جنرل اسمبلی کی قرارداد اور امریکی دھمکیاں

جنرل اسمبلی کی قرارداد اور امریکی دھمکیاں

امریکی صدر ٹرمپ نے پوری عالمی برادری کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسیلم کرنے کے خلاف قرارداد کی حمایت نہ کی جائے جو ممالک امریکہ کے خلاف ووٹ دیں گے ان کی امداد بند کردیں گے۔ امریکہ سے امداد لینے والے ممالک کو پتہ چل جائیگا تمام صورتِ حال کا جائزہ لے رہے ہیں، لاکھوں ڈالر ہم سے لیتے ہیں اور ہمارے خلاف ہی ووٹ کرتے ہیں اقوامِ متحدہ میں امریکی مستقل مندوب نِکی ہیلی نے بھی مختلف سفیروں کو خطوط لکھے ہیں جن میں اس دھمکی کا اعادہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ ہم نے امریکی عوام کی خواہش کے مطابق بیت المقدس میں اپنا سفارت خانہ منتقل کرنے کا فیصلہ کیا جن ممالک کی ہم مدد کرچکے ہیں ان سے امریکہ کو نشانہ بنانے کی توقع نہیں، امریکی فیصلے کے خلاف پہلے یہ قرارداد سلامتی کونسل میں پیش کی گئی تھی۔ 15 میں سے 14 ارکان نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا تھا لیکن امریکہ نے یہ قرارداد ویٹو کردی، اس کے بعد سوائے اس کے کوئی چارہ نہ تھا کہ معاملے کو جنرل اسمبلی میں لے جایا جاتا۔

جنرل اسمبلی کے ہنگامی اجلاس میں آج اس پر ووٹنگ ہونے والی ہے اور جب تک آپ یہ سطور پڑھیں گے نتیجہ بھی سامنے آچکا ہوگا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ امریکہ نے قرارداد کی منظوری سے پہلے جو طرزِ عمل اپنایا ہے کیا وہ ایک سپر پاور کے شایانِ شان ہے؟ صدر ٹرمپ جب سے اس منصب پر فائز ہوئے ہیں، امریکی امداد کا ذکر یوں کرتے ہیں جیسے یہ کوئی خیرات ہے جو ریوڑیوں کی طرح بانٹی جارہی ہو۔ سپر طاقت ہوتے ہوئے عالمی سیاست میں امریکہ کا جو مقام ہے اس کو پیشِ نظر رکھ کر اسے بعض اقدامات کرنے پڑتے ہیں جن میں امداد بھی شامل ہے۔ اسرائیل دنیا میں سب سے زیادہ امریکی امداد حاصل کرنے والا ملک ہے ۔ وہ بھی ساری امریکی پالیسیوں کو قبول نہیں کرتا، اوباما کے دور میں تو نیتن یاہو نے کانگرس سے خطاب کرتے ہوئے ان کے لتے لئے تھے لیکن صدر ٹرمپ نے اسرائیل کا ذکر کبھی اس انداز میں نہیں کیا جس طرح دنیا کے باقی ملکوں کا کرتے رہتے ہیں۔ سلامتی کونسل میں قرارداد کا محرک مصر تھا جو دوسرے نمبر پر امریکی امداد کا حق دار ٹھہرا ہے لیکن امداد کا یہ مطلب قطعاً نہیں ہے کہ امریکی حکومت عالمی برادری کے جذبات اور رائے کو قطعاً نظر انداز کرکے جو چاہے کرتی رہے۔ مقبوضہ بیت المقدس ہمیشہ سے فلسطین کا حصہ ہے، اسرائیل نے بزورِ قوت اس پر قبضہ کررکھا ہے۔ دنیا کے تمام مسلمان ممالک بیت المقدس کو فلسطین کا دارالحکومت تسلیم کرچکے ہیں اس کے باوجود اگر امریکہ نے اس جانب سے آنکھیں بند کررکھی ہیں اور امریکی امداد کے دباؤ میں دوسرے ملکوں کی خارجہ پالیسی کو متاثر کرنے کی راہ پر نکل کھڑے ہوئے ہیں تو یہ بہت ہی خطرناک بات ہے۔

صدر ٹرمپ نے جو فیصلہ کیا ہے ان سے پہلے کسی امریکی صدر نے ایسا فیصلہ نہیں کیا، اس کا فوری نتیجہ تو یہ نکلا ہے کہ فلسطین نے مشرقِ وسطیٰ کے کسی امن معاملے میں امریکی کردار کی نفی کردی ہے، اور کہا ہے کہ جب تک یہ فیصلہ واپس نہیں لیا جاتا، اس مسئلے پر امریکہ سے کوئی بات کی جائیگی نہ مانی جائیگی، فلسطین کوئی فوجی قوت نہیں ہے وہ بھی اگر امریکہ کی بات کو بر سر عام مسترد کر رہا ہے تو باقی ملکوں سے جو ایٹمی طاقتیں بھی ہیں امریکہ کس قسم کے ردعمل کی امید رکھ سکتا ہے یہاں تک کہ برطانوی وزیراعظم تھریسامے نے بھی کہا ہے کہ بیت المقدس کے معاملے پر برطانیہ کا موقف امریکہ سے مختلف ہے تاہم انہوں نے صدر ٹرمپ سے کہا ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لئے نیا کردار شروع کریں لیکن ان حالات میں ان کا کردار کتنا موثر ہوگا اس کا اندازہ سلامتی کونسل میں مصر کی قرارداد سے ہوجاتا ہے جس کی چار مستقل رکن ممالک اور دس غیر مستقل اراکین ممالک نے حمایت کی اور امریکہ کے پاس سوائے اس کے کوئی چارہء کار نہ رہا کہ وہ قرارداد کا راستہ روکنے کے لئے اسے ویٹو کردے اور پھر جب ایسی ہی قرارداد جنرل اسمبلی میں آئے تو دوسرے ملکوں کو امداد بند کرنے کی دھمکیاں دینا شروع کردے، اس طرزِ عمل سے امریکہ کا عالمی کردار مزید متنازعہ ہوجائیگا اور بین الاقوامی برادری میں اس کی رائے کی وقعت نہیں رہے گی۔

امریکی صدر نے تل ابیب سے اپنا سفارت خانہ بیت المقدس میں منتقل کرنے کا جو فیصلہ کیا ہے اسے پوری دنیا نے تو مسترد کر ہی دیا ہے لیکن قابل غور بات یہ ہے کہ جن 86ملکوں کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات ہیں اور جن کے سفارت خانے اس وقت تل ابیب میں ہیں ان میں سے کسی ملک نے بھی امریکہ کی پیروی نہیں کی کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ اقدام قابلِ تقلید بھی نہیں ہے اور عالمی امن کے لئے اس کے اثرات منفی مرتب ہوں گے، اگر کوئی دوسرا ملک اب تک اپنا سفارت خانہ بیت المقدس لے جانے کا اعلان نہیں کرسکا تو اس کی وجہ سوائے اس کے کیا ہوسکتی ہے کہ یہ سب ملک امریکی فیصلے کو متنازعہ جانتے ہیں جن میں امریکہ کے حلیف ممالک بھی شامل ہیں اور ان میں ایسے ملک بھی ہیں جن کو امریکہ سے کوئی امداد نہیں ملتی اور نہ ہی وہ اس امداد پر انحصار کرتے ہیں ایسے لوگوں کو امریکہ کس بات کی دھمکی دے گا؟

اب تک اگر سابق امریکی صدور اس ضمن میں کوئی فیصلہ نہیں کررہے تھے تو اس کی وجہ بھی سوائے اس کے کوئی نہیں ہوسکتی کہ وہ عالمی امور کو موجودہ صدر سے بہتر سمجھتے تھے اور اس فیصلے کے نتائج و عواقب کا بخوبی ادراک رکھتے تھے، بہت سے صدور اسرائیل کی منہ زور پالیسیوں کے بھی مخالف رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ اوبامہ کی صدارت کے آخری ایام میں سلامتی کونسل نے اسرائیل میں یہودی بستیوں کے خلاف قرارداد منظور کی تھی، امریکہ ووٹنگ کے وقت غیر حاضر رہا اور اس قرارداد کو ویٹو کرنے کا آپشن استعمال نہیں کیا تھا۔ ٹرمپ کی یہ ذمے داری تھی کہ وہ غاصب اسرائیل کو یہودی بستیوں سے باز رکھتے۔ کیونکہ جن علاقوں میں یہ بستیاں بسائی جارہی ہیں وہ مسلمہ طور پر فلسطین کے علاقے ہیں لیکن اس کے برعکس انہوں نے مسلمانوں کو مشتعل کرنے کا راستہ اختیار کیا، اب وہ دھمکیوں پر اتر آئے ہیں جو کسی بھی لحاظ سے شائستہ اقدام نہیں کیونکہ طاقت ور ہونے کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ آپ کا موقف بھی سو فیصد درست ہے۔

مزید : رائے /اداریہ