تھے اور پاناما کیس چل رہا تھا ان کے بہت سے ’’بہی خواہ‘‘ انہیں یہ مشورہ دے رہے تھے کہ وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں وہ ٹس سے مس نہیں ہوئے تو ان کے ہمدردوں کی جانب سے یہ تجویز آئی کہ وہ اگر وزارت عظمیٰ چھوڑ کر شہبازشریف کو اس عہدے کیلئے آگے آنے دیں تو یہ پارٹی کیلئے اچھا ہوگا، ایک رائے یہ بھی سامنے ائی اور اب تک اسکی جگالی تسلسل اور تواتر کے ساتھ کی جا رہی ہے کہ نوازشریف اپنے چھوٹے بھائی پر بھی اعتماد نہیں کرتے، اس دوران پاناما کا فیصلہ آگیا تو پھر یہ ضرورت آن پڑی کہ اب وزیراعظم کون ہو، شہبازشریف کا نام زیر بحث آیا، پارٹی کے اندر اور باہر بہت سے حلقے شہبازشریف کے بارے میں مثبت رائے کا اظہار کرتے رہے لیکن وہ یوں ہی بیٹھے بٹھائے وزیراعظم نہیں بن سکتے تھے۔ اس کا ایک طویل پراسیس تھا جس سے انہیں گزرنا پڑتا، وہ پہلے وزارت علیا سے استعفا دیتے اور اپنی جگہ پنجاب اسمبلی کے کسی رکن کو وزیراعلیٰ بنواتے، اس کیلئے حمزہ شہباز کا نام لیا گیا لیکن وہ قومی اسمبلی کے رکن تھے، ایسی صورت میں یہ ہوسکتا تھا کہ حمزہ اپنی قومی اسمبلی کی نشست سے مستعفی ہوکر اپنے والد کو اس پر الیکشن لڑنے پر آمادہ کرتے تاکہ وہ منتخب ہوکر وزیراعظم بن جاتے، لیکن یہ کام بھی اتنا سادہ نہیں تھا جب تک شہبازشریف قومی اسمبلی کے رکن بنتے اس وقت تک بھی تو کسی کو وزیراعظم بنانا تھا، اس مقصد کیلئے قرعہ فال شاہد خاقان عباسی کے نام نکل آیا اور انہوں نے وزیراعظم کا عہدہ سنبھال لیا۔ عام خیال یہی تھا کہ وہ عبوری عرصے کیلئے وزیراعظم ہیں یعنی جب تک شہبازشریف قومی اسمبلی کا الیکشن جیت کر ایوان میں نہیں پہنچ جاتے وہ اس وقت تک وزیراعظم ہیں۔ اس دوران یہ ہوائی بھی اڑائی گئی کہ کلثوم نواز کو لاہور سے الیکشن اس لئے لڑوایا جا رہا ہے تاکہ انہیں وزیراعظم بنایا جاسکے اس پر بھی رنگا رنگ قسم کی حاشیہ آرائی کی گئی کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ نوازشریف ہی بالفعل وزیراعظم ہوں گے لیکن یہ سب کچھ نہیں ہوا۔ شاہد خاقان عباسی وزیراعظم ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ اسمبلی اور حکومت اپنی مدت پوری کرے گی اور الیکشن جولائی میں ہوں گے، حمزہ شہباز کو بھی وزیراعلیٰ پنجاب نہیں بنایا گیا۔ کلثوم نواز ایم این اے ضرور منتخب ہوگئیں لیکن وہ اب تک بیرون ملک زیر علاج ہیں اور حلف تک نہیں اٹھاسکیں۔ چونکہ اپنی والدہ کی ساری انتخابی مہم مریم نواز نے چلائی تھی اس لئے بہت سے دور کی کوڑیاں لانے والے یہ کوڑی بھی لے آئے کہ مریم نواز کو وزیراعظم بنانا مقصود ہے، پھر اس کے بعد خاندانی اختلافات کی داستانیں تراشی گئیں۔ ایک رپورٹر یہ خبر لائے کہ سالہا سال سے نوازشریف اور شہبازشریف اتوار کے اتوار اکٹھے کھانا کھایا کرتے تھے جو آج کل نہیں کھایاجارہا۔ یہ بھی کہا گیا کہ شہبازشریف ناراض ہوکر لندن چلے گئے ہیں اور ان کے صاحبزادے حمزہ بھی خوش نہیں، خاندانی اختلافات کی ایسی ایسی کہانیاں گھڑی گئیں کہ باید و شاید۔

مسلم لیگ (ن) ایک سیاسی جماعت ہے اور جس شکل میں یہ آج موجود ہے اس کا سارا کریڈٹ نوازشریف اور ان کے ساتھیوں کو جاتا ہے ورنہ قیام پاکستان کے بعد مسلم لیگ کی کوئی ایسی روایت نہیں کہ اس نے آزمائش کے لمحات میں اس طرح کی ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا ہو، ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا آپ نے ایسے بیانات پڑھے اور گپ باز چینلوں سے سنے ہوں گے کہ مسلم لیگ کے پچاس ارکان باغی ہوگئے ہیں اور ’’ٹیلیفون کال‘‘ کا انتظار کر رہے ہیں۔ کسی نے باغیوں کی تعداد 70,60 اور 80 بھی بتائی، کسی کا خیال تھا کہ مسلم لیگ (شہباز) بھی بن رہی ہے جس میں سارے باغی شامل ہوں گے، پھر کہا گیا چودھری نثار علی خان پارٹی سے الگ ہو رہے ہیں اور وہ اپنا دھڑا بھی ساتھ لے جائیں گے جبکہ امر واقعہ یہ ہے کہ اب تک مسلم لیگ کے ایک رہنما نے کھل کر پارٹی کی پالیسی کی مخالفت کی ہے اور ووٹ بھی خلاف دیا ہے اور یہ رہنما ہیں میر ظفر اللہ جمالی، انہوں نے پارٹی چھوڑ دی ہے۔ ایک وفاقی وزیر اور قومی اسمبلی کے ایک رکن کی جانب سے مخالفانہ بیانات سامنے آئے لیکن وہ بدستور پارٹی میں ہیں، اب تک تین صوبائی ارکان نے پیر حمیدالدین سیالوی کی وساطت سے استعفے دیئے ہیں ایک استعفیٰ قومی اسمبلی کی ایک خاتون رکن نے دیا ہے، باقی کسی نے استعفوں کا اعلان نہیں کیا، کل کوئی انقلابی لہر اٹھ کھڑی ہو تو کہا نہیں جاسکتا، آج کی صورتحال یہی ہے۔ اس صورتحال میں نوازشریف نے اعلان کردیا ہے کہ اگلے عام انتخابات میں شہبازشریف وزیراعظم کے امیدوار ہوں گے۔ اس اعلان سے ان لوگوں کے اندازے غلط ثابت ہوگئے جو یہ کہہ رہے تھے کہ خاندان میں اختلافات اتنے زیادہ ہوگئے ہیں کہ اکٹھے کھانا کھانے کی سنہری روایت بھی دم توڑ گئی ہے۔ جن لوگوں کا خیال تھا کہ نوازشریف چھوٹے بھائی پر اعتماد نہیں کرتے تو اور کس پر کریں گے معلوم نہیں اب وہ اپنی اس سوچ کی کیا منطق سامنے لائیں۔ جو یہ کہتے تھے مریم نواز کو وزارت عظمیٰ کیلئے تیار کیا جا رہا ہے نئے حالات میں ان کے خیال کی پرواز کہاں تک جائے گی۔ شہبازشریف تو وزیراعظم اسی صورت بنیں گے اگر مسلم لیگ (ن) جیتے گی کیونکہ اس کے خلاف جس طرح کے اتحاد وجود میں آ رہے ہیں اور اتحادیوں کو جس طرح الگ کیا جا رہا ہے اس کا مقصد بظاہر تو یہی ہے کہ مسلم لیگ (ن) کو کامیابی سے دور رکھا جائے، اس لئے ان حالات میں وزیراعظم کی چہرہ نمائی کرکے مسلم لیگ (ن) نے اچھا فیصلہ کیا ہے۔ عمران خان تو عرصے سے اپنے آپ کو وزیراعظم سمجھ رہے ہیں، انہوں نے دھرنے کے دنوں میں اپنے صاحبزادوں سے کہا تھا کہ وہ جب اگلی مرتبہ پاکستان آئیں گے تو ان کا پاپا وزیراعظم ہوگا۔ اہلیت کے فیصلے کے بعد تو وہ 200 بندوں کو تلاش کر رہے ہیں جو نئے پاکستان کا نقشہ بنائیں گے، ان دونوں کے مقابلے میں پیپلز پارٹی کا دعویٰ ہے کہ وزارت عظمیٰ اس کے حصے میں آئے گی اور ہاں میں ان لوگوں کا تذکرہ تو بھول ہی گیا جن کا کہنا ہے یہ حکومت نئے سال کا سورج نہیں دیکھے گی تو گویااس حکومت کی زندگی کے صرف دس دن باقی ہیں اللہ خیر کرے۔

خاندانی اختلافات

مزید : تجزیہ