ہارٹ آف ایشیا کانفرنس اعلامیہ سے دہشتگردوں کی فہرست خارج

ہارٹ آف ایشیا کانفرنس اعلامیہ سے دہشتگردوں کی فہرست خارج

اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک228 آئی این پی ) دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل نے کہاہے کہ پاکستان کو سفارتی سطح پر بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے اور پاکستان کے اعتراض پر ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کے اعلامیہے سے دہشت گردوں کی فہرست کو نکال دیا گیا ۔ترجمان نے پاکستان پر امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف گراں قدر قربانیاں دیں اور دہشت گردوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی۔افغانستان کی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال ہونے پرتحفظات ہیں، ہمسایہ ملک مسلسل پاکستان کے خلاف سازشیں کررہا ہے پاکستان سودی عرب پر میزائیل حملے کی مذمت کرتا ہے، حو ثی باغیوں کی جانب سے سعودی عر ب پر مسلسل میزائل حملے علاقائی امن اور سلامتی کے لئے خطرہ ہیں، پاکستان عالمی برادری کے ساتھ دہشتگردی کی جنگ میں صف اول کا کردار ادا کرتا رہا ہے ، وزیر خارجہ خواجہ محمد آ صف نے مقبو ضہ کشمیر میں قابض بھارتی افواج کی کشمیریوں پر جاری مسلسل بربریت اور ان کی حق خود ارادیت کی جدو جہد کو غیر انسانی ہتھکنڈوں، تشدد، ماورائے عدالت قتل اور غیر قانونی گرفتاریوں کے ذریعے دبانے کی مذمت کی ہے۔بھارت کی جانب سے اننت ناگ چلو ریلی کو طاقت سے روکا گیا۔سید علی شاہ گیلانی کو بھی پندرہ سال پرانے کیس میں عدالت کے سامنے پیش نہیں ہونے دیا گیا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے شبیر احمد شاہ کو ضمیر کا قیدی قرار دیا تھا۔انہوں نے اپنی زندگی کے تیس سال بھارتی جیلوں میں گزار لئے ہیں ۔ ان کی صحت مسلسل بگڑ رہی ہے۔بارہا درخواستوں کے باوجود بھارت نے حریت راہنما شبیر احمد شاہ کو محفوظ جیل میں منتقل نہیں کیا۔ہم عالمی برادری پر زور دیتے ہیں کہ وہ انسانی بنیادوں پر شبیر احمد شاہ کی رہائی کو یقینی بنائے۔ کشمیری قیادت کو ہراساں کیا جانا قابل مذمت ہے۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض افواج نے ایک ہفتہ میں چار مزید کشمیریوں کو شہید کیا۔پاکستان نے 291 بھارتی ماہی گیروں کو دو مرحلوں میں رہا کرنے کا انسانی بنیادوں پر فیصلہ کیا ہے۔افغانستان کی سرزمین مسلسل مختلف غیرریاستی گروہوں کی جانب سے پاکستان کی خلاف استعمال ہونے پر تحفظات ہیں ۔ہنگو میں ہونیوالے واقعہ پر غلط معلومات پھیلائی جا رہی ہیں۔معاملہ پرانا ہے اور سکھ برادری ایک صدی سے زاید عرصہ سے ہنگو میں مقیم ہے۔سکھ پاکستان کے قابل فخر شہری ہیں۔ سی پیک پاکستان کا فلیگ شپ منصوبہ ہے جس پر مثبت کارکردگی ہے۔سی پیک پر پاکستان اور چین کا فریم ورک کا ایک منصوبہ موجود ہے۔2030 تک سی پیک کو مکمل کر لیا جاے گا۔سی پیک پر فریقین کے اتفاق رائے سے نئی شاہراہوں اور منصوبوں کی شمولیت کا فیصلہ کیا جاے گا۔پاکستان یروشلم پر او آئی سی کے حالیہ اعلامیہ کی مکمل حمایت کرتا ہے۔افغانستان میں داعش کی سر گرمیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ہم نے افغانستان میں داعش کے اثر و رسوخ میں اضافہ کا معاملہ افغان حکومت اور عالمی برادری سے اٹھایا ہے۔افغان حکومت سے کہا ہے کہ افغانستان میں داعش کی بڑھتی ہوئی محفوظ پناہ گاہوں کا سدباب کرے۔بھارت کی جانب سے اقدامات نے سندھ طاس معاہدے مسایل کے حل کے میکنزم کو غیر فعال بنا دیا ہے۔ غیر قانونی تارکین وطن بہتر زندگی کی تلاش میں دنیا بھر سے یورپ میں جا رہے ہیں ۔بوسنیا میں پکڑے جانے والے پاکستانیوں کی تعداد پاکستانی سفارت خانے کے مطابق5 ہے۔ان سے تحقیقات جاری ہیں۔اکثر پاکستانی غیر قانونی تارکین وطن میں جرائم پیشہ گروہوں کے ہاتھ چڑھ جاتے ہیں۔پاکستان جی ایس پی پلس کے حوالے سے تمام معیارات پر پورا عملدرآمد کر رہا ہے۔پاکستان اور یورپی یونین کے تجارتی تعلقات میں جی ایس پی پلس کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔پاکستان کی تجارت میں جی ایس پی پلس درجہ ملنے کے بعد 38 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

دفتر خارجہ

مزید : کراچی صفحہ اول