کیا بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے امریکی فیصلے میں سعودی عرب کی رضا مندی بھی شامل تھی؟ ساری حقیقت سامنے آگئی

کیا بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے امریکی فیصلے میں سعودی ...
کیا بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے امریکی فیصلے میں سعودی عرب کی رضا مندی بھی شامل تھی؟ ساری حقیقت سامنے آگئی

  

جده (محمد اكرم اسد) سعودی عرب  کے محکمہ خفیہ کے سابق سربراہ شہزادہ ترکی الفیصل نے کہا ہے کہ القدس پر امریکی صدر ٹرمپ کے فیصلے سے خطے میں تشدد کو ہوا ملے گی۔

شہزادہ ترکی نے بین الاقوامی خبررساں ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا امریکی فیصلہ انتہائی برا ہے، اس کے نتیجے میں مزید خونریزی ہوگی اور کشمکش میں اضافہ ہوگا جبکہ امن عمل کا سلسلہ منقطع ہوگا۔

انہوں نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے امریکی فیصلے پر سعودی عرب کے کسی بھی قسم کے کردار کی تردید کردی ۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس حوالے سے پہلے سے مشاورت ہوئی ہوتی تو شاہ سلمان ٹرمپ کو یہ پیغام کیوں دیتے کہ یروشلم کے حوالے سے ان کی سوچ  غلط ہے ۔ اس کا برملا اظہار کیوں کرتے؟ میں یہ نہیں سمجھتا کہ اس فیصلے سے قبل اس پر کوئی بات چیت ہوئی ہو۔

مزید : عرب دنیا