” بھٹونے مارشل لا لگانے پر ضیا الحق کو سراہا اور کہااب ہم دونوں مل کر یہ کام کریں گے “ ایک ایسا انکشاف جسے سنتے ہی جیالوں پر سکتہ طاری ہوجائے گا

” بھٹونے مارشل لا لگانے پر ضیا الحق کو سراہا اور کہااب ہم دونوں مل کر یہ کام ...
” بھٹونے مارشل لا لگانے پر ضیا الحق کو سراہا اور کہااب ہم دونوں مل کر یہ کام کریں گے “ ایک ایسا انکشاف جسے سنتے ہی جیالوں پر سکتہ طاری ہوجائے گا

  

لاہور(ایس چودھری)پیپلز پارٹی کے علاوہ ملک بھر کے دانشور جنرل ضیا الحق کو ایک جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر مارشل لگانے پر انہیں معتوب ٹھہراتے ہیں ۔پیپلز پارٹی کا استدلال یہی رہا ہے کہ ضیاءالحق بدنیت تھے ،انہوں نے منتخب وزیر اعظم بھٹوکو تخت سے تختہ دار تک پہنچادیا ۔بھٹو نے مارشل لا کے سامنے سرنڈر نہیں کیاتھا لیکن سابق لیفٹننٹ جنرل فیض علی چشتی کا کہنا ہے کہ بھٹو مارشل لا لگانے پر ناراض نہیں ہوئے تھے۔بلکہ پیپلز پارٹی کی سینئر قیادت اور بھٹو صاحب کو پورا یقین تھا کہ مارشل لا لگایا جائے گا ۔اگر وہ مارشل لا کے خلاف تھے تو انہوں نے سازش کے خلاف فوری اقدامات کیوں نہ اٹھائے ۔

معروف صحافی و تجزیہ کار روف طاہر نے جنرل چشتی کا ایک یادگار انٹرویو کیا تھا جو بعد ازا ں اردو ڈائجسٹ میں بھی شائع ہوا تھا ،اس انٹرویو میں انہوں نے جنرل ضیا الحق کے مارشل لا لگانے اور بھٹو کے طرز عمل پر ان سے کڑے سوالات کرتے ہوئے ان کی یادوں کو کریدا تو جنرل چشتی نے انکشاف کیا کہ ٹیک اوور کے دس روز بعد ، پندرہ جولائی کو ضیاء الحق انہیں (بھٹو)ملنے مری گئے تو میں بھی ساتھ تھا۔جب ہم دونوں بھٹو کے کمرے میں گئے تو ان سے یہ ملاقات ٹھیک ٹھاک رہی ۔جنرل چشتی کا کہنا ہے کہ بھٹو نے ٹیک اوور کئے جانے پر کہا” اچھا ہوا آپ نے ٹیک اوور کر لیا۔Clean  the  Mud ۔ پھر ہم اکٹھے ملک چلائیں گے“اس ملاقات میں کوئی تلخ کلامی نہیں ہوئی۔ آپ خود سوچیں، فوج نے ٹیک اوور کر لیا ہے۔ ایک معزول وزیراعظم میں یہ جرات ہو سکتی ہے کہ جرنیلوں سے اس طرح بات کرے؟ ہمارا معاملہ دیکھیں۔we  were respectful  to  him ۔ ہمیں پتہ ہے کہ کل یہ پھر پرائم منسٹر ہو سکتا ہے۔ ہم تو پہلے بھی کہتے رہے تھے کہ آپ الیکشن کرا دیں، دوبارہ منتخب ہو جائیں گے۔ ہمیں تو کوئی ڈر خوف نہیں تھا۔ ہم نے کون سا غلط کام کیا تھا کہ ہمیں کوئی پھانسی دیدے گا“

مزید : ڈیلی بائیٹس