سینیٹ میں آرمی چیف کی آمد، جمہوریت کے لئے خوش آئند

سینیٹ میں آرمی چیف کی آمد، جمہوریت کے لئے خوش آئند
 سینیٹ میں آرمی چیف کی آمد، جمہوریت کے لئے خوش آئند

  

سینیٹ میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی آمد سے جمہوریت کی بالادستی اور جمہوریت کی حکمرانی کو تقویت حاصل ہوئی ہے۔ یقیناًاس اقدام سے جمہوریت پہلے سے زیادہ مضبوط ہو گی اور اس کا کریڈٹ حکمران جماعت کو بھی جاتا ہے، کیونکہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے ہمیشہ جمہوریت کے لئے جدوجہد کی ہے، انہیں جلا وطن کیا گیا تو ان کے کئی ساتھیوں نے آمروں کے ساتھ ڈیل کر لی اور ان سے اقتدار میں فائدے حاصل کئے، جبکہ نواز شریف نے وقتی فائدے اٹھانے کی بجائے جلاوطنی کو ترجیح دی۔ بعد ازاں انہوں نے پیپلزپارٹی کے ساتھ مل کر میثاق جمہوریت کیا جس کا واحد مقصد یہی تھا کہ سیاسی جماعتیں کبھی بھی آمروں کے اقدام کو سہارا نہیں دیں گی اور نہ ہی ایک دوسرے کے خلاف اس حد تک جائیں گی کہ جمہوری نظام کو خطرہ لاحق ہو جائے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ پیپلزپارٹی اپنے اس وعدے اور معاہدے پر قائم رہتی نظر نہیں آ رہی۔ گزشتہ کئی ماہ سے وہ مسلسل حکومت کو کمزور کرنے کی سازشوں میں دیگر غیر جمہوری قوتوں کو سہارا دے رہی ہے۔ اسے علم ہونا چاہیے کہ اس طرح کے رویے سے خود اسے بھی کچھ حاصل نہیں ہو گا، الٹا جمہوریت خطرے میں پڑ جائے گی اور تمام سٹیک ہولڈرز کو اس میں سراسر نقصان ہو گا۔

دنیا کے جن ممالک میں جمہوریت کی جڑیں مضبوط ہو چکی ہیں، وہاں اداروں کے درمیان ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ کوئی ادارہ ایک دوسرے کی حدود میں داخل ہونے کی کوشش نہیں کرتا۔ آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے نظام آگے بڑھتا ہے، جس کی وجہ سے کسی قسم کی ناخوشگوار صورت حال پیدا نہیں ہوتی۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ پہلے فوجی سربراہ ہیں جو سینیٹ میں ملکی صورت حال پر بریفنگ کے لئے تشریف لائے۔ ان کے اس عمل کو تمام جمہوری قوتوں نے سراہا۔ تمام سینیٹرز نے اس عمل کو خوش آئند قرار دیا اور امید کی کہ آئندہ بھی اس عمل کو اسی سپرٹ کے ساتھ آگے بڑھایا جائے گا۔ بلاشبہ یہ جمہوریت کے لئے بہت بڑا دن تھا، کیونکہ جمہوریت کی بالادستی تسلیم کرنے سے ہی ملک میں استحکام اور امن کی فضا قائم ہو گی۔ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہو گاکہ جمہوریت جس قدر مضبوط ہو گی، ملک کی معیشت اور اس کا دفاع بھی اتنا ہی مضبوط ہو گا۔ جمہوریت کسی بھی ریاست کا بنیادی ستون ہوتا ہے۔ اگر یہ ستون ہی کمزور ہو جائے یا اسے نکال دیا جائے تو پھر ریاست کی عمارت کھڑی نہیں رہ سکتی۔ پاکستان آج جن مسائل سے گزر رہا ہے۔ ان میں باہمی اتحاد و اتفاق بے حد ضروری ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں جمہوریت کو پنپنے ہی نہیں دیا گیا، حالانکہ پاکستان کی جدوجہد بنیادی طور پر ایک جمہوریت کی جدوجہد تھی۔پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی جمہوری جدوجہد کے باعث وجود میں آیا۔ پاکستان کی جڑوں کے اندر جمہوریت تھی اور اگر جڑوں سے ہی جمہوریت کو نکال دیا جائے گا تو وہ کیسے مضبوط رہ سکتی ہے؟

سینیٹ میں بریفنگ کے دوران آرمی چیف نے کہا کہ صدارتی نظام اس ملک کی ضرورت نہیں اور یہ حقیقت بھی ہے کہ اس طرح کا نظام یہاں کارگر ثابت نہیں ہو سکتا۔ ملک کے مسائل کا حل صدارتی نظام نہیں، بلکہ پارلیمانی نظام میں ہے۔ماضی میں ہم صدارتی نظام کو آزما چکے ہیں، جس سے ملک کو ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ضیا الحق اور پرویز مشرف کا صدارتی نظام ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا چکا ہے۔ان نظاموں نے ہمیں کمزور کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے، جس کا خمیازہ ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔ آرمی چیف نے جمہوریت کے تسلسل پر بھی مہر تصدیق ثبت کی۔ دراصل کوئی بھی عمل اس وقت تک کامیاب اور قابل قبول نہیں ہو سکتا جب تک اس میں تسلسل موجود نہ ہو۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ کبھی جمہوریت کو آزما لیا جائے، کبھی آمریت کو اورکبھی صدارتی نظام کو ۔ اس طرح کے تجربات ہم نے بہت کر کے دیکھ لئے۔ اب ملک ان تجربات کا مزید متحمل نہیں ہو سکتا۔ ہمسایہ ممالک بھارت اور افغانستان کی یہ کوشش ہے کہ کسی طرح ملک میں انتشار اور اضطراب کی کیفیت کو زندہ رکھا جائے۔ بدقسمتی سے ہمارے اپنے ہی ان کے لئے سہولت کاری کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی جیسی جماعتیں حکومت کو گرانے کے درپے ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ جلد از جلد سسٹم کو لپیٹ دیا جائے ،تاکہ شارٹ کٹ سے ان کی اقتدار میں آنے کی راہ پیدا ہو جائے۔

اس حوالے سے آرمی چیف کے خیالات بڑے اہم تھے ۔ وہ ہر معاملے میں حکومت کے ساتھ کھڑے نظر آئے اور انہوں نے تسلیم کیا کہ جمہوری عمل ہی ملک کو آگے جانے میں اہم ترین کردار ادا کر سکتا ہے۔خطے کے حالات کے پیش نظر اب ایسا اقدام ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ ہر ادارہ اپنی حدود کے اندر رہ کر کام کرے تو کسی کے لئے بھی مسائل پیدا نہیں ہوں گے۔ فوج کا کام ملک کی حفاظت کرنا ہے اور وہ اگر حکومت کرنے کی کوشش کرے گی تو اپنا بنیادی کردار کیسے نبھا سکے گی؟ آرمی چیف نے کہا کہ ماضی میں اگر فوجی حکومتیں آئیں تو یہ غلط ہوا اور سب نے دیکھا کہ وہ ناکامی سے دوچار ہوئیں۔ ہر کسی کو اپنا کام کرنا چاہیے ، جو جس کی ذمہ داری ہے، وہ اسے احسن انداز میں ادا کرے تو ملک کو اندرونی و بیرونی کسی قسم کے خطرات لاحق نہیں ہو سکتے۔ ماضی کی غلطیوں کی درستی اور پارلیمانی اداروں کی مضبوطی کے لئے ایسے ڈائیلاگ اور بریفنگ بہت کارگر ثابت ہوتے ہیں۔اس سے جہاں اداروں کے درمیان فاصلے کم ہوجاتے ہیں، وہاں بہت سے شکوک و شبہات بھی دور ہوتے ہیں۔ مستقبل میں بھی اس روایت کو زندہ رکھا جانا چاہیے اور اس طرح کی بریفنگز کا اہتمام ہوتے رہنا چاہیے۔ فوجی سربراہ کی سینیٹ آمد سے پارلیمان کی بالادستی کا بول بالا ہوا ہے۔ تمام قوتوں کو آئینی حدود میں رہتے ہوئے اپنا اپنا کام کرنا ہو گا۔ نہ فوج حکومت کر سکتی ہے اور نہ ہی حکومت فوج کا کام کر سکتی ہے۔ بلاشبہ آرمی چیف کی سینیٹ آمد جمہوریت کی بالادستی کے لئے بہت بڑا دن تھا۔

مزید : رائے /کالم