شیخ صاحب! آپ کا کہا پورا ہو گیا، مبارک دیں!

شیخ صاحب! آپ کا کہا پورا ہو گیا، مبارک دیں!
 شیخ صاحب! آپ کا کہا پورا ہو گیا، مبارک دیں!

  

لو! جناب! اب تو آپ کو صبر آ ہی جانا چاہیئے۔ دیکھ لیں آپ کی بات خود بڑے بھائی، سابق وزیراعظم محمد نوازشریف نے واضح کر دی اور یہ اعلان کیا کہ مسلم لیگ(ن) کے آئندہ وزیراعظم محمد شہبازشریف ہوں گے، محترم فرزند راولپنڈی آپ یہی چاہتے تھے اور بار بار کہہ رہے تھے کہ دونوں بھائیوں میں اختلاف ہے، کچھ حضرات تو یہ بھی فرما رہے تھے کہ مسلم لیگ(ن) دو حصوں میں بٹ گئی، لیکن اس کا تو فیصلہ ہی ہو گیا۔ ابھی الیکشن دور ہے اور مسلم لیگ(ن) کے مرکزی صدر نے اگلے وزیراعظم کی نامزدگی بھی کر دی ہے، انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب کی تعریف بھی کی اور ان کی کارکردگی کو سراہا، دوسرے معنوں میں یہ فیصلہ میرٹ کی بنا پر کیا گیا اس کے ساتھ ہی خود وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے بھی وضاحت کر دی کہ جب بڑے بھائی کو نااہل قرار دیا گیا اور نئے وزیراعظم کا مسئلہ آیا تو ان (شہباز) کو ہی کہا گیا تھا لیکن انہوں نے خود اس پیش کش کو قبول نہیں کیا تھا کہ پنجاب کے ترقیاتی کاموں کی تکمیل ضروری تھی۔ یہ سب دونوں بھائیوں نے ساتھ بیٹھ کر بتایا ہے اور یوں خاندان شریفاں میں اختلافات کی خبروں کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے۔ یہ بہت بروقت اقدام ہے، اس سے افواہوں حتیٰ کہ سازشی تھیوریوں کو بھی جواب مل گیا ہے اور مسلم لیگ (ن) کی حد تک تو پوزیشن واضح ہو گئی ہے۔

فرزند راولپنڈی شیخ رشید کئی پیش گوئیاں کرتے چلے آ رہے ہیں، ان کی طرف سے حکومت جانے کی کئی تاریخیں دی گئیں حکومت اب تک موجود ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دونوں بھائیوں میں اختلاف ہے اور بڑے بھائی مستقبل کے لئے اپنی صاحبزادی مریم نواز کو میدان میں اتار چکے ہیں لیکن یہ سب دھرے کا دھرا رہ گیا اور بہت واضح اعلان کر دیا گیا ہے۔ یوں افواہوں کے آگے بھی بند باندھ دیا گیا ہے۔ ہم کسی بھی تحفظ کے بغیر یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ سابق وزیراعظم کا یہ فیصلہ صائب ہے اور انہوں نے بہت بروقت یہ قدم اٹھایا ہے۔ اس سے ان کو جماعتی طورپر بہت فائدہ ہوگا اور آئندہ کی پالیسی بھی واضح ہو گئی اب ادھر ادھر تاک جھانک کرنے والوں کے لئے بھی کوئی موقع نہیں رہا کہ وہ وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف کا نام طے کرنے والی باتیں کریں۔

آج کی اس تحریر سے یہ نہ سمجھا جائے کہ یہ خوشامد ہے تاہم حقیقت کچھ یوں ہے کہ وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے بقول بڑے بھائی بہت کامیابیاں حاصل کی ہیں اور ان کی نگاہ دوربین ہے، وہ محنتی بھی بہت ہیں، اس سلسلے میں ہمارا خیال یہ ہے کہ آئندہ انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کو قومی سطح پر اکثریت ملی اور اس کی حکومت بنی تو محمد شہباز شریف پہلے ہی سے نامزد ہیں۔ صرف قومی اسمبلی کا انتخاب ہی تو جیتنا ہے۔ ہمارے خیال میں محمد شہبازشریف ہی موزوں امیدوار ہیں ان کے منتخب ہو جانے سے میگا پراجیکٹس کی تکمیل اور نئے منصوبوں کی بہت گنجائش ہے ، ان پر کام کی رفتار تیز ہوگی، وزیراعظم کی حیثیت سے ان کو بھی موقع ملے گا کہ قومی سطح کے منصوبے بنائیں اور اس سطح کے کام مکمل بھی کروائیں۔ ہم تو ان کی توجہ اس طرف مبذول کرائیں گے کہ بلاشبہ میگا پراجیکٹس بنے اور اب اورنج لائن میٹرو ٹرین کا کام بھی مکمل ہوگا تاہم جو کارکردگی مختلف اداروں کی ہے وہ سوالیہ نشان کی حیثیت رکھتی ہے۔ حتیٰ کہ جس دعویٰ سے صفائی کی ذمہ داری برادر ملک کی کمپنی کو دی گئی تھی وہ مقصد پورا نہیں ہو پایا اور اب اس کمپنی کی کارکردگی کے علاوہ اس میں پائے جانے والی بدعنوانی بھی سامنے آ گئی ہے ایسا ہی حال بلدیاتی اداروں کا ہے لہٰذا ان کی کارکردگی کو بہتر بنانے کا کام شروع ہونا چاہیے۔ شہری بہبود کے دوسرے محکموں کے کاموں کی نگرانی بھی ضروری ہے، تاکہ شہری مسائل بھی حل ہوں!

.

بات ختم کرنے سے پہلے یہ بھی عرض کر دیں کہ پاکستان عوامی تحریک کے چیئرمین ڈاکٹر طاہر القادری نے حکومت پر زور دیاکہ وہ ان کے مطالبات پورے کر دے، اس کے لئے انہوں نے 31دسمبر تک کا وقت بھی دیا اور کہا ہے کہ اس کے بعد لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا، اب دیکھنا تو یہ ہے کہ اس سب کے جواب میں ردعمل کیا ہوتا ہے کیا جانے والے کا سن کر کام بہتر ہوں گے یا پہلے سے بھی ابتری ہوگی۔ محترم ڈاکٹر طاہر القادری کا دعویٰ ہے کہ عمران تو ان کے ساتھ ہی ہیں پیپلزپارٹی بھی مل کر چلے گی اور وہ جب چاہیں عمران اور زرداری کو دائیں بائیں بٹھا کر دکھا دیں گے۔ اس سلسلے میں ہمارا اپنا تجزیہ کچھ مختلف ہے کہ بے شک آصف علی زرداری چل کر ڈاکٹر طاہر القادری کے مرکز تک گئے تعاون کی بھی بات کی لیکن وہ اتنے بھی معصوم اور بھولے نہیں ہیں کہ اپنی جماعت کو چوتھے درجہ کی بنا لیں، ان کا تو دعویٰ ہے آئندہ انتخابات کے نتیجے میں اقتدار پیپلزپارٹی کا ہوگا، اس سلسلے میں اس ملاقات کے بعد قمر زمان کائرہ کی گفتگو سے مستفید ہو لیں جو کہتے ہیں کہ ایسا کوئی فیصلہ نہیں ہوا، دوسرے معنوں میں پیپلزپارتی نے سانحہ ماڈل ٹاؤن پر حمائت دی ہے۔ کسی تحریک کا حصہ نہیں بنیں گے۔ یوں آصف علی زرداری سے بھی توقعات وابستہ کرنا ٹھیک نہیں۔ ہمارا ذاتی خیال تو یہ ہے کہ مطالبات اور ان کے لئے جدوجہد ہر ایک کا حق ہے لیکن ان کو منوانے کے لئے احتجاج کی بھی ایک حد ہونا چاہیے یہ نہیں کہ سیاسی عدم استحکام ہی پیدا کردیا جائے۔ اسی طرح اقتدار پر متمکن حضرات کو بھی چاہیے کہ وہ بات کو پھیلنے نہ دیں اور اس سے پہلے ہی معاملات کو حل کیا کریں، اب حلقہ بندیوں والی ترمیم منظور کراکے یہ ثابت کیا گیا کہ قومی مفاد ہی ترجیح ہے۔ لہٰذا اب محاذ آرائی کی شدت میں کمی آنا چاہیے کہ ملک کے لئے بہتر عمل یہی ہے۔

مزید : رائے /کالم