ایک اور جراتمند پولیس والا شہید ہوا

ایک اور جراتمند پولیس والا شہید ہوا
ایک اور جراتمند پولیس والا شہید ہوا

  

میں آج بہت افسردہ ہوں۔ایک ہفتہ پہلے میں اس مرد رعنا سے ملا تھا ۔جراتمنداور بہادر پولیس انسپکٹر رحیم بخش کودیکھ کر مجھے یقین تھا کہ ایسے پولیس والے ہی بلوچستان کی پولیس کا اثاثہ ہیں اور یہی آگے بڑھیں گے تو دہشت گردی کا خاتمہ ہوگا....لیکن سفاک ڈاکووں نے اسے اپنی راہ سے ہٹا دیا ہے۔اس نے جرات و بہادری کی ایک اور مثال قائم کرکے بلوچستان کی پولیس کا سر اونچا کردیا ہے۔جاں نثار کرتے ہوئے اس نے امن کے دشمن ڈاکووں کو جہنم واصل کرکے بلوچ عوام کو ایک عفریت سے نجات دلائی ہے۔

بلوچستان کی تاریخ پولیس کی قربانیوں سے بھری پڑی ہے ۔ریکارڈ کے مطابق رواں سال بلوچستان میں چار خودکش دھماکے ہوئے جن میں41 پولیس اہلکار شہید اوردرجنوں پولیس اہلکار زخمی بھی ہو چکے ہیں۔ 1979ء سے اب تک بلوچستان پولیس کے868 اہلکاروں نے اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران شہادت کا رتبہ حاصل کیا ہے ۔ ان میں تین ڈی آئی جی ،ایک ایس ایس پی ،دو ایس پی ، اٹھارہ ڈی ایس پی اور 24 انسپکٹر بھی شامل ہیں ۔گزشتہ پانچ سال توبلوچستان پولیس کے جوانوں پہ بہت بھاری گزرے ہیں ۔ لیکن پھر بھی بلوچستان پولیس پہ انگلیاں اٹھتی ہیں۔ 

رحیم بخش مری سے گزشتہ ہفتہ امن عامہ کی حالت پر پولیس کے عزائم جاننے کے لئے میں انکے پاس تھانہ میں گیا اور انکی باتیں سنیں۔وہ تحصیل گنداخہ کے پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او تھے ۔اس روز رحیم بخش مری نے کہا تھا” میں پولیس کو سب سے زیادہ مظلوم طبقہ سمجھتا ہوں۔ اچھے برے لوگ ہر طبقہ میں ہوتے ہیں لیکن ہماری اوّلین کوشش ہے برے لوگوں کو بھی سیدھے راہ پہ لائیں ۔ جس کسمپرسی سے پولیس والے زندگی گزارتے ہیں وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں اور جن مشکل ترین حالات میں بلوچستان پولیس اپنے فرائض انجام دیتی ہے مجھے اس کا مکمل ادراک ہے اس لئے مجھے ہمیشہ پولیس سے ہمدردی رہی ہے اور میں بھر پور انداز میں پولیس کا دفاع بھی کرتا ہوں۔ اس وقت بلوچستان پولیس حالت جنگ میں ہیں۔ ہمارے حوصلے بلندہیں ۔ اپنے فرائض کی انجام دیتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف صف اوّل میں رہیں گے“

رحیم بخش نے پولیس نظام کی خامیوں پر بھی بات کی۔یہ باتیں سب پولیس والے کرتے اور جانتے ہیں کہ پولیس کی راہ میں اصل کیا رکاوٹیں ہیں۔اللہ کرے بلوچستان میں پولیس ریفارمز ہوں اور پولیس کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کا پورا موقع مل جائے۔

..

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ