عمران خان نے عوام کے پیسے پر عیاشی کا کلچر دفن کر دیا، اپوزیشن کی ترامیم مان لیتے تو ”ڈاکو“ آزاد ہوتے: وفاقی وزراء

  عمران خان نے عوام کے پیسے پر عیاشی کا کلچر دفن کر دیا، اپوزیشن کی ترامیم ...

  

  اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک،نیوز ایجنسیاں)وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے اپوزیشن کی نیب قانون کی 38 شقوں میں سے 34 میں ترامیم عوام کے سامنے رکھتے ہوئے کہا ہے کہ منی لانڈرنگ کو بطور جرم ختم کرنے کی ترمیم بھی شامل تھی، فیٹف پر اپوزیشن کے مذاکرات اپنی ذات کیلئے تھے، اپوزیشن کی ترامیم مان لیتے تو سارے چوراور ڈاکو جیلوں سے آزاد ہوتے،اپوزیشن کو جتنے جلسے اور جلوس کر نے ہیں کرے، ہم نہیں روکیں گے،نوازشریف دھوکہ دیکر باہر گئے ہیں، لندن میں جاتے ہی انقلابی بن گئے،نوسربازوں بارے کو عوام کے سامنے بے نقاب کر تے رہیں گے،کرونا ایس اوپیز پر عملدر آمد نہ کر نے پر ایف آئی آرز ہوگئی ہیں، اس کا اپنے وقت پر ایکشن ہوگا؟۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیراطلاعات شبلی فراز نے کہاکہ پاکستانی عوام سے میڈیا کی وساطت سے مخاطب ہوں،اکثر جلسوں اور ٹاک شوز میں کہا جاتا ہے کہ عمران خان ہمیں این آر او کیسے دے سکتا ہے؟عوام کو این آر او کے پس منظر کا علم ہونا چاہیے،اپوزیشن کہتی ہے کہ ہم نے تو این آر او مانگا ہی نہیں،عوام کو معلوم ہوجائے گا کہ این آر او کس نے مانگا تھا اور کس نے نہیں دیا؟۔وزیر اطلاعات نے کہاکہ فیٹف بل پر مذاکرات کے لیے کمیٹی کی صدارت شاہ محمود قریشی کر رہے تھے جبکہ میں اس کمیٹی کا رکن تھا،انہوں نے کہا کہ جب اجلاس شروع ہوا تو پہلا سوال ہوا کہ نیب کا بل کہاں ہے، شاہ محمود قریشی نے کہا نیب بل پر بعد میں مذاکرات کرلیں گے جس پر ان کا جواب تھا نہیں، اس کے بعد اپوزیشن کمیٹی کی اجلاس سے باہر چلی گئی اور آدھے گھنٹے بعد آئی۔ انہوں نے کہاکہ اپوزیشن کے فیٹف بل پر مذاکرات اپنی ذات کیلئے تھے،اپوزیشن نے فیٹف بل پر مذاکرات کے دوران نیب بل کے حوالے سے ترامیم پیش کیں۔ وزیر اطلاعات نے کہاکہ نیب کے قانو ن میں 38شقیں ہیں اور 34شقوں میں اپوزیشن نے ترامیم کہا اس حوالے سے کچھ ترامیم کا بتا دیتا ہوں اور عوام پر چھوڑتا ہے کہ وہ فیصلہ کریں، یہ این آر ا ومانگ رہے تھے یا نہیں مانگ رہے تھے۔وزیر اطلاعات نے کہاکہ اپوزیشن چاہتی تھی کہ نیب کے قانون کی عملداری 1999ء سے کی جائے اس بینشفری چوہدری شوگر ملزم اور 1999تک بنائے گئے اثاثے لیگل ہو جاتے، ساری کرپشن حلال میں تبدیل ہو جاتی۔ وزیر اطلاعا ت نے دوسری ترمیم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہاکہ اپوزیشن کہتی تھی کہ  ایک ارب روپے سے کم کی کرپشن نیب کے دائر کار میں نہیں ہوگی  اس کے بینشفری شوگرملز، رانا ثناء اللہ، خواجہ آصف اور جاوید لطیف ہوتے اور ان کو چھوٹ مل جاتی، تیسری ترمیم میں کہاگیاکہ منی لانڈرنگ کو جرم کی تعزیر سے ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا اس کے بینفشری شہباز شریف ٹی ٹی کیس، آصف علی زر داری فیک اکاؤنٹس کیسز، شوگر ملز، خواجہ آصف، فریال تالپور کے اثاثے سے زائد کیسز تھے۔ وزیر اطلاعات نے چوتھی ترمیم کے حوالے سے بتایاکہ اپوزیشن چاہتی تھی کہ اہلیہ اور بچوں کو باہر نکالا جائے اس کا بینشفری آصف علی زر داری، انور مجید تھے، شہباز شریف کے سارے بچے بچ جاتے، مولانا فضل الرحمن کی کافی بے نامی جائیدادیں ہیں اور مریم نواز کی بے نامی جائیدادیں ہیں۔وفاقی وزیر برائے مواصلات مراد سعید نے کہا ہے کہ قومی خزانے سے 200 کروڑ صرف رائیونڈ کی سیکیورٹی پر مامور لوگوں پر خرچ ہوئے، عمران خان نے عوام کے پیسے پر عیاشی کا کلچر ہمیشہ کے لیے دفن کردیا۔ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان سمیت 20 نامور سیاستدانوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں، ہائی الرٹ جاری کردیا گیا ہے، نوازشریف ملکی اداروں کے خلاف بیانیہ رکھتے ہیں، کوئی ایسا آرمی چیف اور جج نہیں جس سے انہوں نے تصادم نہ کیا ہو،منی لانڈرنگ اور کرپشن کرنے والے نہیں بچ سکیں گے، عمران خان ایسی قانون سازی کریں گے کوئی کرپٹ نہیں بچے گا، ملک میں سی پیک کے خلاف سازش ہورہی ہے اور شدید خطرات لاحق ہیں،ہماری فورسز نے سی پیک کے خلاف کسی تھریٹ کو کامیاب نہیں ہونے دیا۔ وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ مولانا کل کے بجائے آج استعفے دیکر اسلام آباد آئیں، فضل الرحمان گرفت میں آچکے ہیں، اس لئے اداروں کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔ وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے علی امین گنڈا پور کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن نے کوئی ایسا کام نہیں کیا جس سے عوام میں اچھا تاثر جائے، فضل الرحمان کا کردار کیا ہے، ان کی ملک کیلئے خدمات کیا ہیں؟ آئین و قانون کی پاسداری کا سبق ہمیں نہ سکھایا جائے، مذہب کے نام پر مکاری اور جھوٹ بول رہے ہیں، مذہب کے نام پر کسی کو کھیلنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

وفاقی وزراء 

ملتان،اسلام آباد (نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے یو اے ای ویزوں کی بندش عارضی ہے، جلد ختم ہو جائیگی، ابوظہبی، شارجہ، دبئی میں پاکستا نیو ں کی مشکلات پر بات کی، یو اے ای قیادت سے افغان امن عمل میں پاکستان کے کردار پر بات کی، اسرائیل کے بارے میں عرب امارات کا موقف سنا،واضح کر دیا فلسطین اور مسئلہ کشمیر پر ہمارا موقف دنیا پر عیاں ہے،مسئلہ فلسطین کے دیر پا حل تک پاکستان اسرائیل سے تعلقات قائم نہیں کرسکتا۔ استعفوں کے معاملے پر پی ڈی ایم میں بہت انتشار ہے، پی ڈی ایم میں ایک حصہ استعفے دینا چاہتا ہے ایک حصہ مخالف ہے، اگر وہ استعفوں میں سنجیدہ ہیں تو اس میں رکاوٹ کیا ہے؟، بھارت مسلسل سیزفائر کی خلاف ورزی کر رہا ہے، ایل او سی پر یو این آبزرور کی گاڑی پر حملہ انتہائی تشویشناک ہے،امن برقرار رکھنے والوں پرو فائرنگ بہت بڑا جرم ہے، اس کی تحقیقات ہونی چاہئیں اور پاکستان نے اس کی درخواست کی ہے۔ ملتان میں میڈیا اور بعد ازاں نجی ٹی وی سے گفتگو میں شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا میں افسردہ ہوں کہ ہمیں عرس کی محفل ایس او پیز کو مدنظر رکھتے ہوئے مختصر کرنی پڑی لیکن امید ہے کہ اگلے سال ہمیں اس وبا ء سے نجات مل چکی ہو گی اور ہم اپنی روایات کے مطابق عرس کو اس شایان شان طریقے سے منعقد کر سکیں جیسے ماضی میں کیا کرتے تھے۔ ابھی متحد ہ عرب امارات سے لوٹا ہوں جہاں ابوظہبی اور دبئی کی قیادت سے ملاقات کی جس میں دوطرفہ تعلقات اور مشکلات پر تبادلہ خیال کیا۔ انہیں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال،طالبان وفد کی پاکستان آمد سمیت افغانستان کی حالیہ پیشرفت سے آگاہ کیااوراعتماد میں لیا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا یہ واضح کردینا چاہتا ہوں متحدہ عرب امارات ہو یا سعودی عرب، وہ ہندوستان کو پاکستان کا متبادل نہیں سمجھتے۔حکومت پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کیلئے کسی بھی قسم کا دبا نہیں۔ ہم پاکستان کے مفادات کو سامنے رکھ کر فیصلے کریں گے، کسی دبا کے تحت نہیں، ہماری ایک پالیسی ہے جس پر ہم آج بھی قائم ہیں۔ ہماری خواہش ہے امن برقرار رہے اور خطے کی صورتحال میں مزید بگاڑ پیدا نہ ہو،بھارت ایسی حرکتیں کر رہا ہے جس سے خطے کا امن تباہ ہو، بھارت منصوبہ بندی کرکے پاکستان کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے، لیکن بھارت نے کوئی غیر ذمہ دارانہ حرکت کی تو اسے بروقت اور مناسب جواب ملے گا۔پرامن افغانستان سے پورا خطہ مستفید ہو گا، افغانستان سے توجہ ہٹی تو ذمہ دار بھارت ہو گا۔ 

شاہ محمود قریشی 

مزید :

صفحہ اول -