بھارتی اداکارہ کی ایک خوبصورت تصویر نے مافیا کے خطرناک ترین ڈان کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچا دیا

بھارتی اداکارہ کی ایک خوبصورت تصویر نے مافیا کے خطرناک ترین ڈان کو جیل کی ...
بھارتی اداکارہ کی ایک خوبصورت تصویر نے مافیا کے خطرناک ترین ڈان کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچا دیا

  

پٹنہ (نیوز ڈیسک) بھارتی ریاست بہار میں ایک چالاک مجرم نے ایک عرصے سے پولیس کو تگنی کا ناچ نچا رکھا تھا۔ بارہا اسے گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی اور ہر بار یہ بچ نکلتا تھا، لیکن بالآخر ایک خاتون پولیس افسر نے اسے ایسے ڈرامائی انداز میں اپنے جال میں پھنسایا کہ ہر کوئی داد دینے پر مجبور ہو گیا ہے۔

گلف نیوز کے مطابق محمد حسین نامی چھلاوہ صفت مجرم متعدد مقدمات میں مطلوب تھا اور پولیس ایک عرصے سے اس کے پیچھے تھی۔ حال ہی میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک رہنما سنجے کمار مہتو نے پولیس کو رپورٹ کی کہ اس کا قیمتی سمارٹ فون چوری ہو گیا ہے۔ پولیس اس معاملے کی تفتیش کر رہی تھی کہ پتا چلا کہ یہ موبائل فون محمد حسین کے زیر استعمال ہے۔ اسے گرفتار کرنے کے لئے چھاپہ مارا گیا لیکن ایک بار پھر وہ بچ نکلنے میں کامیاب ہو گیا۔

اس کیس کی تفتیش میں خاتون اے ایس آئی مدھوبالا دیوی بھی شامل تھی، جس نے محمد حسین کو پکڑنے کے لئے ایک دلچسپ ترکیب سوچی۔ مدھوبالا کو محمد حسین کے کال ریکارڈ سے پتا چلا تھا کہ وہ جنوبی انڈیا کی مشہور اداکارہ نین تارا کے عشق میں مبتلاءہے۔ مدھو بالا نے فیصلہ کیا کہ وہ نین تارا بن کر اسے اپنے جال میں پھنسائے گی، اور اس مقصد میں وہ حیرت انگیز طور پر کامیاب رہی۔

رپورٹ کے مطابق مدھوبالا نے پتا چلایا کہ محمد حسین اداکارہ سے رابطے کی کئی بار کوشش کر چکا تھا لیکن یہ معاملہ آگے نہیں بڑھ رہا تھا۔ مدھو بالا نے ایک نئے نمبر سے محمد حسین کو میسج بھیجا اور خود کو نین تارا ظاہر کر کے اس سے بات چیت کا آغاز کیا۔ وہ ناصرف اداکارہ کی تصاویر اسے اپنے فون سے بھیجتی رہی بلکہ نین تارا بن کر اس سے بات بھی کرتی رہی۔ اسے محمد حسین کو اپنے جال میں پھنسانے میں کسی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور جلد ہی وہ دربھانگا ٹاﺅن کے ایک ریسٹورنٹ میں ملاقات کے لئے آنے پر تیار ہو گیا۔ مدھوبالا کو تو اسی وقت کا انتظار تھا۔ محمد حسین اس سے ملنے کے لئے ریسٹورنٹ پہنچا تو وہاں سادہ کپڑوں میں ملبوس پولیس اہلکار اس کے استقبال کے لئے تیار تھے۔ ریسٹورنٹ میں قدم رکھتے ہیں اسے گرفتار کر لیا گیا۔ اب یہ چالاک مجرم پولیس کی حراست میں ہے اور اس کے خلاف قانونی کاروائی جاری ہے۔

مزید : بین الاقوامی