ذہنی دباؤ، صاف دیہات پروگرام نے 2 یوسی سیکرٹریوں کی جان لے لی

ذہنی دباؤ، صاف دیہات پروگرام نے 2 یوسی سیکرٹریوں کی جان لے لی

ملتان ( سپیشل رپورٹر)حکومت پنجاب کی طرف سے وزیر اعلیٰ پنجاب پروگروام کے تحت صاف دیہات پروگرام شروع کیا گیا جس(بقیہ نمبر23صفحہ12پر )

میں پنجاب کے یونین کونسل سیکرٹریوں کے ذریعے قیام پاکستان کے بعد پنجاب بھر کے دیہاتوں اورچکو ک میں پہلی مرتبہ صفائی کے احکامات دیے گئے، لیکن صفائی کے لیے بہت کم رقم مختص کی گئی جبکہ یونین کونسلوں کے پاس نہ تو کثیر تعداد میں عملہ ہے او رنہ ہی وسائل ہیں۔ دیہاتوں کی یونین کونسل ایک سیکرٹری ایک نائب قاصد پر مشتمل ہے جوکہ کرایہ کی بلڈنگوں میں قائم کی گئی ہیں۔یونین کونسلوں کی حدودجوکہ بڑے بڑے دیہات پر مشتمل ہونے کے باعث یونین کونسلوں میں فراہم کردہ بجٹ سے صفائی نا ممکن ہے۔ افسران بالا نے زمینی حقائق کو ایک طرف رکھتے ہوئے وزیر اعلیٰ کے سامنے اپنے نمبر بنانے کے لیے بلاوجہ یونین کونسل ملازمین کو نفسیاتی ٹارچر کرتے رہے۔ انتظامی افسران بلا جواز ایک دن میں تین سے چار بارملازمین کو دفتر بلا تے اور بار بار سرکاری نمبر سے کال کرکے ان پر ذہنی ٹارچر کر تے رہے، جس کے باعث دو سکریڑی ذوالفقار اور عبدالسمیع جاں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور متعدد بیمار ہو گئے۔اس گھمبیر صورتحال کا سید محمد ذیشان شاہ چیئرمین آل پنجاب سیکرٹریز ایسوسی ایشن سمیت دیگر عہدیداران APSA اور APCA نے نے نوٹس لیتے ہوئے فی الفور سیکرٹری لوکل گورنمنٹ اور چیف سیکرٹری سے ملاقات کا شیڈول بنایا جس میں سیکرٹریوں کے تحفظات کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا۔آل پنجاب سیکرٹریز ایسوسی ایشن سمیت دیگر عہدیداران APSA اور APCA نے عندیہ دیا کہ ملازمین کی عزت نفس پر کسی بھی قسم کا دبا ؤیا سمجھوتہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ضابطہ کار کے مطابق فرائض کی انجام دہی کو یقینی بنایا جائے۔ہمارا کام ہمارے محکمہ کے افسران کے ذریعے کروایا جائے۔ کسی بھی انتظامی آفیسر کو اگر کوئی ہدایات دینی ہیں تو وہ ہمارے ضلع یا تحصیل سطح کے آفیسرز کو دیں جو کہ ہم کو آرڈر جاری کریں۔ہم سرکاری ملازمین ہیں،ہمیں سرکاری ملزمان نہ سمجھا جائے۔آئندہ کے لئے واضح طور پر پیغام دیتے ہیں کہ آئندہ پنجاب کے کسی بھی ضلع یا تحصیل لیول پر ہمارے کسی بھی ساتھی کے خلاف وضاحت کا موقع دئیے بغیر، کسی بھی بہانے سے کوئی زیادتی یا انتقامی کارروائی کی کوشش کی گئی تو اس کا نتیجہ دفاتر کی تالہ بندی اور اس افسر کی اس ضلع یا تحصیل سے معطلی یا رخصتی سے کم پر موقوف نہیں ہو گاخدانخواستہ اب کسی ساتھی کا جانی، مالی یا جسمانی نقصان ہوا تو متعلقہ افسران اس کے ذمہ دار ہوں گے اور ان کے خلاف باقاعدہ سخت ترین قانونی کاروائی بھی کروائی جائے گی۔

مزید : ملتان صفحہ آخر