سائنسدانوں کے بنائے گئے روبوٹ نے صرف 4گھنٹے میں وہ کام کر نا سیکھ لیا جو انسان پوری زندگی لگا کر بھی نہیں سیکھ پاتا

سائنسدانوں کے بنائے گئے روبوٹ نے صرف 4گھنٹے میں وہ کام کر نا سیکھ لیا جو انسان ...
سائنسدانوں کے بنائے گئے روبوٹ نے صرف 4گھنٹے میں وہ کام کر نا سیکھ لیا جو انسان پوری زندگی لگا کر بھی نہیں سیکھ پاتا

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) ماہرین مصنوعی ذہانت کے حامل روبوٹس کو انسانیت کے لیے سنگین خطرہ قرار دے رہے ہیں اور اب ایک روبوٹ نے شطرنج کے کھیل میں ایسا خیرہ کن کارنامہ سرانجام دے دیا ہے کہ سن کر ہر انسان کو روبوٹس کے انسانیت پر غالب آنے کا خطرہ سر پر منڈلاتا نظر آئے گا۔

میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق ماہرین نے ایک ایسا روبوٹ تیار کیا ہے جس نے صرف 4 گھنٹوں میں شطرنج کا کھیل سیکھا اور پھر اس کھیل کے سابق گرینڈ ماسٹر سپرکمپیوٹر کوپے درپے 100بار شکست دے ڈالی۔ اس میں انسانوں کو خوفزدہ کردینے والی یہ بات تھی کہ اس روبوٹ نے محض چار گھنٹے میں گیم سیکھ کر سپرکمپیوٹر کے ساتھ کھیلتے ایسی چالیں چلیں جو شطرنج کی 1500سالہ تاریخ میں کسی انسان یا کمپیوٹر نے نہیں چلی تھیں۔

مثال کے طور پر اس کمپیوٹر نے تاریخ میں پہلی بار شطرنج کے بادشاہ کو مخالف کھلاڑی کے مہروں پر حملہ کرنے کے لیے استعمال کیا۔ اس سے قبل شطرنج کی دستیاب تاریخ میں کبھی کسی نے بادشاہ کو حملے کے لیے استعمال نہیں کیا تھا۔رپورٹ کے مطابق انسانیت کو مات دے ڈالنے والے اس روبوٹ میں سائنسدانوں نے ’الفازیرو‘ نامی مصنوعی ذہانت کا حامل کمپیوٹر پروگرام استعمال کیا اور پہلے چار گھنٹے کے لیے اسے اپنے ساتھ ہی شطرنج کھیل کر خود کو ہرانے کی تربیت دی جس کے بعد اس کا آئی بی ایم کے اُس سپرکمپیوٹر سے مقابلہ کرایا گیا جس نے 1997ءمیں شطرنج کے ’انسان چیمپئن‘ گرانڈ ماسٹر گیری کیسپاروف کو بری طرح شکست دی تھی۔اس نئی ایجاد پر گیری کیسپاروف کا کہنا ہے کہ ”اس نئی مشین کا انسان کے صدیوں میں حاصل کیے گئے علم پر چند گھنٹوں میں غلبہ پا لینا حیران کن ہے۔ یہ روبوٹ دنیا کو بدل ڈالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔“واضح رہے کہ ’الفازیرو‘ برطانوی کمپنی ’ڈیپ مائنڈ‘ (DeepMind)کی ایجاد ہے۔ یہ کمپنی ایسے کمپیوٹرپروگرام تیار کرتی ہے جو خودکار طریقے سے مختلف چیزیں سیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

مزید : سائنس اور ٹیکنالوجی