وزیر اعلیٰ کی بورڈ آف ریونیو کولینڈ سٹیلمنٹ اور کمپیوٹرائزیشن کے عمل کو تیز کرنے کی ہدایت

وزیر اعلیٰ کی بورڈ آف ریونیو کولینڈ سٹیلمنٹ اور کمپیوٹرائزیشن کے عمل کو تیز ...

پشاور( سٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے بورڈ آف ریونیو کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ صوبے میں لینڈ سٹیلمنٹ اور کمپیوٹرائزیشن کا عمل تیز کیا جائے بالخصوص ملاکنڈ ڈویژن میں شامل اضلاع کے لینڈ سٹیلمنٹ کے معاملات کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جائے کیونکہ اس ضمن میں اُنہیں مسلسل عوامی شکایات مل رہی ہیں۔ اُنہوں نے واضح کیا کہ لینڈ سٹیلمنٹ اور کمپیوٹرائزیشن کی بدولت صوبے میں شفافیت اور انصاف کا بول بالا ہونے کے ساتھ ساتھ مختلف اضلاع اور علاقوں میں اراضی کی ملکیت سے متعلق برسوں سے جاری لاتعداد قبائلی اور گروہی تنازعات کا خاتمہ بھی ہو گا۔ وہ وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں ضلع بٹگرام سے آئے وفد کی طرف سے علاقے کے بعض دیہات کی لینڈ سٹیلمنٹ سے متعلق تنازعہ کے حل کیلئے بلائے گئے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے جس میں سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو ظفر اقبال، ڈپٹی کمشنر بٹگرام ثقلین گیلانی اور دیگر متعلقہ حکام کے علاوہ بعض علاقہ مشران نے بھی شرکت کی۔وفد کا استدلال تھا کہ بٹگرام میں جزوی لینڈ سٹیلمنٹ ہونے کی وجہ سے 60 ہزار ہیکٹر پر محیط کئی دیہات کے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے حتیٰ کہ ضلع بٹگرام کے کافی اندر واقع ہونے کے باوجود ان دیہات کو ضلع کوہستان کا حصہ گردانا گیا ہے جو قرین انصاف نہیں ۔وزیراعلیٰ نے اس معاملے کو جلد حل کرنے کے ساتھ ساتھ دونوں اضلاع کی سرحدی حدود کے واضح تعین اور بارڈر لینڈ سٹیلمنٹ کا عمل شروع کرنے کی ہدایت بھی کی ۔ انہوں نے مزید کہاکہ واضح ٹائم لائن کے تحت تمام دور افتادہ اضلاع حتیٰ کہ تحصیل اور یوسی حدود تک لینڈ سٹیلمنٹ اور لینڈ ریکارڈ و ریونیو کمپیوٹرائزیشن کا ہمہ گیر عمل مکمل کیا جائے تاکہ عوام ان کے ثمرات سے مستفید ہوں اُنہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ماضی کی حکومتوں کی عدم توجہی اور مفادات کی سیاست کے سبب انفارمیشن ٹیکنالوجی کے جدید دور میں بھی صوبے کے کئی علاقوں میں لینڈ سٹیلمنٹ کے معاملات تشنہ اور حل طلب ہیں اور عوام کو اس ضمن میں گوناگوں مسائل کا سامنا ہے انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ محکمہ مال اور بورڈ آف ریونیو اس ضمن میں فوری نتائج پر مبنی ٹھوس اقدامات کا عمل جاری رکھیں گے ۔

پشاور( سٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے یقین دلایا ہے کہ صوبے میں مدارس کی طرح جامعات کی مالی ضروریات کی تکمیل میں وسائل کی کمی آڑے نہیں دی جائیگی اور یونیورسٹیوں کی ہر طرح کی سہولیات بلاتاخیر پوری کرنے کی بھرپور کوشش کی جائیگی انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی تعلیمی ایمرجنسی بنیادی اور اعلیٰ تعلیم کے تمام شعبوں کیلئے ہے اٹھارویں ترمیم کے تحت جامعات کو صوبائی عملداری میں لانے کے بعد ہماری بھرپور کوشش ہے کہ سکول و کالج کی طرح یونیورسٹیوں کا تعلیمی معیار بھی مسلسل بہتر بنے اور ان میں تمام سہولیات کا اضافہ بھی اسی رفتار سے جاری رہے انہوں نے جامعات کے سربراہوں پر زور دیا کہ اس سلسلے میں صوبائی حکومت سے بھرپور تعاون کریں اور یونیورسٹیوں کی ترقیاتی سکیموں کے ساتھ ساتھ تعلیم و تحقیق کا معیار بہتر بنانے کیلئے قابل عمل اور جاندار سفارشات سامنے لائیں وہ وزیر اعلیٰ ہاؤس پشاور میں اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاورکے بعض تعلیمی اور انتظامی معاملات سے متعلق اجلاس کی صدارت کر رہے تھے جس میں صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مشتاق غنی ، وزیراعلیٰ کے مشیر برائے منصوبہ بندی و ترقیات میاں خلیق الرحمان، ایس ایس یو کے سربراہ صاحبزادہ سعید احمد، سیکرٹری اعلیٰ تعلیم سید ظفر علی شاہ،سیکرٹری خزانہ شکیل قادر، چیف پلاننگ آفیسر محمد زمان خان مروت، اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور کے وائس چانسلرپروفیسر ڈاکٹر حبیب احمد،ڈپٹی رجسٹرار داؤد خان، ڈائریکٹر منصوبہ بندی ڈاکٹر ظہور جان، ڈائریکٹر مینٹنینس پروفیسر ڈاکٹر سلیم خان، پی ڈی اے کے ڈائریکٹر جنرل محمد سریر، وزیر اعلیٰ کے سپیشل سیکرٹری اختر سعید ترک، وزیراعلیٰ کمپلینٹ سیل کے چئیرمین الحاج دلروز خان اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی وزیر اعلیٰ نے یونیورسٹی کے بعض اہم شعبہ جات کی تعمیر کیلئے ریگی للمہ ٹاؤن شپ میں 55کنال اراضی کی الاٹمنٹ سے متعلق پی ڈی اے حکام کو اس کا ہمدردانہ جائزہ لینے اور گورنمنٹ ریٹ پر پلاٹ فراہمی کی ہدایت کی ۔ انہوں نے اسلامیہ گرلز کالج کی اپ گریڈیشن ،گرلز ھاسٹل کیلئے ایمبولینس اور بڑھتے ہوئے مالی اخراجات کے ضمن میں 19کروڑ روپے گرانٹ کے مطالبات کا بھی مناسب سطح پر جائزہ لینے کا یقین دلایا تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ یونیورسٹی انتظامیہ اس تاریخی مادر علمی کی زندہ جاوید روایات کو برقرار رکھتے ہوئے مختلف شعبوں میں تعلیم و تحقیق کے اعلیٰ معیار کو فروغ دے گی اور جوہر قابل پیدا کرے گی۔

مزید : کراچی صفحہ اول