سموگ

سموگ
 سموگ

  

سموگ کے لفظ سے چند عشرے پہلے ہم آشنا نہ تھے۔ ترقی کے جنون نے ذرائع آمد و رفت کو دھواں دھار رفتار عطا کی۔ تمام سہولتوں کے ساتھ ساتھ زمین کو مشین نے آلودہ کر دیا۔ انسان کا شور اور دھوئیں میں دم گھٹنے لگا۔سموگ جدید بیماری ہے۔ سموگ کا لفظ مغربی زبانوں سے در آمد ہوا۔ سموک(دھواں) اور فوگ (دھند، کہر) کے اختلاط سے سموگ کا لفظ اختراع کیا گیا۔ زمینی آلودگی کا جب فضا کی شرائط میں ادغام ہوتا ہے تو موسمیاتی سموگ جنم لیتا ہے۔ منظر دھند لا جاتے ہیں،جودکھائی دیتا ہے وہ در اصل ہوتا نہیں اور جو ہوتا ہے وہ دکھائی نہیں دیتا ۔ فطرت کے نظام میں آلودگی کی دخل اندازی جس طرح موسمیاتی سموگ پیدا کرتی ہے اسی طرح سیاست میں کاروباری منفعت پسندی ، معاشرت میں ماضی کے جمودکا عمل دخل، عدالت کی مقبولیت کی خواہش، ثقافت میں خارجی اقدار کی جارحیت، اور مذہب میں اپنے نظریے کی حقانیت پر نفرت آلودتفاخر سموگ پیدا کرتا ہے جو انتشار اور ابہام کا باعث بنتا ہے۔

میدان سیاست کے ہر مسافر کا راستہ دھند لا گیا ہے۔ منزل کے نشان گم ہو گئے۔ کچھ واضح نہیں۔ دہشت گردی، سموگ کے اندھیرے سے اچانک نکلتی ہے اور اخباری بیانات میں غائب ہو جاتی ہے۔سیاسی سموگ نے ماسک زدہ قوم کا یقین اور اعتماد متزلزل کر دیا۔ سچ اور جھوٹ اس قدر خلط ملط ہو گئے جیسے دھوان، کہر میں ملبوس ہو کر سموگ بن جاتا ہے۔ سڑکوں پر دھرنوں کا دھواں اس قدر شدید ہے کہ معلوم نہیں پڑتا کہ یہ دھواں سا کہاں سے اُٹھتا ہے۔ بھئی جہاں سے بھی اُٹھتا ہے ہمیں کیا۔ تجسّس سے ڈر لگتا ہے۔ سموگ کو کریدنے کی بجائے ماسک چڑھا لینا زیادہ محفوظ لگتا ہے۔

ہر دھرنا، دھرتا ہے، تحّرک پیدا نہیں کرتا۔ ہر دھرنا رواں زندگی کو روکتا ہے، آگے نہیں بڑھاتا۔ دھرنا، قومی دھارے میں تعطل پیدا کرتا ہے۔ اُمیدویقین کی منزلوں تک نہیں پہنچاتا۔تعطل کی انتہا یہ ہے کہ پالیمنٹ کا ادارہ، قانون بنانے کی بجائے عدالتوں کے در پر قانون کی بھیک مانگ رہا ہے۔ قانون تشریح کے تابع ہے عدالتی فیصلوں کے بارے میں کوئی پیشگوئی نہیں کی جاسکتی۔ اس لئے قانونی سموگ میں نہ جانے کب کیا فیصلہ ہو جائے۔ جج جانے یا ربّ جانے۔ پارلیمنٹ، عوام کی رائے کی امین نہیں رہی۔ پارلیمنٹ کسی اور طبقے میں محصور ہے اور عوام کسی اور سیارے کی مخلوق ہیں۔ ہر سیاسی پارٹی کسی ایک شخص کے پاس گروی ہے۔ سیاسی کارکن درباری مصاحب ہیں رفیقِ سفر نہیں ۔ سموگ زدہ پاکستان میں سیاست کا سنگھاسن ہمیشہ ڈولتا ہی رہتا ہے۔ اقتدار کی کرسی اس بیل کے سینگوں پر باندھی ہوتی ہے جو بیل ہمیشہ زلزلے لاتا ہے۔واحد منظم /قومی ادارہ۔۔۔ فوج بیرونی دشمن اور اندرونی فسادی کے درمیان دوراہے پرحیران کھڑی ہے کہ سموگ میں کعبہ و کلیسا میں تفریق کرنا کس قدر محال ہو رہا ہے۔ کیا ریاض اور یروشلم کے شہروں کے دروازے ایک چابی سے کھلا کریں گے۔ کیا بھارت اور پاکستان دونوں چین کی ایک ہی تجارتی نیام میں سما جائیں گے۔ دُنیا کی ہر فوج ہمیشہ ایک سمت مین سفر کرتی ہے۔ہر فوج چاہتی ہے کہ دوست بھی قابل شناحت ہو اور دشمن بھی واضح ہو۔ کوئی فوج بے یقینی کے سموگ کو پسند نہیں کرتی۔

سائنس دان کہتے ہیں کہ بارش سموگ سے نجات دلاتی ہے۔ بارش ہے کیا؟ بارش تو اترالاقطار ہے یعنی قطروں کا مسلسل اور متحد ہو کر ماحول کو تبدیل کر دینا بارش کہلاتا ہے۔ کیا یہ تواتر، تسلسل اور یک جہتی ہمارے اداروں کے درمیان موجود ہے۔ فرقہ واریت، لسانی اور علاقائی تفریق، ذات برادریوں کی تقسیم، نفرت اور انتقام کی سیاست بے یقینی ، بے بسی اور تنہائی کا سموگ پیدا کرتی ہے، جس میں نہ راستہ دکھائی دیتا ہے اور نہ منزل کا تعین کیا جا سکتا ہے، لیکن اجتماعی جدوجہد، اشتراک عمل، مکالمہ کا کلچر، استدلال کا احترام ایسی فکری بارش ہے ،جو سماجی سموگ کا خاتمہ کرتا ہے اور احساسِ معاشرت کو مستحکم کرتا ہے۔

یہی حالِ ثقافت کا ہے جب پاکستان میں دہشت گردی کا راج قائم ہو گیا تھا تو کھیلوں کے میدان خالی ہو گئے تھے۔ اولیائے کرام کے درباروں کی رونق ختم ہو گئی تھی۔ تخلیق کے سر چشمے خشک ہو گئے۔ عرس اور عوامی میلے اُجڑ گئے۔ ایک خاص نوع کی مینوفیکچرڈدہشت گردی نے ثقافتی سموگ پیدا کر کے عوام کو تقسیم کر دیا، لیکن دہشت گردی کے واقعات میں کافی کمی ہو جانے سے سپورٹس میں نئی زندگی کی لہر آ گئی۔ الحمرا کی سرخ اینٹوں کی سپاٹ بے چہرہ اور بے جذبہ قلعہ نما عمارت میں بھی ثقافت نے انگڑائی لی۔ فیض میلہ نے گمشدہ بائیں بازو کوفیض کی بیساکھیوں کے سہارے چلنے پھرنے کے قابل کر دیا۔ فیض پر منعقد سیمینار میں اعتزازاحسن نے کہا کہ مذہبی بنیادوں پر اقلیت کا تصور درست نہیں۔ پاکستان میں ایک پاکستانی شہری کیسے اقلیت ہو سکتا ہے۔ پہلے بھی اعتزاز احسن نے ہی کہاتھا ’’ریاست ہو ماں کے جیسی‘‘۔ ماں کی مامتا سب بچوں کے لئے ایک جیسی ہوتی ہے۔ کوئی ریاست ’’ماں‘‘ کہلانے کی حقدار نہیں ہو سکتی جب تک اُس ریاست کے تمام وسائل اور ترقی کے تمام مواقع ہر مستحق شہری کے لئے برابر کی سطح پر مہیا نہ ہوں۔

اسی تقریب میں افراسیاب نے کہاکہ اسلامائزیشن کو ساری دنیا پر مسلط کرنے کے جذبے سے پاکستان کی ترقی کے راستے مسدود کر دینا درست نہیں۔یاد رکھئے ! رسولِ مکرمؐ کی مکّی زندگی کا رویہ، مدنی زندگی کے طریق معاشرت سے مختلف تھا۔آج پاکستان حیات طیبہ کے مکّی دور سے مشابہ حالات سے گزر رہا ہے۔ مراحل کا ادراک شیوۂ پیغمبری ہے۔ غلب�ۂ اسلام کی متشدد تحریکوں نے غیر مسلم دُنیا کو امت کے خلاف متحد کر دیاہے۔ تشدّد نے اسلام کی استدلالی سچائی کو نظروں سے اُوجھل کر دیا۔

اس سیمینار کے باہر فیض میلے نے روشنیوں کا شہر آباد کر رکھا تھا۔ ریل پیل تو تھی، لیکن میلہ کی عوامی بے ساختگی دکھائی نہ دی۔ خیموں کی ایک بناوٹی مارکیٹ میں 70روپے کا چائے کاکپ اور50روپے کا سادہ پان ایک سرکاری ادارہ میں بِکتا دیکھ کر احساس ہواکہ ساری زندگی، جس استحصالی سرمائے کے خلاف فیض لکھتا رہا، آج بھی فیض اُسی سرمائے کا یر غمال ہے۔ بس یہی معاشی سموگ افراط تفریط کاہولناک تاثر دیتا ہے۔

پھر یہی فیض فکری سموگ میں اُمید بہار کا دیا جلاتا ہے۔ مربوط سوچ ہی اجتماعی عمل کے لئے دروازہ کھولتی ہے۔ ہر انقلاب کے پسِ منظر میں انقلابی فکرو دانش ضرور کارفرما ہوتی ہے۔ آج بھی پاکستان میں ضرورت ہے کہ ذات کے برگد تلے بیٹھے تنہا دانشور کو حالت نروان سے نکال کر گلی کوچوں میں مضطرب حیات میں شامل کیاجائے۔تنہائی کا شکار دانشوروں کو اکٹھا کرناا ور اکٹھا رکھنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ یاسمین ہال میں فرخ سہیل گوئندی کی دعوت پر نابغ�ۂ روزگار لوگوں کو ایک ہی چھت کے نیچے اکٹھے دیکھ کر حیرت ہوئی۔ یہ محفل ڈاکٹر نجم سحر بٹ کے اعزاز میں سجائی گئی تھی جنہیں سوویٹ روس کے ٹوٹنے کے بعد، روسی وفاق کا پہلا اور سب سے بڑا پشکن ادبی ایوارڈ دیا گیا۔ اس موقع پر پیوٹن نے کہا کہ ہم نے ہنگری،ا یتھوانیا کو بھی ایوارڈ دیئے، لیکن ایک پاکستانی کوایوارڈ دے کر ہمیں سب سے زیادہ خوشی ہوئی۔اس ایوارڈ کے ذریعے روس نے ڈاکٹر صاحب کے رواں، با محاورہ اور طبع زاد اُردو تراجم کے حسنِ توازن کا اعتراف کیا۔

حیرت یہ ہے کہ ان اردو تراجم سے فیض یاب ہونے والے تو پاکستانی ہیں، مگر ایوارڈ روس نے دیا۔ پاکستان کے لئے اتنی بڑی عزت لانے والے قابلِ فخر فرزند۔۔۔ ڈاکٹر نجم سحر کی کاوش کوہماری حکومت نے بھی کاش تسلیم کیا ہوتا تو صلاحیت کی قدر افزائی ہوتی، مگر لابیوں کے سموگ میں صلاحیت کھو گئی۔ فیصلہ کرنے کی اجارہ داری سے توقع کرنا ایسا ہے جیسے صحرا میں نخلستان کی آرزو رکھنا ہے۔بانجھ توقع ہی مایوسی پیدا کرتی ہے۔ تخلیقی صلاحتیں مرجھا جاتی ہیں۔ دانش تنہا سفر کرتی ہے۔ تنہا مسافر کا سموگ میں راستہ بنانا اذیت ناک تجربہ ہے۔ اداراتی ستائش صلاحیت کو مہمیز لگاتی ہے نہ جانے کتنے ساغر صدیقی اور حبیب جالب زندگی بھر سچائی کی آگ میں تنہا جلتے رہے اور وسائل پرقابض گروہوں نے تخلیق کو معاشی سموگ میں دھکیل دیا۔

جب عدالت سموگ میں قندیل لے کر صادق اور امین کو ڈھونڈنے نکلی تو لوگ عدالت کو ڈھونڈتے پھرتے تھے۔

مزید : رائے /کالم