پانی، زندگی…… اور فوج (2)

پانی، زندگی…… اور فوج (2)
پانی، زندگی…… اور فوج (2)

  

جب سے قائم افواج (Standing Militaries) وجود میں آئی ہیں، ان کے حقوق و فرائض کی تفصیلات کو بھی دستاویزی شکل میں ڈھال دیا گیا ہے۔یہ ایک بہت وسیع موضوع ہے اور مرورِ ایام کے ساتھ اس سے متعلق دستاویزی مواد کے سائز میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔جب کوئی نیا ہتھیار ایجاد ہوتا ہے تو اس کے استعمال کا طریقہ ء کار اور اس کے فوائد و خطرات بھی تحریری صورت میں شائع کر دیئے جاتے ہیں۔

جس طرح ہر نئی دوا کے پیکٹ میں ایک کاغذ پر اس دوا کے اجزائے ترکیبی، اس کے خواص، جس بیماری کے لئے وہ دوا دی جاتی ہے اس کی تفصیلات، استعمال کرنے کے اوقات، فوائد اور ذیلی نقصانات (Side-effects)وغیرہ لکھ دیئے جاتے ہیں، اسی طرح ہر نئے جنگی ہتھیار پر بھی ایک مفصل کتابچہ شائع کرکے ساتھ دے دیا جاتا ہے۔ اس کتابچے کی بنیاد پر ہی ٹروپس کو اس weapon پر ٹریننگ دی جاتی ہے۔ جب کوئی جنگ شروع ہوتی ہے تو نہ صرف اپنی سپاہ بلکہ دشمن کے ٹروپس کے پاس جو ہتھیار ہوتے ہیں ان کے بارے میں بھی تفصیل سے آگاہی دی جاتی اور ساتھ ہی ان کا توڑ بھی بیان کر دیا جاتا ہے۔

کسی بھی جنگ کے آغاز پر ہر یونٹ اور فارمیشن کو ایک مختصر سا حکم نامہ دے دیا جاتا ہے جس کو ’آپریشن آرڈر‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ اس کو مخفف کرکے او او (OO) بھی کہا جاتا ہے۔ برطانوی افواج میں تو اس اہم حکم نامے کوOO ہی کہا جاتا رہا ہے لیکن امریکہ چونکہ اب دنیا کی واحد سپریم عسکری قوت بن چکا ہے اس لئے اس نے اس مخفف کو او او کی جگہ ”آپس آرڈر“ (Opsorder) کا نام دے دیا ہے۔ اس حکم نامے کے مندرجات واضح لیکن مختصر ہوتے ہیں۔ ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اہلِ سپاہ جو معرکہ لڑنے جا رہے ہیں ان کو بتایا جائے کہ اس کا مالہ و ماعلیہ کیا ہے۔ بنیادی طور پر یہ ”آپریشن آرڈر“ آپریشن میں جانے والے ٹروپس کو پیش آنے والے معرکے کی چیدہ چیدہ تفصیلات فراہم کرتا ہے…… مثلاً آپریشن کا تصور (Concept)…… لڑنے والی سپاہ کو کس قسم کی حربی امداد (Combat Support) درکار اور حاصل ہوگی…… اپنی فورس…… دشمن کی فورس…… اپنے ہتھیار…… دشمن کے ہتھیار…… کمانڈ اینڈ کنٹرول…… مواصلات…… اور لاجسٹکس وغیرہ۔ اس آخری پہلو کو مختصر کرکے ’ایڈم اینڈ لاگ‘ (Adminstration and Logistics) بھی لکھا جاتا ہے۔

’آپریشن آرڈر‘ کا یہ حصہ اگرچہ آخر میں درج کیا جاتا ہے لیکن اس کی اہمیت ’آخری‘ نہیں بلکہ ’اولین‘ ہوتی ہے۔ ہر سپاہی کو میدانِ جنگ میں بھوک اور پیاس لگتی ہے۔ راشن پانی نہ ہو تو بھوکا پیاسا سپاہی کب تک لڑ سکتا ہے؟ لاجسٹکس کا اردو ترجمہ ’انصرام‘ کیاجاتا ہے۔ انصرامی سپورٹ میں راشن پانی کے علاوہ اور کئی پہلو بھی ہوتے ہیں جن سے ہم فی الوقت صرفِ نظر کرتے ہیں۔ ہمارے گوریلا آپریشنوں میں جانے والے ٹروپس کو گُڑ اور بھونے ہوئے چنے باندھ کر ایک تھیلی میں تھما دیئے جاتے تھے۔ پانی کی ایک بوتل بھی ساتھ کر دی جاتی تھی لیکن ترقی یافتہ ممالک میں آج کل ایسے کھانے بنا کر ان کے پیکٹ تیار کر دیئے جاتے ہیں جن کے استعمال سے بھوک اور پیاس کم لگتی ہے۔ 

خلائی شٹل میں بھیجے جانے والے خلانوردوں کو بالخصوص پہلے زمین پر ان کھانوں کا عادی بنایا جاتا ہے اور پھر خلا میں بھیجا جاتا ہے۔ لیکن زمینی افواج میں ابھی تک یہ ’خلائی ماڈل‘ متعارف نہیں کروایا جا سکا۔ پاکستانی (اور ہندوستانی) زمینی افواج میں تازہ کھانا اور تازہ پینے کا پانی فراہم کرنے کا انصرامی بندوبست ایک اہم موضوع ہے۔ لیکن جو سپاہ کوہستانی اور برفانی علاقوں میں معرکہ آرائی کرنے کے لئے تعینات کی جاتی ہے، اس کے لئے پینے کے پانی کا مسئلہ زیادہ گھمبیر ہوتا ہے۔ چنانچہ پانی کی فوجی اہمیت ایک مستقل بالذات موضوع ہے…… تاریخ سے ایک دو مثالیں اس موضوع کی وضاحت کے لئے درج کی جا رہی ہیں۔

جیسے کہ ہر مسلمان کو معلوم ہے کفر و اسلام کی پہلی جنگ کو غزوۂ بدر کہا جاتا ہے۔ یہ غزوہ سن 2ہجری (رمضان المبارک کی 17تاریخ بمطابق 13مارچ 624ء) کو لڑا گیا تھا۔ اس سے پہلے عربوں میں کسی باقاعدہ اور منظم جنگ کا کوئی Conceptنہ تھا۔ قبیلوں کی لڑائی اور منظم لڑائی (Battle) میں جو فرق ہوتا ہے اس کا اندازہ قارئین کو ہو گا۔ اس پہلی اسلامی لڑائی کا سہرا بھی خاتم المرسلین ﷺ کے سر باندھا جاتا ہے۔ آنحضورؐ نے پہلے خود میدانِ جنگ کا انتخاب فرمایا اور اس کی ریکی کروائی۔ مسلمانوں کے پاس صرف دو گھوڑے اور 70اونٹ تھے۔ بدرکا گاؤں، مدینہ سے 80میل جنوب مغرب میں واقع ہے۔ اسلامی لشکر کی تعداد 313 تھی اورکفار کی تقریباً 1000تھی۔ مسلمانوں نے مدینہ سے اونٹوں پر افطاری کا سامان ساتھ لے لیا تھا جو انتہائی مختصر تھا لیکن 313 افراد کے لئے اگر ایک لٹر فی کس بھی حساب لگائیں تو خاصا پانی بن جاتا ہے۔ اس زمانے میں مدینہ سے 80میل کی مسافت پر سے پینے کا پانی (313 روزہ داروں کے لئے)منگوانا کارے دارد تھا۔

جیسا کہ اوپر لکھا گیا اگر افطاری پر فی کس ایک لٹر پانی بھی درکار ہو تو 313 لٹر پانی کی ضرورت تھی۔ دوسرے لفظوں میں ہر اونٹ پر 5،5 لٹر پانی لاد دیا گیا تھا۔ تاریخ میں یہ بھی لکھا ہے کہ ایک ایک اونٹ پر تین تین صحابہ کرام باری باری سوار ہو کر میدانِ بدر پہنچے تھے۔ اگر یہ غزوہ دو دن تک طول کھینچتا تو ایک اونٹ کے حصے میں 10لٹر پانی کا لوڈ آتا۔ سحری کے وقت بالعموم پانی زیادہ پیا جاتا ہے۔ چنانچہ حضورؐ نے بدر کا انتخاب کرتے وقت اس بات کا خاص خیال رکھا کہ وہاں کافی پانی میسر ہو۔ تاریخ میں مذکور ہے کہ بدر میں 10کنویں تھے جن میں میٹھا پانی میسر تھا۔آپؐ نے پہلا کام یہ کیا کہ میدانِ جنگ کی ریکی فرما کر 9کنوؤں کو مٹی سے بھروا دیا اور صرف ایک کنواں باقی رکھا جو آپؐ کی کمانڈ پوسٹ سے متصل تھا۔

آپؐ نے دوسرا کام یہ کیا کہ میدانِ جنگ کی اُس سلوپ پر صف بندی فرمائی جس پر سورج پشت پر پڑتا تھا۔جب جنگ کا آغاز ہوا تو سورج، کفار کے لشکریوں کی آنکھوں میں پڑا اور ان کی بصارت پر اثر انداز ہوا۔لشکرِ کفار مکہ سے آیا تھا اس لئے اس کے پاس پینے کا پانی بھی کم تھا۔کفار کا خیال تھا کہ بدر کے گاؤں میں وافر پانی میسر ہو گا جو جانوروں (100گھوڑوں اور 170اونٹوں) کی پیاس فرو کرنے کے کام آئے گا۔ مگر حضورؐ نے تو یہ تمام کنویں پہلے ہی بند کروا دیئے تھے۔ دوسرے لفظوں میں ایک طرف تازہ دم صحابیؓ تھے اور دوسری طرف بھوکے پیاسے اور طول سفر (از مکہ تا بدر)کے تھکے ماندے کفار تھے۔ اس جنگ کا نتیجہ اب ایک تاریخ ہے۔ مسلمانوں کے 14صحابی شہید ہوئے اور کفار کے 70لوگ مارے گئے اور 70قیدی بنا لئے گئے…… کفر و اسلام کے اس اولیں معرکے میں ’پانی‘ کا رول ظاہر و باہر تھا۔

دوسری مثال  1962ء کی انڈو چائنا وار ہے جو ایک ماہ (اکتوبر/ نومبر) تک جاری رہی۔ چینی ٹروپس، انڈین آرمی کو روندتے ہوئے آسام (گوہاٹی) تک آ گئے لیکن جب ان کے سامنے کلکتہ تک جانے کا راستہ صاف تھا تو وہ یکا یک جس تیز رفتاری سے آئے تھے، اسی تیزی سے واپس چلے گئے…… مورخین نے چینیوں کی اس اچانک واپسی کی کئی وجوہات بیان کی ہیں مثلاً بین الاقوامی دباؤ اور اپنی لاجسٹک لائن کی طوالت وغیرہ۔ لیکن حال ہی میں ایک چینی مورخ نے یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ چینی ٹروپس اس لئے واپس چلے گئے تھے کہ ان کے پاس پینے کا پانی ختم ہو گیا تھا۔ چینی فوج گرم (اور نیم گرم) پانی پینے کی عادی ہے اور نومبر دسمبر میں اسے گرم پینے کا پانی اپنے عقب میں واقع عقبی ہیڈکوارٹر (Rear HQ)سے لانا ایک مسئلہ بن گیا تھا۔ اس موضوع پر بحث کی جا سکتی ہے لیکن فوج کے لئے پینے کے پانی کے علاوہ بھی پانی کی دوسری ضروریات ہوتی ہیں۔ اور اگر لڑائی طول کھینچ جائے تو کمانڈر کو پانی کے مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل نکالنا ہوتا ہے۔ سینکڑوں ہزاروں فوجیوں کو لنگر کا تازہ راشن پہنچانا ہمیشہ سے کمانڈ کی Qبرانچ کا دردِ سر رہا ہے۔(جاری ہے)

مزید :

رائے -کالم -