کلفٹن پلاٹ ،غیر قانونی الاٹمنٹ ، مصطفی کمال نیب میں پیش

کلفٹن پلاٹ ،غیر قانونی الاٹمنٹ ، مصطفی کمال نیب میں پیش

کراچی(اسٹاف رپورٹر )سابق سٹی ناظم اور پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفی کمال جمعرات کوکلفٹن میں پلاٹ کی غیر قانونی الاٹمنٹ کیس کے سلسلے میں نیب میں پیش ہوئے۔تفصیلات کے مطابق کلفٹن میں پلاٹ کی غیر قانونی الاٹمنٹ کیس میں نیب کی طلبی کے بعد سابق سٹی ناظم اور پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفی کمال نیب کے دفتر پہنچے۔اس موقع پر ان کے ہمراہ وسیم آفتاب اور سابق وزیرصحت سندھ ڈاکٹر صغیربھی ساتھ تھے۔ذرائع کے مطابق مذکورہ پلاٹ کی غیر قانونی الاٹمنٹ مصطفی کمال کے دور نظامت میں ہوئی۔ مصطفی کمال کیس میں دوسری مرتبہ نیب میں پیش ہوئے ۔اس موقع پر مصطفی کمال نے میڈیا سے بات چیت میں کہاکہ نیب نے مجھے گزشتہ روزبلایا تھا، آج میں آگیا۔ میری نظامت کے زمانے کا مسئلہ ہے جو کچھ بھی نہیں۔ ملک میں کچھ ایسے مائنڈ سیٹ ہیں جو کھیل کھیل رہے ہیں اور محب وطن لوگوں کو بدظن کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں سیاست میں نہ آتاتومیرے خلاف کیس نہ بنتا، میری سیاسی جدوجہدکے بعدیہ کیس بنایاگیا، میری پارٹی مشہورنہیں ہوتی تونیب کا یہ لیٹرنہیں ملتا،کوئی آئن سٹائن سوچ رہاہے کہ مجھ پرلاک لگایاجائے۔میں نے کراچی میں ریکارڈ ترقیاتی منصوبے بنائے۔ 5 سال تک کراچی میں راتوں کو جاگ کر خدمت کی۔ میرے وقت میں کراچی نہیں بنتا تو آپ گھروں سے نہیں نکل سکتے تھے۔مصطفی کمال نے کہاکہ300 ارب میں نے اپنے ہاتھوں سے خرچ کیے مجھ پر 3 روپے کی کرپشن کا الزام نہیں ہے۔ مصطفی کمال نے کہاکہ رنگ ونسل کے امتیازکے بغیرلوگوں کی خدمت کی،مجھ پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں،شہر میں میرا کوئی شادی ہال ہے نہ پٹرول پمپ اور نہ ہی ملک سے باہر میری کوئی پراپرٹی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے سیاسی سرگرمیاں شروع کرنے کی سزا دی جارہی ہے۔چیئرمین پی ایس پی نے کہاکہ پاکستان آکر پی ایس پی نہ بناتا توکیا مجھ پرکیس بنتا؟آج مجھے دوسری بار نیب آفس بلایا گیا۔انہوں نے کہا کہ میں اپنے بچوں کو روتا چھوڑ کر ’’را‘‘کے ایجنٹ کو بے نقاب کرنے کا مشن لے کر پاکستان آیا تھا۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر