مولانا محمد خان شیرانی کے سنگین الزامات ،مولانا فضل الرحمان بھی میدان میں آگئے، ایک ایک بات کھول دی

مولانا محمد خان شیرانی کے سنگین الزامات ،مولانا فضل الرحمان بھی میدان میں ...
مولانا محمد خان شیرانی کے سنگین الزامات ،مولانا فضل الرحمان بھی میدان میں آگئے، ایک ایک بات کھول دی

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ اورجمعیت علماءاسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ مولانا محمد خان شیرانی کے الزامات کا فروری کے مہینے سے پتہ ہے،پارٹی اجلاس میں مولانا شیرانی کے الزامات کو دیکھیں گے،شیرانی صاحب کے بیانات کا  سنجیدہ نوٹس لے رہے ہیں ، حکومت سے ڈائیلاگ نہیں ہونگے،عمران خان کو استعفی دینا ہوگا،استعفے کے بعد الیکشن کی تاریخ کا اعلان ہوگا اور پھر مذاکرات ہونگے۔

نجی ٹی وی چینل"جیو نیوز"کےپروگرام کیپٹل ٹاک میں گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ مولاناشیرانی صاحب میرےبزرگ ہیں ان کااحترام کرتارہاہوں،اپنی ذات کےحوالےسےمولاناشیرانی کوساری عمربرداشت کرتارہاہوں،یہ حملہ شایدمجھ پر نہیں،کارکن اورجماعت سمجھتی ہےکہ یہ حملہ جےیوآئی پرہے،اگر الزام میری ذات تک ہوتو برداشت کرتا ہوں،اب پوری دنیامیں مولاناشیرانی کےبیان سے متعلق تشویش پیداہوئی ہے،مولاناشیرانی کااعتراض جمعیت کی ووٹرلسٹ پر ہے،جماعت کےالیکشن میں تومولاناشیرانی خودموجودتھے، صوبائی انتخاب مولانا شیرانی نےخودلڑا اور جماعت کےانتخابی عمل میں شریک رہے ،اگر وہ شکست کھاچکے ہیں تو میں کیا کرسکتا ہوں؟میراانتخاب توبلامقابلہ ہوا تھا ،نہ مولاناشیرانی صاحب نے اور نہ ہی کسی اورنےاپنانام پیش کیا تھا ،کارکن مجھ پراعتمادکرتےہیں، آج تک کسی سطح پرکوئی شکایت نہیں آئی ہے،میرےکارکن میرے گھر اور میری زندگی کوجانتےہیں،مولانا شیرانی کےبیان سےمتعلق جماعت نوٹس لےرہی ہے،کمیٹی بن چکی اور اجلاس بھی بلائے جاچکےہیں،صدارتی الیکشن لڑنا حزب اختلاف کا فیصلہ تھا،ایم آر ڈی کی تحریک میں 5 سال جیل آتا جاتا رہا،حاجی غلام علی دوسال جیل میں رہے14ماہ ٹرائل ہوئےاورکلیئرقراردیےگئے۔

انہوں نے کہا کہ اگر نیب کانوٹس آیاتودوپہلوؤں سےجائزہ لیناہے،ایک سیاسی پہلو ہے،اس پرجماعت کوفیصلہ کرناہوگاکہ جاناہےیانہیں؟اگر جماعت نے فیصلہ کیا تو پھر ایک فضل الرحمان نہیں پوری جماعت نیب کےدفترمیں پیش ہوگی،میرےاردگردکےلوگوں کونیب کےنوٹس آ رہےہیں اورفضول آرہے ہیں،نیب کی جانبداری توعدالت کی سطح پربھی ختم ہوچکی ہے ،سپریم کورٹ نےاسی نیب کےخلاف فیصلہ دیا ہےکہ سیاستدانوں کوبدنام کررہاہے،کبھی دبئی تو کبھی اسلام آباد میں میرے ہوٹل اورگھرنکال دئیےجاتےہیں،مجھ پر اِن کا مچھر کے پر جتنا اثر بھی نہیں،1988سےاسمبلیوں میں ہوں اورآج تک اسلام آبادمیں میری جھونپڑی تک نہیں،یہ کہہ رہےہیں کہ اسلام آبادمیں فلاں سیکٹر میں میرے دو بنگلے  ہیں اور پلاٹس ہیں،اگرچک شہزاد میں 3ارب کےپلاٹ بیچے یا خریدے ہیں توپھرپوراچک شہزاد میرا ہو گیا ،ایک جعلی حکمران مجھ پرمسلط ہےاورمیرےاحتساب کی باتیں کرتاہے ،یہ کون ہوتاہےہماراحساب لے،خودحساب دےکس ناجائزطریقے سےآیا؟ابھی تومیں اس کاحساب لےرہاہوں کہ کیسےجعلی حکمران بن کربیٹھاہے؟ابھی تو وہ میرے احتساب کےشکنجے میں جکڑاہواہے۔

انہوں نےکہا کہ ملک بچانے کے لئے ہمارے علماء نے قربانیاں دیں ہیں ،ہماری تحریک 26 جولائی2018سےجاری ہے،سفر کے دوران نشیب و فراز آتے ہیں،کچھ تکنیکی کمزوریاں ہماری تحریک میں آئی ہیں،دھرنے کی تیاری چل رہی ہے،تحریک سے پریشر ڈال رہے ہیں ، ہم عمران خان کو استعفے پرمجبور کر رہے ہیں،2014 کے دھرنے میں بھی جمہوری طاقتوں نے عمران خان کو شکست دی،آج وہی طاقتیں پھر اکھٹی ہیں،اسٹیبلشمنٹ میرے نظریے کو سمجھے،اپنی مرضی سے جماعتوں کو توڑا گیا،مسلم لیگ کو توڑا گیا۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آج ہمیں یہ دن بھی دیکھنا تھا کہ شیخ رشید ملک کے وزیر داخلہ ہیں،ڈی آئی خان پولیس کہتی ہے کہ انکو سکیورٹی واپس لینے کا کہا جارہا ہے،دوسری طرف کہا جاتا ہے کہ میری جان کو خطرہ ہے۔

مزید :

قومی -