غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے ہنگامی اقدامات ناگزیر

غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے ہنگامی اقدامات ناگزیر

  

 کراچی(اسٹاف رپورٹر)زرعی ماہرین نے ملک میں غذائی تحفظ کو یقینی بنانے اور فصلوں کی زیادہ پیداوار کے حصول کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے، ماہرین کا خیال ہے کہ پیداواری لاگت میں اضافہ،موسمیاتی تبدیلی،معیاری اور مثر بیجوں کی عدم دستیابی،غیر واضح حکومتی پالیسیوں اور تحقیق و ترقی نہ ہونے کے باعث ملک کا زرعی شعبہ زبوں حالی کا شکار ہے،یہی وجہ ہے کہ رواں برس پاکستا ن جیسے زرعی ملک کو مقامی ضرورت پوری کرنے کیلئے گندم اور چینی در آمد کرنا پڑی۔ رواں سال گندم کی مجموعی پیداوار ڈھائی کروڑ ٹن کے لگ بھگ رہی جبکہ مقامی طلب دو کروڑ70لاکھ ٹن تھی اور لگ بھگ دس لاکھ ٹن گندم کی افغانستان ترسیل ہوئی،حکومت نے گندم کی طلب پوری کرنے کیلئے 30لاکھ ٹن گندم در آمد کرنے کا فیصلہ کیا جس میں سے 14لاکھ ٹن گندم نجی شعبے اور 16لاکھ ٹن گندم ٹی سی پی نے در آمد کی جب کہ 4لاکھ80ہزار ٹن گندم پاسکو کے ذریعے حکومتی سطح پر روس سے در آمد کی گئی۔گنے کی پیداوار سال2018کے مقابلے میں 1.4فیصد کم رہی اور پاکستان کو 4لاکھ ٹن چینی در آمد کرنا پڑی جس میں سے دو لاکھ ٹن نجی شعبے اور بقیہ دو لاکھ ٹن ٹی سی پی کے ذریعے در آمد کی گئی۔اس ضمن میں ماہرین کا کہنا ہے کہ گنے کی امدادی قیمت کے مسائل اور شوگر ملز کی جانب سے کاشتکاروں کو ادائیگیوں میں تاخیر کی وجہ سے گنے کی پیداوار متاثر ہورہی ہے اور کاشتکاروں میں گنے کی فصل اگانے سے متعلق حوصلہ شکنی پیدا ہورہی ہے۔زرعی ماہرین نے خبردار کیا کہ دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث غذائی تحفظ ایک سنگین مسئلہ بننے جارہا ہے،ہمیں ابھی سے اس حوالے سے حکمت عملی تیار کرنے کی ضرورت ہے،پاکستان میں گندم،گنے،چاول اور دیگر غذائی اجناس کی پیداوار بڑھانے کیلئے ہنگامی پلان مرتب کرنے کی ضرورت ہے،فی ایکٹر پیداوار میں اضافے کیلئے معیاری اور موثر بیجوں کے استعمال کے ساتھ کاشتکاری کی جدید تکنیک اپنانا ہوگی تا کہ ملک میں غذائی اجناس کی پیداوار بڑھا کر نہ صرف ملکی ضرورت پوری کی جاسکے بلکہ بر آمدات کے ذریعے قیمتی زرمبادلہ بھی حاصل کیا جاسکے۔

مزید :

صفحہ آخر -