سیاستدانوں کی تربیت کابھی ادارہ ہونا چاہئے

سیاستدانوں کی تربیت کابھی ادارہ ہونا چاہئے
سیاستدانوں کی تربیت کابھی ادارہ ہونا چاہئے

  

 ملک کے نظام کی طرح سیاست کے میدان میں  لوٹوں اور لفافوں دونوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے ۔ سیاسی پارٹیوں  کے اندر عمومادو قسم  کے افراد پائے جاتے ہیں  ایک نظریاتی  اور  دوسرے مفاداتی ۔ پارٹی قیادت  اپنی  ضرورت و ڈیمانڈکے تحت  بڑے بڑے وڈیروں، نوابوں ، چوہدریوں، ملکوں کو پارٹیوں کی رکنیت ان کی سیاسی اثر و رسوخ  ،  قد کاٹھ اور دھڑوں بندیوں کی وجہ سے  آفر کرتی ہیں۔یہ  سیاسی جماعتیں انتخاب اور الیکشن   پروسیس کے دوران ایسےافراد   کی کھوج میں رہتی ہیں جن کو چمک و دھمک اور لالچ  سے خرید کر اپنے ساتھ شامل کر  پارٹی کو مضبوط بنایا جا سکے ۔ سیاسی سسٹم میں  لوٹے اپنے مستقبل کی راہوں کو محفوظ بنانے کے لئے  اس  آفر و انتظار کی لائن میں لگے  رہتے ہیں۔

دوسری قسم  ایسے سیاسی جانشینوں   کی ہے  جو  خود  جماعت یاپارٹی کی گرتی ہوئی ساخت ، حکومت کے خاتمے ، قومی اسمبلی ، صوبائی اور سینٹ کی رکینت کے لالچ کے ساتھ اپنے دیگر  ذاتی فوائد کے حصول کے لئے لوٹے بن جاتے ہیں ۔  عہدوں کے ساتھ  جو اپنی ساخت  ، ذاتی مفاد اور  فوائد  کو حاصل کرنے کے لئے ایک  سیاسی پارٹی سے دوسری سیاسی  پارٹی کو جوائن کرنے کی میوزک چئیر کا  ڈرامہ عرصہ دراز سے  کھیل  رہے ہیں۔

 سیاسی قیادت  کی ہہ وقت  کوشش رہتی  ہے کہ وہ  شامل اقتدار  ہوں ، چاہیے  اس   کےلئے کوئی بھی حربہ اور منصوبہ  آزمانا پڑے۔ سیاسی پارٹی کا تعلق خواہ  کسی بھی پارٹی سے ہو۔۔۔۔  اکثریت حاصل کر کے حکومت بنانے والی پارٹی سے ہو یا ہارنے والی جماعت سے ہو انھیں صرف  اقتدار  اور اختیار  کے نشہ سے غرض ہوتا ہے ۔ ہمارے ہاں توحزب اختلاف بھی حکومتی   پے رول پر نظر آتی ہے جو اپنے مفاد  اور فوائد کے لئے اکٹھی ہیں آخر کیوں نہ ہوں  انھوں نے بھی تو اپنادال دالیہ یہاں سے ہی کمانا ہے۔ 

 جیتنے والے اور  منتخب ہونے  والے ممبر کا تعلق حکومت بنانے والی پارٹی سے ہوتو پھر اس کا سر کڑاہی میں اور پانچوں گھی میں ہوتا ہے ، بصورت دیگر ہارنے کی صورت میں اُس کی کوشش ہوتی ہے کہ کسی نہ کسی طرح  حکومت سے اپنا حصہ ضرور سمٹیں ۔ اکثریت   ممبران یہ کہتے ہوتے" عوام کے وسیع تر مفاد ، ضمیر کی  آواز " پر گروپ اور فارورڈبلاک  کی صورت میں حکومت کا حصہ بنے ہیں ۔بعض اوقات یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ سیاسی پارٹی الیکشن میں منتخب ہونے والے ممبران  سے  بارگینگ  کرتی ہیں،"مک مکا،تم بھی  کھائو ا  ۔۔۔ جو کجھ مل دا جیب وچ پاو،جیسی " ڈیل آفر کرتی ہیں اور جب کبھی  یہ   سیاسی پارٹیاں اپنی کئی گئی ڈیل مکمل نہ کریں  یا جو   وعدہ وعید   ان  ممبران سے طےکئے گئے ہوں یا  بارگینگ  سے انحراف (مثال کے طور پر مشیر یا  وزارت وغیرہ نہ ملے) کیا جائے  تو یہ ممبران حکومت کے خلاف ریشہ دوانی شروع  کر دیتے ہیں اور پھر اگلے الیکشن میں یہ ممبران  کسی نئی پارٹی  میں لوٹے بن کے شامل ہو  جاتے ہیں ۔

  الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کے اصول  کتابوں میں سجی ہوئی دلہن کی طرح خوش نما اور دل کش ضرور ہیں لیکن الیکشن  اور انتخاب کے دوران ان اصولوں   کی  دھجیاں کس طر ح اُڑا جاتی ہیں اس کی واضح  مثالیں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ آمریت اور جمہوریت کے ادوار میں لوٹے  آزادانہ طور پر اپنے مقام ، حیثیت  اور جگہ بدلتے رہے ہیں لیکن گزشتہ  دو ادوار سے اب ان کی آزادانہ   حرکت  بظاہر نظر نہیں آتی۔

افسوس کہ سیاستدانوں کے نہ  کوئی عقائد ہیں نہ  نظریات۔ نہ ہی ملک و قوم کی فلاح و بہبود کے لئے ان کے پاس پالیسیاں ہوتی ہیں۔بلکہ ان کا واحد اور بنیادی نظریہ اور مقصدہے اقتداراور ہمہ وقتی اقتدار اور اس کے ذریعے قوم کے خزانوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹناہے۔چونکہ سیاستدانوں کا واحد مقصد اقتدار ہے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ عوام ایسی پارٹیوں کو کیوں منتخب کرتے ہیں؟جن کے نہ تو کوئی نظریات ہیں اور نہ اصول اور نہ ہی کوئی پالیسیاں ۔ جب  سیاسی پارٹیوں کے اندر جمہوری نام کی کوئی چیز موجود نہیں ، فرد واحد کے فیصلے ہوتے  ہیں جو پارٹیوں کے ممبران کو ماننے پڑتے ہیں یہی حال حکومتوں کا ہے کہ فرد واحد کے آگے کس کی جرات  اور مجال کہ عوام کے مسائل کو پارٹی قیادت کے آگے اٹھا سکے۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ پارٹی سربراہوں کوارکان کی اصلیت معلوم ہوتی ہے،ان کا چارہ معلوم ہوتا ہے ۔ان کا دام لگا کر وہ انہیں اپنے ساتھ رکتھے اور پھر ان سے اپنی تابعداری کراتے ہیں۔ملک کو جمہوری طور مضبوط کرنا ہے تو سب سے پہلے سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں کی تربیت کرنا ہوگی۔کوئی ایسا قومی ادارہ بنانا ہوگا جہاں انکی تربیت کی جاسکے۔ڈاکٹر،انجینئر،استاد،جج،فوجی  ،بیوروکریٹ  جیسے دیگرشعبوں کے تربیت یافتہ لوگوں کی طرح ،سیاستدان کو بھی کو تربیت کی ضرورت ہے۔تاکہ انہیں معلوم ہو لوٹا کریسی کے ساتھ اور کسی اصول و عقیدہ کے بغیرملک کو نہیں سنبھالا جاسکتا ۔

۔۔۔۔

 نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ