”اب ہم یہ کام کرنے والے ہیں“ داعش میں شامل ہونے والی نوجوان مغربی لڑکی کا فیس بک پر وہ پیغام جس نے پوری دنیا کے پولیس والوں کی دوڑیں لگوا دیں

”اب ہم یہ کام کرنے والے ہیں“ داعش میں شامل ہونے والی نوجوان مغربی لڑکی کا ...
”اب ہم یہ کام کرنے والے ہیں“ داعش میں شامل ہونے والی نوجوان مغربی لڑکی کا فیس بک پر وہ پیغام جس نے پوری دنیا کے پولیس والوں کی دوڑیں لگوا دیں

  

بغداد(مانیٹرنگ ڈیسک) جرمنی سے فرار ہو کر شام پہنچنے اور داعش میں شامل ہونے والی ایک لڑکی نے فیس بک پر ایسا پیغام جاری کر دیاجس نے پوری دنیا کی سکیورٹی فورسز کی دوڑیں لگوا دی۔

میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق 17سالہ لنڈا وینزل نامی اس لڑکی نے کچھ عرصہ قبل اپنے والدین کو سوشل میڈیاویب سائٹ پر ایک پیغام بھیجا تھا جس میں اس نے کہا تھا کہ ”میں جانتی ہوں کہ جرمنی کے آئین کے حفاظت کرنے والے آفیسرز اور پولیس بھی یہ پیغام پڑھے گی چنانچہ میں اس پیغام میں ان کتوں کے لیے چند الفاظ کا اضافہ کرنا چاہوں گی کہ مستقبل میں داعش جرمنی میں مزید کئی حملے کرے گی، ان کے لیے تیار رہو۔“

رپورٹ کے مطابق لنڈا وینزل2015ءمیں جرمنی سے فرار ہو کر ترکی کے راستے شام پہنچی۔ اس کی انٹرنیٹ پر داعش کے ایک شدت پسند سے ملاقات ہوئی، جس سے اسے محبت ہو گئی اور اس کے کہنے پر اس نے داعش میں شمولیت کا اقدام اٹھایا۔ دو سال تک وہ داعش کی خواتین کی بریگیڈ میں شامل رہی۔ رواں سال جب عراقی فوج نے موصل شہر کوداعش کے قبضے سے چھڑوایا تو اسے ایک تباہ شدہ عمارت سے گرفتار کیا گیا جہاں یہ زخمی حالت میں موجود تھی۔ مذکورہ پیغام بھیجنے کے چند روز بعد ہی وہ گرفتار ہو گئی تھی۔

اس وقت لنڈا وینزل عراق کی ایک جیل میں قید ہے اور اسے سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔

گزشتہ دنوں اس کی 53سالہ والدہ کیتھرینا اور بہن مریم کو اس سے ملاقات کی اجازت دی گئی۔ وہ دونوں بغداد پہنچیں اور لنڈا سے ملاقات کی۔ لنڈا داعش میں شمولیت کے بعد اس ملاقات میں پہلی بار منظرعام پر آئی تو اس کا اپنی والدہ سے کہنا تھا کہ ”میں شام میں صرف گھر کے اندر رہتی تھی۔ میرا ہتھیاروں کے ساتھ کوئی لینا دینا نہیں تھا اور نہ ہی میں داعش کی خواتین بریگیڈ کا کبھی حصہ رہی ہوں۔ مجھے نہیں معلوم کہ میں نے داعش میں شامل ہونے کی احمقانہ حرکت کیوں کی، میں نے اپنے ہاتھوں سے اپنی زندگی برباد کر لی ہے۔“ سکیورٹی سروسز اور انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ ”ممکنہ طور پر لنڈا وینزل اب موت کی سزا سے بچنے کے لیے یہ جھوٹ بول رہی ہے۔“

مزید : بین الاقوامی