پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کے رولز پر اطباءنے شدید تحفظات کا اظہار کردیا

پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کے رولز پر اطباءنے شدید تحفظات کا اظہار کردیا
پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کے رولز پر اطباءنے شدید تحفظات کا اظہار کردیا

  

لاہور (مشرف زیدی سے) پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کی جانب سے اطباءکی ٹریننگ کا آغازہو چکا ہے ۔گزشتہ روز پہلی ٹریننگ ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ اسی موقع پر پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کی جانب سے ایم ایس ڈی ایس یعنی مطب چلانے کے کم از کم معیارات متعارف کروائے گئے۔ جس پر ٹریننگ پر آئے تقریباً سبھی اطباء نے احتجاج ریکارڈ کروایا۔ پی ایچ سی کی جانب سے پابندی عائد کی گئی ہے کہ مریض کو دی گئی دوا کا نسخہ مکمل اجزاءکے ساتھ تحریری طور پر دیا جائے‘ جس میں کوئی کوڈ شامل نہ ہو۔ جس پر اطباءکا موقف ہے کہ ایک مرکب دوا جو بیس اجزاءپر مشتمل ہے‘ ہم اگر تین مرکبات ملا کر مریض کو دیتے ہیں تو تینوں کے کل اجزاءنسخہ پر لکھ کر دینا ممکن نہیں ۔

ٹریننگ میں موجودوفاق اطباءپاکستان کے ممبر اور طبیہ کمیٹی قصور کے سیکریٹری انفارمیشن حکیم محبوب الٰہی نے ڈیلی پاکستان آن لائن سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ طبیب نے سال ہا سال کی تعلیم اور تجربہ سے یہ سیکھا کہ کچلہ فالج میں کب اور کتنی مقدار میں مفید ہے۔ جب طبیب نسخہ پر کچلہ لکھ دے گا تو مریض اسے لینے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہو گا۔ اس سے بری صورتحال سنکھیا کے استعمال کی صورت میں ہو سکتی ہے اور بھی بہت سی مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ سادہ مثال یہ کہ ہم ایک مرکب استعمال کرواتے ہیں ”سوسی “جو تین اجزاءہلدی ملٹھی سونف پر مشتمل ہے ۔ اب جب ہم نسخہ پر لکھ کر دیں گے کہ اس میں ہلدی ملٹھی سونف شامل ہے تو ایسے کئی مریض اس پر اعتراض کریں گے کہ یہ تو پانچ روپے کی دوا ہے جس کے تم دوسو روپے لے رہے ہو ۔ وہاں مریض یہ نہیں سوچتا کہ اس کو تجویز کرنے کی صلاحیت حاصل کرنے تک طبیب کے کتنے تعلیمی سالوں کی محنت اور اخراجات شامل ہیں. طبیب کس کس ادارے کو اپنی اسناد ویری فیکیشن لائسنسنگ اورٹیکسسز کی مد میں کتنا خرچہ کرتا ہے ۔ ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ تمام ایلو پیتھی ڈاکٹرز اپنے کلینک سے دی جانے والی تمام ادویات کوڈز میں لکھتے ہیں جنہیں کوئی دوسرا شخص پڑھ ہی نہیں سکتا سوائے اس کے ڈسپینسر کے . اور کلینک سے دی جانے والی ادویات کا کوئی ریکارڈ مریض کو فراہم نہیں کیا جاتا. جبکہ ہمارے لیے ایم ایس ڈی ایس میں لکھا ہے کہ نسخہ میں کوئی کوڈ شامل نہ ہو۔حکیم محبوب الٰہی کا کہنا تھا کہ ارباب اختیاران اس پر توجہ فرمائیں اور اس سلسلہ میں ایک اہم ترین سوال جو اٹھتا ہے وہ یہ ہے کہ ان ایم ایس ڈی ایس کے سلسلہ میں ہمارے کون کون سے طبی قائدین کی میٹنگز پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کے ساتھ ہوئی تھیں اور یہ ایم ایس ڈی ایس کن کن لیڈران کے دستخطوں سے منظور ہوئے؟

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور