اساتذہ افسری کرنا اور گھومنا پھرنا چاہتے ہیں، جسٹس سجاد علی شاہ

اساتذہ افسری کرنا اور گھومنا پھرنا چاہتے ہیں، جسٹس سجاد علی شاہ

کراچی (اسٹاف رپورٹر ) سپریم کورٹ کے جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا ہے کہ اساتذہ افسری کرنا اور گھومنا پھرنا چاہتے ہیں، سیکنڈری اسکول ٹیچرز بھرتی ہونے والوں کو محکمہ تعلیم کا سپروائزر لگانا غلط اقدام ہے، واپس ٹیچنگ پر بھیجنے سے کوئی متاثر نہیں ہوگا، اساتذہ کا کام تعلیم دینا ہے لیکن یہ پڑھانا نہیں چاہتے۔ یہ ریمارکس انہوں نے جمعرات کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں محکمہ تعلیم سندھ کے 1400 اساتذہ کے کیڈر کے معاملے پر سپروائزر کی حیثیت سے کام کرنے والے سکینڈری اسکول ٹیچرز کی اپیل کی سماعت کے دوران دیئے۔ عدالت نے سپریم کورٹ نے محکمہ تعلیم سندھ کے 1400 اساتذہ کے کیڈر کے معاملے پر 85 اساتذہ کی اپیل مسترد کردی۔ سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں ریاض احمد بھٹو سمیت 85اساتذہ نے ہائیکورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا جبکہ سندھ ہائیکورٹ نے اساتذہ کی درخواست 31مئی 2017 کو مسترد کردی تھی۔ عدالت کے روبرو درخواست گزاروں کے وکیل مجیب پیرزادہ ایڈووکیٹ نے بتایا کہ اساتذہ 15، 20 سال سے بحیثیت سپروائزر ذمے داری سر انجام سے رہے ہیں ۔ 1400 سپروائزر کو ٹیچنگ کیلئے بھیج کر 200 نئے مانیٹر ز بھرتی کرلئے گئے ہیں۔ عدالت نے 85اساتذہ کی اپیل مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سکینڈری اسکول ٹیچرز کی حیثیت سے تقرری ہوئی اور تدریس ہی جاب ڈسکرپشن ہے۔ کسی استاد کاکیڈر تبدیل نہیں ہوا جس اسامی پر بھرتی ہوئے اسے کام پر لگادیا گیاہے۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کو بتایا کہ پرائمری ٹیچرز کی تربیت کیلئے مقرر سپروائزر اساتذہ کی حاضری لگارہے تھے۔ بائیومیٹرک سسٹم کے بعد حاضری لگانے کاکام ختم ہوگیا۔ پرائمری ٹیچرز کو تربیت دینے والوں سے بہتر استاد کون ہوگا اسی لئے اساتذہ کو بنیادی ڈیوٹی لگادی گئی ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ مسئلہ یہ ہے کہ اساتذہ افسری کرنا چاہتے اور گھومتے پھرتے رہنا چاہتے ہیں۔ سکینڈری اسکول ٹیچرز بھرتی ہوئے۔ محکمہ تعلیم کا سپروائزر لگانے کا اقدام غلط تھا۔واپس ٹیچنگ پر بھیجنے سے کوئی متاثر نہیں ہوا بلکہ درست کام کیاگیا۔ انکا کام تعلیم دینا ہے لیکن یہ پڑھانا نہیں چاہتے۔

مزید : کراچی صفحہ اول