"جے یو آئی نے صدارتی انتخابات میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا تھا،مولانا فضل الرحمان کس کے ٹیلی فون پررضامند ہوئے؟"حافظ حسین احمد کاتہلکہ خیز انکشاف

"جے یو آئی نے صدارتی انتخابات میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا تھا،مولانا فضل ...

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) جے یو آئی (ف) کے سینئر رہنما حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ اگر اسمبلی جعلی ہے تو صدارتی الیکشن میں حصہ لینا کیسے جائز ہوگیا؟ پارٹی نے صدارتی الیکشن میں حصہ نہ لینے کافیصلہ کیا تو مولانا کوکسی کا ٹیلی فون آیا تو انہوں نے فوراً الیکشن لڑنے کی حامی بھر لی۔

نجی ٹی وی اے آر وائی نیوز کے پروگرام میں گفتگوکرتے ہوئے حافظ حسین احمد نے کہا کہ کہ جے یو آئی ف نوازشریف کی فوج سے متعلق گفتگو پر اتفاق نہیں رکھتی ہے، نوازشریف جنرل جیلانی کی پیداوار ہیں جنہیں جنرل ضیاالحق لے کر آئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اب یہ نوازشریف زندگی کے آخری حصے میں اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ہوگئے اورکہتےہیں کہ اب میں بدل گیا ہوں ، ووٹ کو عزت دو، نوازشریف نے فوج کو بغاوت پر آمادہ کرنے کی کوشش کی، ان کی گفتگو پی ڈی ایم کے بیانیے میں شامل نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم اور مولانا سے اعتراض صرف یہ ہے کہ جو وہ اعلان کرتےہیں اس سے پیچھے کیوں ہٹ جاتے ہیں؟ استعفوں کے معاملے پر پیپلزپارٹی نے اپنا اجلاس طلب کیاہے جو ویٹو ہے، اس کا مطلب پی ڈی ایم قائد کے فیصلے صرف ہوا میں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر اسمبلی جعلی ہے تو صدارتی الیکشن میں حصہ لینا کیسے جائز ہوگیا؟ اس وقت پارٹی کی سطح پر فیصلہ ہوا تھا کہ صدارتی الیکشن میں حصہ نہیں لیں گے لیکن مولانا کو ٹیلی فون آیا تو انہوں نے حصہ لینے کی حامی بھر دی۔ ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان نے تمام پارٹی ارکان کےا ستعفے لے کر اپنےپاس رکھے ہیں، اگر استعفے ہی دینے ہیں تو پھر سینیٹ الیکشن کی بات کیسے کررہے ہیں؟۔

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -