دھمکیوں سے نہیں ڈرتے ،ٹرمپ فیصلے کے بعد امریکہ ثالث کی حیثیت کوھچکا :فلسطینی وزیر خارجہ

دھمکیوں سے نہیں ڈرتے ،ٹرمپ فیصلے کے بعد امریکہ ثالث کی حیثیت کوھچکا :فلسطینی ...

نیویارک ( مانیٹرنگ ڈیسک) مقبوضہ بیت المقدس کے معاملے پر امریکی فیصلے کے خلاف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا ہنگامی اجلاس ہوا جس میں امریکی فیصلے کے خلاف یمن اور ترکی کی مشترکہ قرارداد پر ووٹنگ ہو ئی۔اقوام متحدہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیلی مندوب کا کہنا تھا کہ یہودیوں کی مقدس کتاب بائبل میں القدس کا تذکرہ600سے زائد مرتبہ آیا ہے، یروشلم اسرائیلی تاریخ کا حصہ ہے۔جنیوا کی قرارداد اور اقوام متحدہ کی کوئی بھی قرارداد ہمیں یروشلم کے مطالبے سے پیچھے نہیں کر سکتی،آپ لوگ اندھے ہیں اور فلسطینیوں کی کٹھ پتلیوں کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ آپ تمام لوگ فلسطینیوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔ اسرائیل پر حملے اور دیگر معاملات پر اقوام متحدہ کا دوہرا معیار ہمیں قابل قبول نہیں۔عرب ممالک نے کئی مرتبہ اسرائیل کی امن کی کوششوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ اسرائیلی شہریوں پر میزائل حملے ہوئے، ہماری گلیوں کو خون میں نہلایا گیا مگر اقوام متحدہ اس موقعے پر خاموش ہورہا۔جن لوگوں نے اقوام متحدہ میں قرارداد پیش کی ہے وہ دہشت گردوں کے سپانسر ہیں۔ یمن القاعدہ اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کی پشت پناہی کر رہا ہے مگر اقوام متحدہ اس کے حوالے سے کوئی آواز بلند نہیں کرتا۔ اسرائیلی حکومت اپنے شہریوں پر ہونے والے حملوں کو کبھی برداشت نہیں کرے گا۔ آج کی قرارداد تاریخ مٰیں ردی کی ٹوکری میں پھینک دی جائے گی۔اقوام متحدہ کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی مندوب نکی ہیلی کا کہنا تھا کہ ہم اقوام متحدہ کے ذریعے دنیا بھر کے ممالک میں بھوکے افراد کو خوراک اورکپڑے دیتے ہیں ، امریکہ اقوام متحدہ کو فنڈز دینے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا فیصلہ1995ء کے قانون کے تحت کیا گیا ہے اور امریکی مفادات کے تحت کیا گیا ہے، اس فیصلے سے قیام امن کے پالیسیوں کو خطرہ پیدا نہیں ہوگا، دنیا کے کئی ممالک امریکی مداخلت ہی کی بدولت اپنے مسائل حل کرتے ہیں اور اس قرارداد کے ذریعے امریکہ کی توہین کی گئی ہے۔اقوام متحدہ کی اس قرارداد کی منظوری بھی امریکہ کو اپنے فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹا سکتی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے فلسطین کے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہم امر یکہ کی دھمکیوں سے ڈرنے والے نہیں ، ٹرمپ کے فیصلے کے بعدامر یکہ ثالث کی حیثیت کھوچکاہے۔ امریکی فیصلے سے قبل سلامتی کونسل میں امریکہ نے قراردادویٹو کردی تھی جبکہ سلامتی کونسل کے15میں سے 14ارکان نے قراردادکی حمایت کی تھی۔جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وینزیویلا کے صدر کا کہنا تھا کہ اسرائیل اور فلسطین کے تنازعہ کا دو ملکی حل نکالنا ہوگا اور اسرائیلی فورسز کو 1967ء سے پہلے کی سرحدوں تک محدود کرنا ہوگا ، ہم فلسطینی عوام کی بھرپور حمایت کرتے ہیں اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا حل پیش کرتے ہیں اور ہمارا مطالبہ کہ القدس کو فلسطین کا دارلحکومت قرار دیا جائے۔

القدس

مزید : کراچی صفحہ اول