شوگر ملیں آج سے چلانے کا حکم

شوگر ملیں آج سے چلانے کا حکم

لاہور ہائی کورٹ نے22 دسمبر تک شوگر ملیں نہ چلانے والے ملز مالکان کے خلاف مقدمات درج کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ مسٹر جسٹس ساجد محمود سیٹھی کے روبرو درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ شوگر ملوں کے مالکان اکتوبر سے ملیں چلانے کے پابند ہیں،لیکن ابھی تک ایسا نہیں کیا گیا۔ رواں سیزن کی کرشنگ شروع نہ ہونے سے صرف جنوبی پنجاب میں40 ارب روپے سے زائد رقم ڈوبنے کا خطرہ ہے،کین کمشنر پنجاب نے بتایا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے نوٹس بھیجنے کے باوجود مِلیں نہیں چلائی جا رہیں۔عدالت نے ملز مالکان کو180 روپے فی 40کلو گرام قیمت کسانوں کو ادا کرنے کے متعلق بھی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔ گنے کے کاشت کار طویل عرصے سے ملیں چلانے کا مطالبہ کر رہے ہیں،لیکن پنجاب حکومت کی ہدایت کے باوجود مِل مالکان نے ابھی تک ملیں نہیں چلائیں، آخری چارۂ کار کے طور پر عدالت سے رجوع کیا گیا،جس نے 22 دسمبر(آج) تک ملیں چلانے کا حکم دیا ہے۔ دوسری جانب کسان تنظیموں نے احتجاج بھی شروع کر رکھا ہے،رحیم یار خان کے علاقے ترنڈہ سوائے میں کسانوں نے دھرنا دیا،گنے کی فصل نذرِ آتش کی، مظاہرین ریلوے ٹریک پر لیٹ گئے،جس کی وجہ سے گاڑیوں کی آمدورفت بند ہو گئی۔بعد میں انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کی وجہ سے ٹریفک بحال ہوئی۔رحیم یارخان، بہاولپور اور مظفر گڑھ کے اضلاع میں ہائی کورٹ کے حکم پر تین ملوں کی بندش پر بھی کسانوں نے احتجاج کیا۔ گنے کے کاشتکاروں کے مسائل گو ناگوں ہیں ایک طرف تو کرشنگ سیزن لیٹ شروع کیا جاتا ہے اور بعض اوقات جلدی بند بھی کر دیا جاتا ہے،جس کی وجہ سے کسانوں کو اُونے پونے اپنی فصل فروخت کرنا پڑتی ہے، شوگر ملوں کے باہر گنے سے لدی ہوئی ٹرالیوں کی قطاریں لگ جاتی ہیں اور یہ سلسلہ کئی کئی دن جاری رہتا ہے۔ گنا سوکھنا شروع ہو جاتا ہے اور اِس کا وزن کم ہو جاتا ہے۔ پھر شوگر ملیں گنے کی پوری قیمت بھی ادا نہیں کرتیں اِس طرح کسانوں کو دُہرا نقصان ہوتا ہے، ایسا بھی ہُوا ہے کہ گنے کی خریداری نہ ہونے کی وجہ سے کسانوں نے اپنی پوری فصل کو ایندھن کے طور پر استعمال کیا،کیونکہ اس کی اتنی بے قدری ہوئی کہ کوئی اس کا خریدار ہی نہ تھا۔ سندھ کے کاشتکار بھی ایسی ہی شکایت کرتے نظر آتے ہیں،پنجاب اور سندھ کے وزرائے اعلیٰ کو اِس جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ کسانوں کا استحصال نہ ہو۔

مزید : رائے /اداریہ