آزاد کشمیر کا خطہ یہاں کے عوام نے آن کا نذرانہ دیکر حاصل کیا:سردار مسعود خان

آزاد کشمیر کا خطہ یہاں کے عوام نے آن کا نذرانہ دیکر حاصل کیا:سردار مسعود خان

مظفرآباد (بیورورپورٹ)پاکستان ہمیں دل و جان سے زیادہ عزیز ہے۔ کشمیر کے عوام پاکستان سے محبت کرتے ہیں۔ اگر انڈیا زبردستی مقبوضہ علاقہ نہ چھینتا تو آج پورا کشمیر پاکستان کا حصہ ہوتا۔ کشمیر کے دریاؤں کا، ندی نالوں کا اور اس کے قدرتی راستوں کا رخ پاکستان کی طرف ہے۔ آزاد کشمیر کا خطہ یہاں کے لوگوں نے اپنے خون کا نذرانہ دے کر حاصل کیا۔ اور اگر ایسا نہ ہوتا تو ہندوستانی افواج آج کوہالہ اور منگلا پل پر بیٹھی ہوتی۔ صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان نے ان خیالات کا اظہار یہاں ایوان صدر مظفرآباد میں پاکستان سے آئے ہوئے بائیسویں سینئر مینجمنٹ کورس کے اعلیٰ آفیسران سے خطاب کرتے ہوئے کیا جنہوں نے صدر سے آج ایوان صدر میں ملاقات کی۔ صدر نے مزید خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سی۔پیک کے ذریعے پاکستان اور آزاد کشمیر میں ترقی کا انقلاب آئے گا بلکہ خطے کے مختلف ممالک بھی ایک دوسرے کے قریب آ جائیں گے۔ اُن کے تجارتی روابطہ میں تقویت آئے گی، اس سے باہمی روڈ انفراسٹرکچر اور ریلوے کا نظام مستحکم ہو گا۔ صدر آزاد کشمیر نے شرکاء کے مختلف سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور آزاد کشمیر میں چین کی سرمایہ کاری سے نہ صرف توانائی کا بحران ختم ہو جائیگا۔ بلکہ پاکستان توانائی کے شعبے میں سرپلس ہو جائے گا۔ آزاد کشمیر میں اس وقت 6500 میگا واٹ پن بجلی پیدا کیے جانے کی صلاحیت موجود ہے۔ جبکہ آزاد کشمیر کی بجلی کی اپنی ضرورت صرف 400 میگاواٹ ہے۔ نیلم جہلم ہائیڈل پراجیکٹ کے ذریعے 969 میگاواٹ، کروٹ ڈیم کے ذریعے 720 میگا واٹ اور کوہالہ ہائیڈل پراجیکٹ کے ذریعے 1124 میگاواٹ بجلی پیدا ہو گی۔صدر مسعود خان نے آزاد کشمیر میں تعلیمی میدان میں حاصل کردہ کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس پانچ سرکاری یونیورسٹیاں، تین میڈیکل کالجز اور درجنوں ڈگری کالجز موجود ہیں جن سے آزاد کشمیر کے طلباء و طالبات مستفید ہو رہے ہیں۔ آزاد کشمیر میں شرح خواندگی کا تناسب پورے ملک میں سب سے زیادہ ہے اور یہ 85% سے زائد ہے۔ یہاں تعلیمی اداروں میں داخل ہونے والے طلباء کی شرح سب سے زیادہ ہے اور باالخصوص طالبات کے داخلوں کا تناسب خاصا حوصلہ افزاء ہے۔صدر نے کہا کہ ہم نے دو دن قبل میرپور میں مسٹ یونیورسٹی اور ایک امریکن based بین الاقوامی تنظیم Dice کے درمیان معاہدہ کیا جس کے تحت وہ یونیورسٹیز میں ریسرچ سکالرز کو طبی میدان میں، زراعت کے شعبہ میں، ٹیکسٹائل کے شعبہ میں اور دیگر صنعتی شعبوں میں جدت لانے اور اِن کی پیداواری صلاحیت کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے کے لیے ضروری فنڈز اور تربیت دینگے۔ صدر مسعود نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے مزید کہا کہ آزاد کشمیر کا خطہ باالخصوص نیلم معدنیات سے مالا مال ہے۔ یہاں پر ماربل، گرینائٹ، گریفائٹ، سونے اور کوئلے کے بے شمار ذخائر موجود ہیں اور اسی طرح انتہائی قیمتی پتھر روبی (Ruby)، سیفائر (Sapphire)، ٹوپاز(Topaz)، ٹورمالین (Tourmaline) بھی موجود ہیں۔ ان قیمتی معدنیات کی extraction سے کروڑوں اور اربوں روپیہ کمایا جا سکتا ہے اور اُسے آزاد کشمیر کی عوام کی خوشحالی کیلئے صرف کیا جا سکتا ہے۔صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ پہلے دنیا Bipolar تھی، پھر unipolar بنی اور اب multipolar کی طرف تیزی سے گامزن ہے۔ ہمیں بدلتے ہوئے معاشی زاویوں کو مدنظر رکھتے ہوئے دنیا کی تمام اقوام و ممالک سے اپنے معاشی اور تجارتی تعلقات استوار کرنے چائیے۔ اسی طرح ہم آگے بڑھ سکتے ہیں۔ صدر آزاد کشمیر نے اپنے خطاب میں پاکستان سے آئے ہوئے آفیسران پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آپ جہاں بھی جائیں اور جس حیثیت میں بھی اپنی خدمات سرانجام دیں۔ آپ مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کی جدوجہد آزادی اور اُن کے حق خودارادیت کے حصول کے لیے حمایت جاری رکھیں۔صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ ہندوستان مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور پامالیوں کا مرتکب ہو رہا ہے۔ کشمیریوں کی نسل کشی اور مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کا ارتکاب کر رہا ہے۔ لیکن وہ دن دور نہیں جب مقبوضہ کشمیر کے عوام آزادی کا اپنا پیدائشی حق لے کر رہیں گے اور یہ آزادی ہم اقوام عالم سے بھیک مانگ کر نہیں بلکہ اپنا خون دے کر انشاء اللہ ایک دن ضرور لے کر رہیں گے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر