چائے کی پیالی میں طوفان (1)

چائے کی پیالی میں طوفان (1)
 چائے کی پیالی میں طوفان (1)

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اخبارات کی بندش، فروخت میں اتار چڑھاؤ، کلاسیفائیڈ یا مختصر اشتہارات کے حجم یا اشاعت میں اچانک کمی وہ عمومی مسائل ہیں جس سے اخباری صنعت اکثر دوچار رہتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اسے کبھی تغیراتی صنعت سے زیادہ اہمیت نہیں دی گئی۔اس میں شک نہیں کہ اخبارات ہماری زندگی کا نہ صرف اہم جزو رہے ہیں بلکہ اب بھی ان کی خبروں کو دیگر ذرائع ابلاغ کی نسبت زیادہ مستند اور مفصل تسلیم کیا جاتا ہے لیکن ٹیلی ویڑن کی آمد کے بعد رفتہ رفتہ روزانہ کی بنیاد پر خبروں کے حصول کے لیے ٹی وی پر انحصار کے باعث اخباری صنعت کا زوال شروع ہو گیا۔

رہی سہی کسر 1990 کی دہائی میں انٹرنیٹ اور بعد ازاں سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کی مقبولیت نے پوری کر دی کیونکہ خبروں کی فوری فراہمی میں سوشل میڈیا، تیز ترین ٹیلی ویڑن نیٹ ورکس پر بھی بازی لے گیا۔ اخبارات کی عکسی اور منجمد تصاویر کے بجائے انٹرنیٹ اور ٹیلی ویڑن پر ویڑول خبروں نے جگہ لی تو اشتہارات میں بہت جدت آگئی اور ان میں بھی چلتے پھرتے کرداروں اور ہنستے بولتے چہروں کا اضافہ ہو گیا جس کے باعث قارئین راتوں رات ناظرین میں تبدیل ہو گئے۔


انٹر نیٹ نے ٹیلی ویڑن کی نسبت اخباری صنعت اور اس کی آمدنی پر زیادہ منفی تاثر چھوڑا کیونکہ براڈ کاسٹ میڈیا پر جگہ حاصل نہ کر پانے والے ملازمتوں، گاڑیوں کی فروخت اور رئیل اسٹیٹ کے مختصر اور کلاسیفائیڈ اشتہارات، انٹرنیٹ نے اٹھا لیے جس سے قارئین چوبیس گھنٹے انتظار کی کوفت سے بچ گئے۔انٹر نیٹ نے علمی معلومات سے لے کر ضروریات زندگی کی رسائی تک کو گھنٹوں کے بجائے محض انگلیوں کی حرکت میں سمو دیا تو اخباری صنعت کا مستقبل مزید مخدوش نظر آنے لگا لیکن تحقیق و تصنیف سے تعلق رکھنے والوں کا رشتہ قلم اور کاغذ سے نہ ٹوٹ پانے کے باعث اخبارات محو سفر رہے اور آج تک ہیں۔

ٹیلی ویڑن کی چلتی پھرتی فلمی انداز کی خبریں اور انٹرنیٹ کا چٹ پٹا انداز بھی سنجیدہ اخبارات کی اہمیت ختم نہ کر پایا کیونکہ خبروں اور ان کے سیاق و سباق کے حوالے سے اخبارات اب بھی ان کی نسبت زیادہ معتبر اور پائیدار تھے۔ٹی وی کی خبر نظر آئی اور گزر گئی، انٹرنیٹ کی معلومات ایک بار دکھائی دیں اور پھر کسی ان دیکھے انبار میں کھو جاتی ہیں لیکن اخبار کے سینے پر تحریر ہونے والا ایک ایک لفظ صدیوں سے زندہ اور اپنی جگہ دستیاب ہے۔


محقیقین اور مصنفین آج بھی اپنے مقالات و تصنیفات کے لیے اخبارات و جرائد کی تحریروں کو بطور حوالہ استعمال کرتے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک کاغذ، اسکرین کی نسبت زیادہ دیرپا ہی نہیں بلکہ مستند بھی ہے۔انٹرنیٹ نے اخبارات سے مختصر کلاسیفائیڈ اشتہارات چھیننا شروع کیے تو ہر اعتماد اور اعتبار کے باوجود اخبارات اپنی بقا کی جنگ لڑنے میں ناکام ہوتے چلے گئے کیونکہ ان میں سے بعض بڑی اشاعت کے حامل اخبارات کی 70 فی صد آمدنی کا دارومدار یہی کلاسیفائیڈ اشتہارات تھے۔

ایک تحقیق کے مطابق مفت کلاسیفائیڈ اشتہارات چلانے والی صرف ایک امریکی انٹرنیٹ کمپنی Craigslist نے 2000 سے 2007 کے درمیان اخبارات سے 5.4 بلین ڈالرز کے کلاسیفائیڈ اشتہارات چھینے جس کے نتیجے میں اخبارات کی قیمتوں اور ڈسپلے ایڈز کے نرخوں میں اضافہ ہوا۔عین انہی دنوں مغرب میں بڑے پیمانے پرڈپارٹمنٹل اسٹورز قائم ہونے لگے تو اخبارات کی اشتہاری آمدنی مزید کم ہو گئی کیونکہ جن مصنوعات کی فروخت کے اشتہارات پہلے اخبارات میں دیے جاتے تھے اب وہ اپنی دوسری مسابقتی مصنوعات کے ساتھ ڈپارٹمنٹل اسٹورز کی چھت کے نیچے بکنے کے لیے موجود ہوتی تھیں۔ صارف اشتہار میں لکھے جانے والے اوصاف کے بجائے بذات خود مشاہدہ کرکے نسبتاً بہتر اشیا خریدنے کے قابل ہوا تو اخبارات کو قاری کے ساتھ ساتھ اشاعت کا نقصان بھی برداشت کرنا پڑا۔


امریکی میڈیا ٹائیکون اور فاکس نیوز کے مالک و مختار روپرٹ مرڈوک نے ایک بار اپنے اخبارات کی آمدنی کا ذکر کرتے ہوئے انہیں ‘سونا اگلنے والے دریا’ قرار دیا تھا لیکن چند سال بعد وہ یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ ‘بعض اوقات دریا خشک بھی ہو جاتے ہیں’۔نیویارک کے ڈیڑھ سو سالہ پرانے ممتاز روزنامے’’دی بفیلونیوز‘‘کے مالک وارن بفٹ بھی یہ کہے بغیر نہ رہ سکے کہ ‘اگر کیبل، سیٹلائٹ براڈ کاسٹنگ اور انٹرنیٹ پہلے آگئے ہوتے تو آج ہم اخبارات کے نام سے بھی واقف نہ ہوتے’۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اخبارات دو طرفہ لڑائی پر مجبور ہو گئے۔

ایک جانب الیکٹرانک میڈیا نے ان کی آمدنی پر کاری ضرب لگائی تو دوسری جانب ان کے قارئین کو متحرک اسکرینوں کی جانب متوجہ کر لیا۔امریکہ میں ہونے والی ایک اور تحقیق کے مطابق اس دو طرفہ لڑائی میں پرنٹ میڈیا اپنے 80 فی صد قارئین سے محروم ہوا۔پانچ سال تک ‘لاس اینجلس ٹائمز’ کے ایڈیٹر رہنے والے جان ایس کیرول نے اس صورت حال کا تجزیہ کچھ یوں کیا کہ ‘اخبارات کے رپورٹرز گلی گلی پھیلے ہوئے ہیں لیکن Google اور Yahoo کا کوئی رپورٹر کہیں موجود نہیں تاہم یہ سرچ انجنز اور سائٹس قارئین کو اخبارات کی نسبت کم قیمت پر کہیں زیادہ معلومات اور خبریں فراہم کر رہی ہیں’۔

پھر ایک وقت ایسا آیا کہ ٹیلی ویڑن اور کمپیوٹرز کی بڑی اسکرینیں عام لوگوں کی ہتھیلیوں میں سمٹ آئیں۔ یہ اسمارٹ فونز تھے جنہوں نے اخبارات کے ساتھ ساتھ الیکٹرانک میڈیا کی کمر بھی توڑ دی کیونکہ اب صارفین کسی ایک جگہ بیٹھ کر خبریں حاصل کرنے کے بجائے پوری دنیا کو ساتھ لیے پھر رہے تھے اور جب اور جہاں چاہتے تھے اپنے موبائل سے دنیا کے کسی بھی خطے کی اپ ڈیٹ حاصل کر لیتے تھے۔


یہ بھی اسمارٹ فونز ہی تھے جنہوں نے خبروں کا منبع کہلانے والے اخبارات و جرائد اور ٹیلی ویڑن چینلز کو اپنے سوشل میڈیا ڈپارٹمنٹ بنانے پر مجبور کر دیا۔ نئی نسل نے اس میں بنیادی کردار ادا کیا۔

رائٹرز انسٹی ٹیوٹ فار دی اسٹڈی آف جرنلزم نے اس رجحان کو الیکٹرانک اور پرنٹ نیوز آرگنائزیشنز پر ‘دوسرا حملہ’ قرار دیا کیونکہ یہی وہ وجوہات تھیں جن کی وجہ سے دنیا کے کثیرالاشاعت اخبارات دی گارڈین، دی اکنامسٹ، دی نیویارک ٹائمز، دی وال اسٹریٹ جرنل، دی واشنگٹن پوسٹ، چائنا ڈیلی اور دی ٹائمز آف انڈیا سمیت تمام چھوٹے بڑے اخبارات اپنے سوشل میڈیا ڈپارٹمنٹ قائم کرنے پر مجبور ہو گئے تاکہ قارئین کو اپنی خبروں اور اخبارات کی جانب متوجہ کر سکیں۔

بعد ازاں اخبارات کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے والے دنیا بھر کے ٹیلی ویڑن چینلز بھی یہی حکمت عملی اختیار کرنے پر مجبور ہوگئے اور اب شاید ہی کوئی ٹی وی چینل یا اخبار ایسا ہو جس کی سماجی رابطے کی ویب سائٹ نہ ہو۔(جاری ہے)

مزید :

رائے -کالم -