شہباز شریف کو گرین سگنل مل گیا!

شہباز شریف کو گرین سگنل مل گیا!
 شہباز شریف کو گرین سگنل مل گیا!

  

نواز شریف کے اس بیان سے کم از کم مسلم لیگ (ن) کی حد تک شکوک و شبہات اور ابہام و بے یقینی کے بادل چھٹ گئے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کی طرف سے آئندہ وزیراعظم شہباز شریف ہوں گے۔ بہت دنوں سے قیاس آرائیاں جاری تھیں کہ نواز شریف شاید اپنی بیٹی مریم نواز کو آئندہ کی سیاست میں آگے لانا چاہتے ہیں، ایسا کرنے کی صورت میں انہیں جن چیلنجوں کا سامنا ہوسکتا تھا، ان کا بھی ذکر کیا جاتا رہا۔ ہر شخص کا گمان تھا کہ اگر شہباز شریف کو نظر انداز کرکے مریم کو آگے لایا گیا تو خودمسلم لیگ(ن) کے اندر ایک انتشار پھیل جائے گا، جس کے آثار پہلے سے نظر آرہے تھے، سو یہ فیصلہ انہیں جلد کرنا ہی چاہیے تھا تاکہ غلط فہمیاں پیدا ہونے کی بجائے واضح پیغام جائے اور مسلم لیگ (ن) متحد ہوکر آنے والے انتخابات میں میدان میں آسکے۔ حدیبیہ کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے نے بھی غالباً نواز شریف کو اس فیصلے تک پہنچنے کی راہ دکھائی۔ شہباز شریف اب شریف خاندان میں مسٹر کلین مین کے طور پر موجود ہیں، جن پر فی الوقت کرپشن کا کوئی کیس نہیں۔ وہ عمران خان کی کرپشن کے حوالے سے انتخابی تھیوری کی زد میں بھی نہیں آئیں گے، جبکہ انہیں پاکستان کی سیاسی سائنس کا پوری طرح علم ہے اور وہ ملک کے ایک ایک قابل ذکر سیاستدان، سیاسی خاندان اور رکن اسمبلی کو ذاتی طور پر جانتے ہیں۔

میرا گمان ہے کہ نواز شریف نے شہباز شریف کے بارے میں فیصلہ کرلیا ہے تو اب وہ اپنا بیانیہ بھی بدل لیں گے۔ جو محاذ آرائی وہ شروع کرنے جارہے تھے، شاید اسے بھی ترک کردیں۔ اس گمان کی اصل وجہ خود شہباز شریف ہیں، وہ اس قسم کی سرگرمی کے خلاف ہیں جو اداروں کے ساتھ ٹکراؤ پر مبنی ہو۔ وہ نواز شریف کو بھی یہی مشورہ دیتے رہے ہیں کہ تصادم کا راستہ اختیار نہ کیا جائے۔۔۔سواگر شہباز شریف نے شریف خاندان کی طرف سے اقتدار میں آگے رہنا ہے تو پھر ان کی بات بھی ماننی پڑے گی، جیسا کہ خود نواز شریف نے کہا ہے کہ شہباز شریف کو اپنی بات منوانا آتی ہے اور کئی بار اختلافات کے باوجود ان کی بات کو ماننا پڑتا ہے۔

نواز شریف کی نا اہلی کے بعد ہر طرف سے یہی کہا جارہا تھا کہ شہباز شریف ہی وہ شخص ہیں جو نواز شریف کا متبادل ثابت ہوسکتے ہیں۔ دکانداری چمکانے والوں نے بہت تبصرے کئے کہ ووٹ بینک نواز شریف کا ہے، شہباز شریف کا نہیں، اس لئے نواز شریف اگر مریم نواز کو وزارتِ عظمیٰ کے لئے آگے لائیں گے تو مسلم لیگ (ن) انتخابات میں مطلوبہ نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہے گی، مگر ایسا کہنے والے یہ بھول جاتے تھے کہ مریم نواز کے خلاف خود پارٹی کے اندر بھی ایک مزاحمت موجود ہے۔ چودھری نثار علی خان تو واضح طور پر اس حوالے سے بغاوت کا اعلان کرچکے تھے۔ وہ ایک سے زائد بار یہ کہتے پائے گئے کہ مریم تو ابھی بچی ہے، بچوں کا کیا کام سیاست میں آئیں۔ پھر اس نکتے پر بھی غور کیجئے کہ بالفرض مریم نواز وزارتِ عظمیٰ پر فائز ہوجاتیں اور پنجاب میں شہباز شریف وزیراعلیٰ ہوتے تو یہ عجیب نہ لگتا کہ بھتیجی کا استقبال چچا کرتے۔ نواز شریف کی بات تو اور تھی، وہ بڑے بھائی بھی تھے اور پارٹی کے قائد بھی۔۔۔ ان کے استقبال کے لئے جانا تو بنتا تھا، مگر شہباز شریف جیسا شخص مریم نواز کو پروٹو کول کیسے دے پاتا؟ ویسے بھی شہباز شریف کے قد کاٹھ جیسا کوئی دوسرا رہنما مسلم لیگ (ن) کے اندر موجود نہیں، وہ ایک ایسے رہنما ہیں، جو انتخابات میں پانسا پلٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ طاقت کے تمام حلقوں میں ایک قابل قبول شخص ہیں۔ نواز شریف جب عدلیہ کے ججوں کو سخت الفاظ میں تنقید کا نشانہ بناتے ہیں تو شہباز شریف اس وقت بھی ججوں کے سامنے ہاتھ جوڑ کر عرض کرنے کا رویہ اختیار کرتے ہیں۔ جی ایچ کیو کے ساتھ تو ان کے موثر رابطوں کی کہانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، انہوں نے طاقت کے مراکز سے تعلقات میں کبھی رخنہ نہیں آنے دیا۔

میں یہ نہیں جانتا کہ نواز شریف سیاسی طور پر قصۂ ماضی بن گئے ہیں، ہاں ان کی انتخابی سیاست اپنی ذات تک ختم ہوگئی ہے۔ اس حقیقت کو وہ جتنی جلد تسلیم کرلیں اتنا ہی ان کی جماعت اور خود ان کے لئے مفید ہے۔ بعض تلخ حقیقتیں کڑوے گھونٹ کی مانند ہوتی ہیں، جنہیں پینا ہی پڑتا ہے۔ ساری زندگی تو کوئی حکمران رہتا بھی نہیں۔ نواز شریف جہاں سے نا اہل قرار پائے ہیں، اس کے بعد کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں سے وہ ریلیف حاصل کرسکیں۔ اب ان کے پاس واحد راستہ یہ ہے کہ وہ سامنے کی حقیقتوں کو تسلیم کرکے اپنا کردار متعین کریں۔ شہباز شریف کو آئندہ وزیراعظم قرار دے کر انہوں نے کم از کم اس حقیقت کو تو تسلیم کرلیا ہے کہ اب وہ خود وزیراعظم نہیں بن سکتے۔ اب وہ اس حقیقت کو بھی تسلیم کریں کہ سپریم کورٹ کے پانچ ججوں نے ان کے خلاف جو فیصلہ دیا ہے، وہ ان کا استحقاق تھا۔ ججوں کے استحقاق کو تسلیم کئے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ ویسے بھی نواز شریف ایسے حالات میں کہ جب پاناما کیس اور ختم نبوتؐ حلف میں تبدیلی کے معاملے نے مسلم لیگ (ن) کی ساکھ تباہ کی ہو، کوئی رسک نہیں لے سکتے کہ پارٹی میں کوئی نیا تجربہ کریں۔ مریم نواز جب نواز شریف کے ساتھ کھڑی ہوتی ہیں تو واقعی آئرن لیڈی نظر آتی ہیں، مگر نواز شریف کے بغیر وہ ایسے بچے کی طرح نظر آتی ہیں، جو ہجوم میں گم کھڑا ہو۔ شہباز شریف کے ساتھ مل کر بھی مریم نواز شریف ایک بڑا سیاسی کردار بن کر ابھر سکتی ہیں، خاص طور پر آنے والے دنوں میں جب انتخابی مہم چلے گی تو شہباز شریف و مریم بی بی کا اکٹھے جلسوں میں جانا عوام کو اپنی طرف کھینچ لائے گا۔

کہنے والے کہتے ہیں کہ مریم نواز شریف کی نااہلی کا خدشہ موجود ہے، اس لئے شہباز شریف کے سوا مسلم لیگ (ن) کے پاس کوئی آپشن ہی موجود نہیں۔ ایسے مفروضوں پر بڑے فیصلے نہیں کئے جاتے۔ میرا خیال ہے نواز شریف نے مستقبل کی سیاست کو پیشِ نظر رکھ کر یہ فیصلہ کیا ہے، کیونکہ جتنا وہ جانتے ہوں گے کہ پارٹی میں کیا کھچڑی پک رہی ہے، اتنا شاید کسی کو بھی معلوم نہ ہو۔ وہ چاہتے تو ابھی اس فیصلے کو مزید ٹالتے، لیکن اس سے پارٹی میں گروپ بندی اور زیادہ ہوجاتی، جسے شاید آگے چل کر سنبھالنا بھی آسان نہ رہتا۔جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ شہباز شریف آنے والے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے لئے کس حد تک سود مند ثابت ہوسکتے ہیں، تو اس کا اندازہ شہباز شریف کی موجودہ پرفارمنس سے بھی لگایا جاسکتا ہے۔ وہ چاروں وزرائے اعلیٰ کے مقابلے میں سب سے بہتر وزیراعلیٰ خیال کئے جاتے ہیں۔ انہوں نے مسلم لیگ (ن) کی ترقیاتی سوچ کو نمایاں رکھا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی وفاقی حکومت تو شاید بہت زیادہ کامیابیاں حاصل نہیں کرسکی، تاہم پنجاب حکومت نے یقیناً بہت سے ایسے کام کئے ہیں: جن پر (ن) لیگی حلقے فخر کرتے ہیں۔۔۔ مثلاً میٹرو بس منصوبے، اورنج ٹرین منصوبہ، صحت و تعلیم کے شعبوں میں بہتری، نوجوانوں کے لئے مراعات اور اعلیٰ تعلیم پر حوصلہ افزائی جیسے اقدامات۔۔۔ شہباز شریف کے بارے میں یہ تاثر عام ہے کہ وہ ایک متحرک شخص ہیں۔ آرام سے بیٹھنا انہیں نہیں آتا۔.

اگرچہ پنجاب میں ان کی گورننس کو آئیڈیل قرار نہیں دیا جاسکتا، خاص طور پر پولیس اور ضلعی انتظامیہ کو وہ عوام دوست نہیں بناسکے۔ ان کے بارے میں عوام کی شکایات شہباز شریف کے طرزِ حکمرانی پر سوالات اٹھاتی رہیں، تاہم اتنا ضرور ہے کہ پنجاب میں گورننس کا احساس ضرور ہوتا ہے۔ کوئی بڑا واقعہ ہوجائے تو انتظامیہ غفلت کا مظاہرہ نہیں کرتی، کیونکہ چیف منسٹر کی نظر ہر وقت بیدار رہتی ہے۔ اب ایک ایسی شہرت کا حامل وزیراعلیٰ جب عمران خان اور بلاول بھٹو کے مقابل میدان میں آئے گا، تو مقابلہ خوب جمے گا۔ عمران خان تو پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ شہباز شریف کے مقابلے میں انتخابی مہم چلاکر انہیں خوشی ہوگی،کیونکہ شہباز شریف میں مقابلے کی سکت موجود ہے۔ شہباز شریف کے سامنے پہلا ٹاسک تو یہ ہے کہ وہ مسلم لیگ (ن) کو متحد رکھیں۔ مسلم لیگی کارکنوں اور رہنماؤں کو یہ امید دلائیں کہ نواز شریف کی نا اہلی سے کوئی فرق نہیں پڑا۔ مسلم لیگ (ن) پھر اقتدار میں آئے گی۔ پنجاب کی حد تک یقیناًوہ ٹکٹوں کی تقسیم بھی اپنے تجربے کی بنیاد پر کریں گے۔ ان سے بہتر کوئی نہیں جانتا کہ پنجاب میں کس رکن اسمبلی نے کتنا کام کیا ہے۔ ان کے پاس سب رپورٹیں موجود ہیں۔ نواز شریف بھی انتخابی مہم کے دوران سیاسی جلسے کرکے کارکنوں اور اپنے حامیوں کا لہو گرمائیں گے، لیکن اگر انہوں نے ان جلسوں میں عدلیہ مخالف بیانیہ اختیار کیا تو وہ سیاسی مخالفین کو پکا پکا یا تنقیدی مواد فراہم کردیں گے۔ تاہم اگر انہوں نے صرف مسلم لیگ (ن) کی کارکردگی بیان کرنے تک بات محدود رکھی تو یہ شہباز شریف کے لئے بھی ایک اطمینان بخش بات ہوگی کہ کم از کم وہ ایک ایسی جماعت کے رہنما نہیں جو آئینی اداروں کو تسلیم ہی نہیں کرتی۔ شہباز شریف کو پنجاب سے عشق ہے، مگر اب غالباً اس عشق کے دن پورے ہوچکے ہیں اور انہیں نئی منزل کا سفر درپیش ہے، دیکھتے ہیں وہ منزل پر پہنچ پاتے ہیں یا نہیں؟

مزید : رائے /کالم