نجی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کی پام کی کاشتکاری میں دلچسپی

نجی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کی پام کی کاشتکاری میں دلچسپی

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر)حال ہی میں حکومت سندھ کے محکمہ ماحولیات موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی کی کاوشوں سے ٹھٹھہ میں پام فروٹ کی آزمائشی پیداوار میں اطمینان بخش نتائج کے بعد ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں نے مذکورہ شعبے میں دلچسپی لینا شروع کردی ہے اور اس ضمن میں خوردنی تیل بنانے والی ایک معروف مقامی کمپنی کے علاوہ مقامی تاجروں اور ملائشیا کے سفارت خانے کے ایک وفد نے ٹھٹھہ کے علاقے کاٹھوڑ میں پچاس ایکڑ پر محیط سندھ حکومت کے پام فروٹ کے باغ کا دورہ کیا اور فروٹ کے معیار اور زمین کی موزونیت کا جائزہ لیاتفصیلات کے مطابق سیکریٹری ماحولیات, موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی محمد اسلم غوری کے ہمراہ سرمایہ کاروں کے وفد کے مندوبین سندھ حکومت کی جانب سے لگائی گئی پام آئل مل بھی گئے اور اس کے پیداواری مراحل کا معائنہ کیا.وفد کے مندوبین نے فروٹ کے. معیار اور علاقے کے موافق پیداواری ماحول پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ علاقے میں پام کی کاشت اور پام آئل کی پیداوار میں سرمایہ کاری کے بہترین مواقع موجود ہیں جس کا عالمی و مقامی تاجر برادری کو بھرپور فائدہ اٹھانا چاہئیے.اس موقع پر سیکریٹری ماحولیات نے وفد کو بتایا کہ   پاکستان کے صوبہ سندھ نے پام کی کاشت کے کامیاب تجربے کے ذریعیایک اہم سنگ میل عبور کیا ہے, یہ منصوبہ پاکستان کی خوشحالی میں کلیدی کردار ادا کرے گا اور پام آئل کی ملکی ضروریات بڑی حد تک مقامی سطح پر پوری کرے گا.یاد رہے کہ  حکومت سندھ کے محکمہ ماحولیات نے ایک سال قبل ٹھٹھہ کے علاقے کاٹھور میں پام فروٹ کی پچاس ایکڑ پر آزمائشی فصل کاشت کی تھی جس کا معیار عالمی معیار کے مطابق پایا گیا جس کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ مذکورہ علاقے میں دو لاکھ ایکڑ رقبے تک کی قابل کاشت زمین پر پام کی کاشت کے لیے عالمی و مقامی سرمایہ کاروں کو خوش آمدید کہا جائے گا تاکہ اس کی پیداواری استعداد کا پورا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس شعبہ کو مقامی صنعت کا درجہ دیا جاسکے جس کے بعد قوی امکان ہے کہ چار ارب روپے کے پام آئل کی سالانہ مقامی طلب نہ صرف مقامی سطح پر ہی پوری کی جاسکے گی بلکہ پاکستان اضافی پیداوار برآمد بھی کرسکے گا

مزید :

صفحہ آخر -