امریکی فوج کا مارشل لاء یا سیاسی امور میں کسی قسم کی مداخلت سے انکار

  امریکی فوج کا مارشل لاء یا سیاسی امور میں کسی قسم کی مداخلت سے انکار
  امریکی فوج کا مارشل لاء یا سیاسی امور میں کسی قسم کی مداخلت سے انکار

  

واشنگٹن سے اظہر زمان کا خصوصی تجزیہ

 امریکی افواج اپنے اس عہد پر مضبوطی سے قائم ہیں کہ وہ کسی صورت میں بھی کسی سیاسی گروہ، لیڈر یا انتظامی سربراہ کی حمایت یا مخالفت میں کوئی کردار ادا نہیں کرے گی۔جنگ، قدرتی آفات یا شدید سول بد امنی کے دور میں فوج سول انتظامیہ کی مدد کو آ سکتی ہے۔ لیکن سیاسی یا انتخابی معاملات میں پہلے سے موجود سول انتظام کو معطل کر کے فوجی کنٹرول کے ذریعے فیصلے کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔”پینٹا گون کا یہ موقف اس نمائندے کے استفسار پر اس کے مخصوص ذرائع نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ایک ای میل کے ذریعے بیان کیا ہے۔ دراصل صدر ٹرمپ اور ان کی ٹیم 3نومبر کے صدارتی انتخابات میں ہارنے اور14دسمبر کو الیکٹورل کالج کے ارکان کی طرف سے ڈیمو کریٹک امیدوار جو بائیڈن کی باقاعدہ رسمی توثیق کے باوجود ابھی تک مکمل طور پر ہتھیار ڈالنے کے لئے تیار نہیں ہوئے۔ ٹرمپ ٹیم اور ری پبلکن پارٹی کے بنیادی عہدیداروں کی طرف سے یہ موقف پیش کیا جا رہا ہے کہ ڈاک کے ذریعے ووٹنگ اور گنتی کرنے والی مشینوں کے نتائج کو جعل سازی سے تبدیل کیا گیا ہے اور اپنا جھکاؤ تبدیل کرتی رہنے والی خاص طور پر چار ریاستوں پنسلوینیا، جارجیا، مشی گن اور وسکونسن میں دھاندلی کے ذریعے ٹرمپ کی معمولی برتری کو ختم کر کے بائیڈن کو جتوایا گیا ہے۔ سپریم کورٹ اس سلسلے میں دائر کی گئی اپیل کو پہلے ہی خارج کر چکی ہے۔ صدارتی انتخابات سے قبل نسلی فسادات میں سیاہ فاموں کی شہری آزادی کی تحریکوں کے جواب میں سفید فاموں کی برتری کے حامیوں کی انتہا پسند تنظیمیں سرگرم ہوئیں جنہوں نے صدر ٹرمپ کی حمایت میں انتخابی ریلیاں نکالیں۔ 3نومبر کے انتخابات میں صدر ٹرمپ کی شکست کے بعد پہلی مرتبہ ان تنظیموں کی ریلیوں میں مبینہ انتخابی دھاندلی کے نتائج کو کالعدم کرنے کے لئے مارشل لاء کے نفاذ کا نعرہ بلند ہوا۔ وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ کے قریبی ساتھیوں نے منتخب صدر جوبائیڈن کی مزاحمت کے لئے متعدد آپشن پیش کئے گئے۔ ایک آپشن یہ تھا کہ صدر ٹرمپ ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے فوج کو حکم دیں کہ وہ گنتی کے مشینوں پر قبضہ کر کے اپنی نگراین میں تمام گنتی دوبارہ کرائے۔ دوسرا آپشن یہ تھا کہ صدر ٹرمپ ایک ”محدود مارشل لاء“ کا نفاذ کر کے فوج کی حمایت سے اپنا عہدہ برقرار رکھیں اور منتخب صدر بائیڈن کے عہدہ سنبھالنے کے عمل کو التواء میں ڈال دیں۔صدر ٹرمپ کو محدود مارشل لاء کا مشورہ دینے میں پیش پیش ان کے سابق سکیورٹی ایڈوائزر ریٹائرڈ جنرل مائیکل فلین ہیں جنہوں نے مبینہ طور پر جمعہ کے روز وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ کے ساتھ ایک محدود خفیہ اجلاس میں ایک بار پھر یہ تصور پیش کیا۔روزنامہ ”پاکستان“ سی این این ٹی وی چینل کے حوالے سے اس اجلاس کی روداد چھاپ چکا ہے۔)رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ مارشل لاء کے نفاذ کے اس آئیڈیا پر زور دار بحث ہوئی اور ٹرمپ کے متعدد وفادار ساتھیوں نے یہ تجربہ کرنے کی حمایت کی تاہم صدر ٹرمپ نے اس پر غور کرنے کے بعد اس پر واضح رائے نہیں دی۔ صدر ٹرمپ نے اتوار کی شام مارشل لاء کے نفاذ کی خبریں باہر آنے کے بعد اس کی تردید کرتے ہوئے اسے جعلی خبر قرار دیا۔ تاہم سکیورٹی ذرائع پورے وثوق سے کہتے ہیں کہ صدر ٹرمپ پینٹا گون اور فوج سے سیاسی حمایت حاصل کرنے کے لئے ہمیشہ کوشاں رہے ہیں۔ انہوں نے3نومبر کے انتخابات کے بعد ان کے فوج کی مداخلت کے ان کے موقف کے مخالف وزیر دفاع مارک الیسپر کو ان کے عہدے سے ہٹا کر اپنے ایک ہم نوا آفیسر کرسٹوفر ملر کو سینیارٹی سے ہٹ کر قائم مقام وزیر دفاع مقرر کر دیا۔ تاہم امریکی افواج کے کمانڈرز کا موقف بہت واضح ہے وہ کسی صورت سیاسی معاملات میں فوج کی مداخلت یا مارشل لاء کے نفاذ کے حامی نہیں ہیں۔ جون میں نسلی بد امنی کے دوران سابق وزیر دفاع مارک الیسپر نے فوج کو ٹرمپ انتظامیہ کی حمایت میں مظاہرین کے سامنے لانے سے منع کر دیا تھا۔ اب انتخابات کے بعد بھی وہ فوج کی مداخلت کی مخالفت کرتے رہے جس کی بنا پر انہیں عہدے سے فارغ کر دیا گیا۔ سابق وزیر دفاع الیسپر کے موقف کی حمایت میں چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل مارک ملی کا بیان ریکارڈ پر ہے جنہوں نے واضح الفاظ میں فوج کو سیاسی معاملات سے دور رہنے پر زور دیا تھا۔ایک فوجی تقریب میں اپنے خطاب میں امریکی فوج کی روایات کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”ہماری فوج دوسرے ممالک کی افواج سے بہت مختلف ہے۔ ہم کسی بادشاہ، ملکہ یا کسی ڈکٹیٹر کے سامنے حلف نہیں اٹھاتے حتی کہ ہم کسی فرد کے سامنے بھی حلف نہیں لیتے۔ ہم آئین کی حفاظت کا عہد کرتے ہیں۔ فوج جمہوریت کے دفاع کے لئے موجود ہے۔ اسے کسی سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔“ اس پس منظر میں اس بات کا کوئی امکان نہیں ہے کہ فوج صدر ٹرمپ اور ان کے ہمنواؤں کی خواہش کے مطابق کسی قسم کی مداخلت کرے یا مکمل یا محدود مارشل لاء نفاذ کرنے کا سوچے۔

تجزیہ اظہر زمان

مزید :

تجزیہ -