سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد ہٹانے کے حوالے سے کیوں کچھ نہین ہو رہا؟ چیف جسٹس

سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد ہٹانے کے حوالے سے کیوں کچھ نہین ہو رہا؟ چیف جسٹس

  

  لاہور(نامہ نگارخصوصی)چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس محمد قاسم خان نے سوشل میڈیا پرگستاخانہ مواد ہٹانے کے لئے دائر درخواست پر سیکرٹری وزارت داخلہ،چیئرمین پی ٹی اے اور ڈی جی ایف آئی اے کو 28 دسمبر کو طلب کر لیا ہے،عدالت نے وزارت مذہبی امور کے ذمہ دار افسر اور ڈائریکٹر سائبر کرائم سیل کوبھی آئندہ سماعت پرپیش ہونے کاحکم دیاہے،دوران سماعت فاضل جج نے قراردیا کہ حکومت پب جی پر بابندی لگا سکتی ہے تو گستاخانہ مواد ہٹانے کے حوالے سے کیوں کچھ نہیں ہو رہا؟ریاست مدینہ کا نعرہ لگانا بہت آسان ہے، نمود و نمائش سے یہ کام نہیں چلے گا،فاضل جج نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گوگل پر یہ ٹرینڈ پچھلے 20،22دن سے چل رہا ہے اور سرکار سوئی ہوئی ہے، وہ نہیں چاہتا کہ سوشل میڈیا کو بلاک کیا جائے، چیزیں اچھی بری نہیں بلکہ استعمال انہیں اچھا یا برا بناتا ہے،یہاں تو آئین کے تحت استثنیٰ لے لیں گے لیکن قبر میں کیا کریں گے،درخواست گزار کی طرف سے کہا گیا کہ گوگل سرچ پر خلیفہ کا نام سرچ کیا جائے تو قادیانیوں کے خلیفہ کا نام آجاتاہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ گوگل پر پچھلے 20 سے 22 دن سے یہ چل رہا ہے مگر حکومت سوئی ہے،چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ میں نہیں چاہتا کہ فیس بک، ٹویٹر اور گوگل کے استعمال پر پابندی لگائی جائے،سوشل میڈیا خود غلط نہیں بلکہ اس کا استعمال غلط ہوتا ہے،چیف جسٹس نے سرکاری وکیل سے کہا کہ آپ یہاں پر قانونی پروٹیکشن تو لے لیں گے قبر میں خود جواب دے دیجیے گا،مجھے لگتا ہے حکومت میں سے سب سے اوپر بیٹھے شخص کوبلانا پڑے گا،عدالت نے مذکورہ افسروں کو ذاتی طور پر پیش ہونے کے ہدایت کرتے ہوئے مزید سماعت28 دسمبر تک ملتوی کردی۔

گستاخانہ مواد 

مزید :

صفحہ آخر -