پشاور کے ہسپتال میں آکسیجن نہ ملنے کے باعث کورونا مریضوں کی اموات کا معاملہ ،تحقیقاتی رپورٹ سامنے آگئی

پشاور کے ہسپتال میں آکسیجن نہ ملنے کے باعث کورونا مریضوں کی اموات کا معاملہ ...
پشاور کے ہسپتال میں آکسیجن نہ ملنے کے باعث کورونا مریضوں کی اموات کا معاملہ ،تحقیقاتی رپورٹ سامنے آگئی

  

پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن) خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں آکسیجن نہ ہونے کے باعث ہونے والی اموات کے واقعہ کی تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو پیش کردی گئی۔ 

رپورٹ میں آکسیجن فراہم کرنے والے متعلقہ افسران کو غفلت کا مرتکب قراردیا گیا ہے جبکہ ہسپتال کے معطل شدہ ڈائریکٹرکو واپس اپنے محکمے میں بھیجنے اور چارج شیٹ کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق آکسیجن کی عدم فراہمی پرہسپتال ڈائریکٹراور افسران ناکام رہے۔رپورٹ میں ہسپتال کے معطل ڈائریکٹر ڈاکٹر طاہر ندیم کے اس دعوے کو غلط قرار دیا گیا کہ وہ آکسیجن سے متعلق معاہدہ ختم ہونے کی تاریخ سے لاعلم تھے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ ڈاکٹر طاہر ندیم آکسیجن معاہدہ کی توسیع نہیں کرسکے بلکہ وہ فرائض کی انجام دہی میں غفلت کے مرتکب ہوئے۔ اسپتال میں کورونا ایمرجنسی کے باوجود آکسیجن کا بیک اپ سسٹم نہیں تھا۔رپورٹ میں واقعہ کے ذمہ دار 7 افراد کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی ہے جن میں منیجر سپلائی چین، منیجر فیسلیٹی ، بائیو میڈیکل انجینیئر اورمنیجر ہیومن ریسورس شامل ہیں۔رپورٹ میں معطل ہسپتال ڈائریکٹر ڈاکٹر طاہر ندیم کو واپس اپنے محکمے بھیجنے اور چارج شیٹ کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے جبکہ سابق ہسپتال ڈائریکٹرز ظفر آفریدی اور ڈاکٹر نیک داد آفریدی کو بھی چارج شیٹ کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

خیبرٹیچنگ ہسپتال میں متعلقہ اہلکاروں کی غفلت کے باعث 6 دسمبر کو مریضوں کو بروقت آکسیجن نہ ملنے سے 6 مریض موت کے منہ میں چلے گئے۔اس افسوسناک واقعہ کی تحقیقات کے لیے 3 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ 

مزید :

علاقائی -خیبرپختون خواہ -پشاور -