انصاف کب ہوگا؟

انصاف کب ہوگا؟
 انصاف کب ہوگا؟

  

باد شاہ وقت کا حکم ہے زبانیں سی لی جائیں، آنکھوں پر مستقل پٹیاں باندھ دی جائیں اور لکھنے والوں کے قلم توڑ دئیے جائیں۔ اس سکوت میں واعظ کی اجازت صرف درباریوں تک محدود کر دی جائے اور اگر اس حکم عظیم کی خلاف ورزی کی جائے تو ایسے کردار کو دار پر چڑھا دیا جائے ۔کئیبار سوچا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن پر کچھ لکھوں۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس پہ سوچتے ہوئے بھی انسان کانپ جاتا ہے مگر صد حیف کہ آج تک ایک بھی ملزم قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکا ۔کئی سوال اٹھتے ہیں کیا قانون صرف امیرزادوں کا ہے ۔کیا قانون صرف حکومتی کارندوں کا آلہ کار ہے۔ کیا قانون بے حس اور اندھا ہے۔ 

17 جون 2014ء کو پولیس کی فائرنگ سے پاکستان عوامی تحریک کی دو عورتوں سمیت 14 افراد ہلاک اور 90 سے زئدافراد شدید زخمی ہوئے تھے۔ 11 گھنٹے تک جاری رہنے والی یہ کشیدگی اس وقت شروع ہوئی جب پولیس کی تجاوزات ہٹانے والی نفری نے ماڈل ٹاؤن لاہور میں جامعہ منہاج القران کے دفاتر اور پاکستان عوامی تحریک کے بانی و سربراہ ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی رہائش گاہ کے باہر موجود رکاوٹیں ہٹانے کے لیے آپریشن کا آغاز کیاتھا.

وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے  حکم پر ماڈل ٹاؤن واقعہ میں ہونے والی ہلاکتوں کی تحقیقات کے لیے جسٹس باقر علی نجفی پر مشتمل یک رکنی عدالتی کمیشن تشکیل دیا گیا، جس کے احکامات لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس امتیاز علی خواجہ نے جاری کئے، اورمورخہ 12 جولائی کو سانحۂ ماڈل ٹاؤن کی انکوائری کرنے والے جج جسٹس علی باقر نجفی کو سنگین نتائج کا دھمکی آمیز خط موصول ہوا مگر اس کے باوجود انہوں نے اس کیس کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات جاری رکھی ۔

مورخہ 27 جولائی 2014 کو شہبازشریف نے اپنے بیان حلفی میں اقرار کیا کہ سابق صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ کی زیرصدارت ہونے والے اجلاس میں پولیس آپریشن کا فیصلہ کیا گیا، جس سے وہ مکمل طور پر لاعلم رہے ۔حد ہے ایک صوبے کا سربراہ ایک ایسے واقعہ سے لاعلم رہا جس پر ساری دنیا چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی کہ اس بربریت کو بند کیا جائے۔ خیر جسٹس باقر علی نجفی نے تمام تر شواہد کے بعد جو رپورٹ لکھی اس میں وزیر اعلیسمیت کسی کو رلیف نہیں مل سکتا تھا جس پر حکومت نے اس رپورٹ کو مختلف بہانے بناتے ہوئے شائع کرنے سے انکار کر دیا۔ پاکستان عوامی تحریک نے عدالت کا سہارا لیا اور رپورٹ شائع کروا دی جس کے بعد بھی وزیراعلیٰ اور وزیر قانون ٹس سے مس نہیں ہوئے حالانکہ وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا ہوا تھا کہ اگر اس واقعہ میں ان کے ملوث ہونے کے شواہد ملے تو وہ فی الفور استعفیٰ دے دیں گے مگر ایسا نہیں ہوا ۔وزیراعلیٰ سے لے کر ان کے وزراء تک اس انسانیت سوز واقعہ پر خاموش ہیں۔ 

ڈاکڑ طاہر القادری اور انکے رفقاء نے ایک لمبے عرصے تک نہایت صبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس واقعہ پر اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا، مقتولین پر صلح کے لیے مسلسل دبائو ڈالا جاتا رہا۔ مگر  چودہ مقتولین کے گھر والوں نے حکومت سے کسی قسم کی سودے بازی نہیں کی اور اب انکا ایک ہی مطالبہ ہے قصاص جو کہ شرعی حیثیت سے بالکل جائز مطالبہ ہے۔پنجاب حکومت اور وزیر اعلیٰ پنجاب شہبازشریف اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کے لئے اگر کوئی خطرہ موجود ہے تو وہ صرف اور صرف ماڈل ٹاؤن کے چودہ قتل ہیں ۔اکثر اوقات ان کے جوشِ خطابت میں جناب حبیب جالب صاحب کی نظم ایسے دستور کو صبح بے نور کو میں نہیں مانتا سننے کو ملتی ہے مگر اب ان کے ایسے واعظ پر صرف ہنسی ہی آتی ہے، اکثر اوقات تو یہ بھی شک ہونے لگتا ہے کہ پاکستان واقعی اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے یا صرف نام کا اسلامی ملک رہ گیا ہے ۔ 

باقر نجفی رپورٹ کے شائع ہونے کے بعد جہاں چیرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان آصف علی زرداری مصطفیٰ کمال ،چوہدری برادران اور دوسری مذہبی اور سیاسی جماعتوں نے کھل کر ماڈل ٹاؤن سانحے پر ڈاکڑ طاہر القادری کا ساتھ دینے کا اعلان کیا وہیں پر مسلم لیگ نواز کے اندرونی اختلافات اور شریف فیملی کے اندرونی اختلافات بھی کھل کر سامنے آئے ہیں ۔دوسری جانب نواز لیگ کے متعدد ارکان اسمبلی کے استعفے اور دوسری پارٹیوں میں شمولیت یقیناً نوازشریف اور شہباز شریف کے عروج پر زوال کے نشانات ہیں ،آنے والے کچھ دن پاکستانی سیاست میں بہت اہم ہیں ۔اگر طاہر القادری نے پاکستان میں رہ کر اپنے کیس کی پیروی کی تو کچھ بڑے نام جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہوں گے۔

۔۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ