محمد عامر کا خلا کون پُر کرے گا؟

محمد عامر کا خلا کون پُر کرے گا؟

  

نیوزی لینڈ میں گئے شاہینوں کی دو الگ الگ ٹیموں نے نتائج بھی مختلف دیئے ہیں۔ ٹی 20 سیریز کے دوسرے میچ میں بھی پاکستانی کرکٹ ٹیم کو ہزیمت ہوئی اور نیوزی لینڈ نے یہ دوسرا میچ جیت کر سیریز اپنے نام کر لی۔ آج (بدھ) تیسرا میچ پاکستانیوں کے لئے عزت بچانے والا ہے کہ وائٹ واش سے بچنا ہوگا نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم نے دوسرا میچ نو وکٹ سے جیتا اور صرف ایک وکٹ کے عوض 164 رنز کا ہدف ڈیڑھ اوور قبل ہی حاصل کر لیا، کسی نے خوب کہا کہ نیوزی لینڈ کے بلے بازوں نے پاکستانی باؤلروں کے پرخچے اڑا دیئے۔ اس ٹیم کے کپتان شاداب خان کا کہنا ہے کہ ٹیم نے 20 سکور کم کئے مطلب 185 تک کر لیتے تو میچ جیت جاتے۔ یہ بھی خوش فہمی ہے۔ جو کھلاڑی نو گیند قبل 164 رنز کا ہدف صرف ایک وکٹ پر حاصل کر سکتے ہیں وہ 185 والا ہدف بھی عبور کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ کپتان کو رائے سوچ سمجھ کر دینا چاہئے حقیقت جو کھل کر سامنے آئی وہ اب باؤلنگ اور ٹاپ آرڈر کی کمزوری ہے اگر محمد حفیظ کا تجربہ کام نہ آتا اور وہ 99 (ناٹ آؤٹ) نہ کرتے تو یہ ٹیم نصف سنچری تک ہی محدود رہ جاتی محمد حفیظ کی ذمہ دارانہ بیٹنگ نے باؤلروں کو موقع فراہم کر دیا تھا کہ وہ نیوزی لینڈ کے بلے بازوں کو مقررہ سکور کے اندر آؤٹ کر لیتے لیکن وہ اثر انداز نہ ہو سکے اور فیلڈر گیند کے پیچھے بھاگتے رہے۔ حفیظ کی کارکردگی نے تجربہ کار محمد عامر کی یاد دلا دی۔دوسری طرف شاہینوں کی اے ٹیم نے اچھی بیٹنگ کے ساتھ ساتھ بہترین باؤلنگ کے باعث نیوزی لینڈ کی اے ٹیم کو چار روزہ میچ میں 89 رنز سے ہرا دیا، نسیم شاہ، عماد بٹ، محمد عباس اور باسر شاہ نے اچھی باؤلنگ کی جبکہ روحیل اور فواد عاصم سنچریاں بنانے والے ثابت ہوئے شائقین نے تنقید کی اور کہا ہے کہ تجربہ کار محمد عامر کو مجبور کر کے باہر کرنے سے خلاء پیدا ہوا۔

مزید :

رائے -اداریہ -