اعتماد سازی کی مزید ضرورت ہے

اعتماد سازی کی مزید ضرورت ہے
 اعتماد سازی کی مزید ضرورت ہے

  

امریکی صدر نے اپنی خارجہ پالیسی کے نکات کا اعلان کیا ہے۔ ان کی یہ خارجہ پالیسی کئی لحاظ سے ڈھکے انداز میں پاکستان کے خلاف جنگ کا منصوبہ ہے۔ دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان امریکہ کا حلیف ہے۔ امریکہ نے اس جنگ میں پاکستان کو جس انداز میں نقصان پہنچایا ہے، پاکستانی حکومتیں طویل عرصے تک اس کا خمیازہ بھگتیں گی۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی عوام نے جو نقصانات برداشت کئے ہیں، ہزاروں خاندان متاثر ہوئے ہیں، ہزاروں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، کئی ہزار افراد اپاہج ہو جانے کی صورت میں معذوری کی زندگی گزار رہے ہیں، اس کا امریکہ نے ذرہ برابر احساس نہیں کیا۔ آج بھی امریکہ پاکستان سے کچھ مزید کرو کی خواہش رکھتا ہے۔ امریکہ نے ذہن بنا لیا ہے کہ پاکستان حقانی نیٹ ورک کو پناہ دیئے ہوئے ہے، پاکستان حافظ سعید کو چھوٹ دئے ہوئے ہے اور پاکستان کی وجہ سے طالبان افغانستان میں امریکہ کی خواہش کے مطابق امن قائم نہیں ہونے دے رہے۔ امریکہ کو اس بات پر بھی تشویش ہے حافظ سعید سیاست میں بھی متحرک ہو رہے ہیں۔ بھارت کو حافظ سعید سے عناد ہے۔ امریکہ کو اس بات کا احساس کرنا چاہئے کہ خطے میں بھارت کو پولیس مین بنا کر امریکہ کو وہ کچھ حاصل نہیں ہوگا جو وہ خطے کے اہم ممالک کے ساتھ ہم آہنگی کی صورت میں حاصل کر سکتا ہے۔ بھارت پاکستان کے ساتھ جس انداز میں بر سر پیکار ہے ، اس کا واحد مقصد پاکستان کو عدم استحکام کا شکار بنانا ہے۔ بھارتی چانکیاؤں نے ذہن بنا لیا ہے کہ پاکستان کو کمزور کر کے وہ خطے کے ممالک پر اپنا حکم چلا سکے گا۔ امریکہ بھارت کو چین کے مدمقابل کھڑا کرنا چاہتا ہے۔

خارجہ پالیسی کے اعلان کے موقع پر امریکی صدر نے جس بات پر زور دیا ہے وہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیار بھی ہیں۔ امریکہ پاکستان کو متنبہ کرتا ہے کہ پاکستان اپنے ایٹمی ہتھیاروں کی نگہداشت زیادہ توجہ سے کرے تاکہ وہ کسی مرحلے پر دہشت گردی میں ملوث عناصر کے ہاتھ نہ آجائیں۔ یہ ایک ایسی خام خیالی ہے، جس کے جواب میں امریکہ اور بھارت کو یہ ہی کہا جا سکتا ہے کہ آپ لوگ بھی اپنے ایٹمی ہتھیاروں کی نگہداشت پر توجہ دیں۔ بھارت کی اس خواہش میں کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کو کسی حالت میں بھی تلف کرادیا جائے، امریکہ کی بھی ہمنوائی حاصل ہے۔ امریکہ پاکستان کو کیوں ایک غیر ذمہ دار ملک تصور کرنے لگا ہے ،جبکہ پاکستان ہمیشہ سے امریکہ کا ہی دم بھرتا رہا ہے۔ یہ ہماری خارجہ پالیسی بنانے والوں کی ناکامی ہے۔ ابتدا سے ہی امریکہ ہمارا آقا بنا ہوا ہے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو ایک سابق صدر ایواب خان اپنی کتاب کا نام ’’فرینڈز ناٹ ماسٹرز‘‘ نہیں رکھتے ۔ اکثر پاکستانی حکمران امریکہ پر زور دیتے رہے ہیں کہ پاکستان کو دوست سمجھا جائے، لیکن کہاں کوتاہی سر زد ہو تی ہے کہ امریکہ پاکستان کو دوست نہیں گردانتاہے۔

یہ تو بہت ہی بہتر ہوا اور ایک ایسے وقت میں ہوا جب پاکستان اندرونی طور پر سیاسی اورمعاشی خلفشار کا شکار ہے،سیاست دان ایک دوسرے کے خلاف لفظوں کی جنگ میں مصروف ہیں، سیاسی نوعیت کے اختلافات اس حد تک چلے گئے ہیں کہ داخلی اور خارجہ پالیسیوں کی تشکیل اور منصوبہ بندی مشکلات سے دوچار ہے، پاکستانی بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے بہتر جانا کہ پاکستان میں صوبوں کی نمائندگی والے ادارے ایوان بالا میں جاکر نمائندوں سے بند کمرے میں گفتگو کریں ، انہیں حالات سے آگاہ کریں اور ان کی سنیں۔ چار گھنٹوں پر محیط اجلاس میں یقیناًشکوے شکایات بھی ہوئے ہوں گے۔ بند کمرے کے اجلاس کی جو باتیں ذرائع ابلاغ سے نشر ہوئی ہیں ان میں ایک بات یہ بھی سامنے آئی ہے کہ فوج کے سربراہ نے اپنے سامعین کو بتایا کہ فیض آباد میں تحریک لبیک کے دھرنے میں فوج نے دھرنا دینے والوں کو کھانا فراہم نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ ثابت ہو جائے تو وہ مستعفی ہو جائیں گے۔ فیض آباد دھرنے سے بہت قبل ہی فو ج کے خلاف بظاہر ایک منصوبہ بندی کے تحت مہم چلائی جارہی ہے۔ سینہ گزٹ کے علاوہ سوشل میڈیا پر بھی اس مہم کو دیکھا جا سکتا ہے۔ اس مہم کا واضح مقصد سوائے اس کے کیا ہوسکتا ہے کہ فوج کو مطعون کیا جائے۔ کسی بھی ملک کی فوج کو اسی وقت مطعون کرنے کی سازش کی جاتی ہے جب اس ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کہیں منصوبہ بندی ہوتی ہے۔

سینٹ اور قومی اسمبلی کو وقفے وقفے کے ساتھ ایسے اجلاسوں کی ضرورت اس لئے ہے کہ سیاست دانوں کے ذہنوں کو صاف ہونا چاہئے ۔ یہ اس لئے بھی نہایت ضروری ہے کہ پاکستان چو مکھی لڑائی میں گھر ا ہوا ہے۔ بھارتی جاسوس کل بھوشن کے اعترافات ہی صورت حال کو سمجھنے کے لئے کافی ہیں کہ بھارت کے کیا عزائم ہیں اور وہ پاکستان کو ہر قیمت پر ایک ناکام ریاست بنانا چاہتا ہے۔بلوچستان میں بھارت کی سازشوں، خیبرپختونخوا میں افغانوں کے روپ میں بھارتی ایجنٹوں کی موجودگی وغیرہ کے بارے میں عوام کے نمائندوں کو حقیقی معلومات حاصل ہونا چاہئے۔ ذمہ دار ذرائع کو اس بات کی وضاحت بھی کرنا چاہئے کہ لوگوں کے لاپتہ ہوجانے کا پس منظر اور وجوہات کیا ہیں اور کیا یہ ممکن نہیں کہ لا پتہ ہوجانے والے افراد کے اہل خانہ کو شدید ذہنی دباؤ سے نجات دلانے کے اقدامات کئے جائیں اور معلومات فراہم کی جائیں۔ امریکہ اور بھارت اپنی تمام کوششوں کے باوجود افغانستان کو استحکام فراہم نہیں کر سکے ۔ اس کی بنیادی وجہ ان دونوں ممالک کی افغانستان میں ضرورت سے زیادہ مداخلت ہے۔افغانستان کی حکومت کو اپنے دوستوں اور دشموں کے درمیاں تمیز اور فرق کو نہ سمجھنے کا موقع دینا ہے۔ امریکہ افغانستان میں اپنی حکمت عملی کی ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈالتا رہتا ہے جس میں اسے بھارت کی مدد بھی شامل ہوتی ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی تشکیل اور ضرورتوں کا احساس اسی وقت پیدا ہوسکتا ہے جب کھل کر گفتگو کی جائے۔ داخلی طور پر بھی اس طرح کے اجلاس کار آمد ہوتے ہیں کہ منصوبہ بندی کرنے والوں کو منصوبے تیار کرنے میں مدد ملتی ہے۔

فوج کے سربراہ کی سینٹ میں گفتگو سے قبل پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے بھی ایک سیمینار میں سپریم کورٹ کے فیصلوں پر تنقید کی روشنی میں کھل کر کہا کہ عدلیہ کسی دباؤ کے بغیر فیصلے صادر کر رہی ہے۔ یہ بات عام طور پر کہی جارہی تھی کہ بعض فیصلے فوج کے دباؤ میں آکر کئے گئے ہیں۔ چیف جسٹس جناب ثاقب نثار اپنی اس گفتگو کے با وجود بھی تنقید کا نشانہ بنائے گئے۔ سیاست دانوں کے ایک قبیل نے مختلف سوالات اٹھائے جن سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان میں اعتماد کا بحران ہے۔ ایک ادارہ دوسرے پر، ایک سیاست دان دوسرے سیاست دان پر اعتماد کر نے کو تیار نہیں ہے۔ اگر اعتماد کا بحران نہ ہو تو عدلیہ اور فوج کے خلاف خیالی، قیاس پر مبنی، بے بنیاد الزامات عائد نہیں ہو سکتے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ قدم قدم پر اعتماد سازی کی مربوط کوشش کی جائے۔( ختم شد)

مزید : رائے /کالم