مالیخولیا اور شیزوفرینیا

مالیخولیا اور شیزوفرینیا
 مالیخولیا اور شیزوفرینیا

  

سائیکالوجی جسے عربی اور اْردو میں نفسیات کی اصطلاح سے تعبیر کیا جاتا ہے دراصل انسانی رویہ اور تخیل کے مطالعہ کا نام ہے نفسیات دراصل نفس سے مشتق اسمِ صفت ہے اور نفس کے لئے انگریزی میں ایک الگ اصطلاح’’Spirit‘‘ موجود ہے فلہذا نفسیات کا انگریزی ترجمہ ’’Spirituality‘‘ہی بنے گا مگر چونکہ سائنس ابتداہی سے روح کے وجود کی منکر رہی ہے اس لئے سائیکالوجی کو روحانیت سے تعبیر کرنا اب عام فہم نہیں رہا علم النفس یا نفسیات میں سب سے بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر انسانی رویہ اور تخیل کا ماخذ کیا ہے؟ اس نکتہ کی تحقیق کے لئے اگر ہم قدیم دفاترِ علم کا مطالعہ کریں تو انسانی رویہ اور تخیل کا مقام ہمیں " دل" ہی ملتا ہے اس کے بعد سائنسی ترقی انسان کو دل سے دماغ پر لے آئی چنانچہ اب یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ انسانی رویہ اور تخیل کا صدر مقام "ذہن" ہے عجیب تفنن آمیز مرحلہ ہے کہ انسان اپنی جوہری صفت یعنی روح کو اپنے شعور کے مطابق اب تک متعدد نام دے چکا ہے مگر اصل ہے کہ اپنی ہیئت میں کوئی تغیر نہ بپا کر سکا دل کہو یا ذہن، شعور کہو یا "Psyche" اپنے اصل کے لحاظ سے جوہر (Essence) ایک ہی ہے۔

ایک زمانے تک سائیکالوجی کا گہرا مطالعہ کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ علم تو ایک ہی ہے بس اصطلاحات بدل دی گئی ہیں گویا آج آپ روحانی سکالر کو سائیکالوجسٹ کہہ لیں تو عجب نہیں مگر اپنے اصل کے اعتبار سے کام دونوں کا ایک ہی ہے یہ مختصر سا کالم سائیکالوجی پر میری اعصاب شکن تحقیق کا حق تو بہر حال نہیں ادا کر سکتا مگر یہاں سائیکالوجی کے متعلق ایک سطحی شناسائی اور مروجہ دو معروف بیماریوں کے بارے بنیادی معلومات قارئین تک پہنچ جائیں تو یہی کافی ہے سائیکالوجی کہتی ہے اگر آپ کو کسی سے محبت ہو جائے تو اس محبت کا صدر مقام دل ہے اور اگر آپ ڈپریس ہو جائیں تو پھر اس ڈپریشن کا مصدر آپ کا دماغ ہے اس لئے محبت کرنے والا اپنے محبوب کو اظہارِ محبت کے لئے دماغ نہیں دیتا اور کوئی ڈپریشن کا مارا سائیکالوجسٹ سے یہ نہیں کہتا کہ میرے دل میں تناؤ ہے مگر یقین جانئے یہ سب اٹکل پچو ہیں دل اور دماغ یہ دونوں محض فعلیاتی عضو (Physiological Organ) ہیں۔ اب مجھے اس تفصیل میں نہیں پڑنا کہ میڈیکل نقطہ نظر سے دل اور دماغ کا کام کیا ہے کیونکہ اس تفصیل سے ہر خاص و عام آگاہ ہے۔

سائیکالوجی جس قدر بھی جدید اصطلاحات کا سہارا لے لے کوئی فرق نہیں پڑتا یہ دراصل روحانیت ہی رہے گی کیونکہ طبع اور مابعد الطبع (Physics and Metaphysics) کا فرق کوئی انسان نہیں مٹا سکتا اور یہی فرق روحانیت اور مادیت کی تفریق( Dichotomy) کو بحال رکھے ہوئے ہے۔ مجھے بڑی حیرت ہوتی ہے جب ایک پریشان حال کو ایک سائیکالوجسٹ نشہ آور ادویات دے کر اپنی جان چھڑا لیتا ہے، جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ روح کے مسائل ایلوپیتھی سے کبھی حل نہیں ہوئے نہ ہی ہو سکتے ہیں دھوکہ ملنے کے بعد جو تکلیف ہوتی ہے اس کا علاج دنیا کا کوئی بھی سائیکالوجسٹ یا فزیشن نہیں کر سکتا ،کیونکہ یہ روح کا مسئلہ ہے اور اس کا حل روحانی سکالر ہی کر سکتا ہے

مالیخولیا جسے انگریزی میں (Melancholia) اور اْردو میں سوداویہ یا قدیم عربی اصطلاح میں مراق کہا جاتا رہا ہے۔ دراصل ایک مستقل اْداسی اور گہری پڑمردگی کا نام ہے یہ بیماری مختلف علامات کے ذریعے ظاہر ہوتی ہے اس بیماری کے حامل مریض کے پٹھے،گردن اور چہرے کے مسلز مسلسل تناؤ کا شکار رہتے ہیں مریض کے تخیلات میں زبردست بے ترتیبی (Disorder) پیدا ہو جاتی ہے تشویش اور مایوسی اس بیماری کے حامل مریض کی بنیادی علامات ہیں اس بیماری کے دو بنیادی اسباب ہیں ایک جذبات کی عدم سیرابی یعنی محبت میں ناکامی جسے (Heartbroken Syndrome) کہا جاتا ہے، احساسِ کمتری جسے (Inferiority Complex) کہا جاتا ہے اس کے علاوہ بچپن میں والدین کی عدم توجہی اور شق الایمان یعنی (Creedlessness)، دوسرا بنیادی سبب وفورِ ذہانت (Excessive Intelligence) ہے وفورِ ذہانت سے مراد معلومات کا وہ وسیع ذخیرہ ہے جس کی بے ترتیبی تعینِ نہج (Determination of Gestalt) کی بجائے انسان کو کنفیوڑن کا شکار کر دیتی ہے یہ دراصل ایک طرح سے فکری بے راہ روی ہے جو بالآخر انسان کو سوداویہ کا مریض بنا دیتی ہے جیسے جرمنی کے معروف فلاسفر فریڈرک نطشے آخری عمر میں اس مرض کا شکار ہو گئے تھے اس کے علاوہ مولانا عبید اللہ سندھی اور مرزا غالب کے متعلق بھی یہی کہا جاتا رہا ہے کہ وہ آخری عمر میں سوداویہ کا شکار ہو گئے تھے

شیزوفرینیا (Schizophrenia) جسے عربی اور اْردو میں انفصام کہا جاتا ہے دراصل ایک ایسی روحانی بیماری ہے جس میں مریض موجود اور غیر موجود میں فرق نہیں کر پاتا یہی وجہ ہے کہ عربی میں اسے فصم سے مشتق اسمِ صفت انفصام سے تعبیر کیا جاتا ہے جس کے معنی منقسم ہو جانے کے ہیں کہ اس بیماری میں مریض حقیقت اور توہم میں منقسم ہو جاتا ہے اس بیماری کا حامل مریض ایسے جاندار کی حرکت و صدا سننے کا دعوٰی کرتا ہے جو فی الحقیقت موجود نہیں ہوتے مستقل تنہائی اور توہم اس بیماری کی بنیادی علامات ہیں اس بیماری کا بنیادی سبب جہالت اور ضروری معلومات کی عدم دستیابی ہے ہوتا یوں ہے کہ انسان تخیل کے ذریعے کسی مطلوبہ نتیجہ تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے مگر اس رستے میں مطلوبہ بنیادی معلومات کی عدم دستیابی اْسے تیقن (Conviction) کی بجائے توہم (Superstition) تک لے جاتی ہے جس کے سبب وہ خطائے حس ( Hallucination) کا شکار ہو جاتا ہے چنانچہ خطائے حس کی کیفیت میں مبتلا مریض کو غیرموجود نظر آنے لگتے ہیں یا پھر وہ غیر موجود آوازیں سن سکتا ہے ،جبکہ فی الحقیقت ایسا ہوتا نہیں ہے مگر خطائے حس کے سبب اسے ایسا معلوم پڑتا ہے پرانے زمانے میں نوجوان لڑکے اور لڑکیوں میں جنات کا گھس جانا یا پھر جادو ٹونہ کا شکار ہونے والے افراد کا بے ہنگم و بے ترتیب حرکات کا مرتکب ہونا یا چیخنا چلانا بھی دراصل شیزوفرینیا کی علامات تھیں سوداویہ اور انفصام میں بنیادی فرق یاد رہے کہ سوداویہ غیر ضروری معلومات کی بے تربیتی کے سبب فکر کے بے ہنگم ہو جانے یا جذبات کی عدم سیرابی سے نمودار ہوتی ہے، جبکہ شیزوفرینیا ضروری معلومات کی عدم دستیابی اور توہمات کے شکار ہو جانے کے سبب ہوتی ہے.

مزید : رائے /کالم