ایل ڈبلیو ایم سی کا پولیس کے ہمراہ ترک کمپنیون کی ورکشاپس پر دھاوا، سٹاف کوزد وکوب کیا 

ایل ڈبلیو ایم سی کا پولیس کے ہمراہ ترک کمپنیون کی ورکشاپس پر دھاوا، سٹاف ...

  

 لاہور(جنرل رپورٹر) لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی نے پولیس فورس اور سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کے افسران کے ہمراہ اتوار کی رات ترک کنٹریکٹرکمپنیوں البیراک اور اوزپاک کی ورکشاپس پر دھاوا بول دیاجبکہ وہاں پر موجود تمام سٹاف کو زدوکوب کیا۔ پولیس افسران نے وہاں کام کرنے والے تمام ملازمین اور ورکشاپس میں رہائش پذیر ترک افسران کو رات کے 3 بجے باہر نکال پھینکااور ہراساں کیا۔ افسران کی ذاتی اشیاء بشمول موبائل فونز پولیس فورس نے اپنے قبضے میں لے لی جبکہ فونز میں موجود تمام تصاویر اور ویڈیوز کو بھی ڈیلیٹ کر دیا گیا۔پولیس کی جانب سے ورکشاپس کے تمام داخلی اور خارجی راستوں کو بھی بلاک کر دیاتا کہ کوئی مشینری یا ذاتی گاڑی کو ورکشاپ کی حدود سے باہر نہ لے جا یا جا سکے۔مزید براں، تمام تر حالات کا علم ہونے پر جب پراجیکٹ کوآرڈینیٹر البیراک چارے اوزل اپنے ملازمین کی مدد کو ورکشاپ پہنچے تو ان کوزدو کوب کیا گیا، بدتمیزی اور زور زبردستی کی گئی، ورکشاپ میں داخل نہ ہونے دیاجبکہ ان کا موبائل فون بھی چھین کر تمام تصویریں اور ویڈیوز کو ضائع کر دیا گیا۔اس کے علاوہ پولیس نے ورکشاپس میں لگائے گئے تمام سی سی ٹی وی کیمرہ کو اتارپھینکا اور فوٹیج کو بھی ڈیلیٹ کر دیا۔ ورکشاپس اور گاڑیوں پرلکھے گئے ترک کمپنیوں کے نام پر بھی کالی سیاہی پھیر دی گئی۔ واضح رہے کہ البیراک اور اوزپاک نے مِس ہینڈلنگ کا یہ معاملہ سفارتی سطح پر اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لئے تر ک سفارت خانہ، ترک قونصلیٹ اور ترکی کے وزیر ِ خارجہ سے رابطے قائم کئے جا رہے ہیں۔دونوں ترک کمپنیوں کے پاس ہائیکورٹ کا سٹے آرڈر ہونے کے باوجودایل ڈبلیو ایم سی کی جانب سے ورکشاپس پر دھاوا بولا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ترک کمپنیوں نے ایل ڈبلیو ایم سی کو ایک لیٹر میں واضح کیا تھا کہ وہ 31 دسمبر تک مرحلہ وار ورکشاپس اور دیگر اشیاء کا چارج سنبھالتی جائے۔ تاہم ایل ڈبلیو ایم سی نے مراسلوں کا جواب دینے کی بجائے ترک کمپنیوں کی ورکشاپس پر بغیر بتائے حملہ کر دیا۔ واضح رہے کہ ترک کمپنیوں اور ایل ڈبلیو ایم سی کے مابین معاہدہ 31 دسمبر کو اختتام پذیر ہونا تھا۔ 

ترک کمپنیاں 

مزید :

صفحہ آخر -