شاہدرہ سکول میں گیس لیک ہونے سے ہولناک آتشزدگی 32بچوں سمیت 36افراد جھلس گئے

شاہدرہ سکول میں گیس لیک ہونے سے ہولناک آتشزدگی 32بچوں سمیت 36افراد جھلس گئے

  



لاہور (لیڈی رپورٹر، ایجوکیشن رپورٹر، جنرل رپورٹر، عوامی رپورٹر، تصاویر: ندیم احمد) دار ارقم ہائی سکول شاہدرہ میں سکول انتظامیہ کی غفلت کے باعث گیس لیکج سے ہونے والی ہولناک آتشزدگی کی زد میں آکر32 معصوم بچے دو خاتون اساتذہ اور دو سٹاف ممبران بُری طرح جھلس گئے جبکہ آسمان سے باتیں کرتے شعلوں کے باعث قیامت صغریٰ برپا ہوگی۔ شاہدرہ اور گرد و نواح کے سینکڑوں والدین اور اہل محلہ سرپٹ دوڑتے ہوئے سکول کے اندر و باہر جمع ہوگئے۔ سکول کے اندر بچے اساتذہ اور عملہ نے جانیں بچانے کے لئے سرپٹ دوڑ لگا دی۔ چیخ و پکار اور آہ وبکا سے رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے۔ ایک طرف آگ کے شعلے اور دوسری طرف بچوں، اساتذہ، والدین اور عزیز و اقارب کی رونے پیٹنے کی آوازیں عجیب منظر پیش کر رہی تھی۔ ریسکیو1122 اور قومی رضا کار جھلسے ہوئے بچوں سمیت دیگر افراد کو میو ہسپتال میں پہنچایا گیا، جن میں سے اکثر بچے 40 فیصد سے زائد جھلس گئے اور ان میں سے 12 کی حالت تشویشناک ہے۔ میو ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں بھی سینکڑوں افراد کا رش لگ گیا ہے اور اپنے پیاروں کی تلاش میں سرگرداں دکھائی دئیے بلکہ متاثرہ سکول میں فائر بریگیڈ ڈیڑھ گھنٹہ بعد آگ پر قابو پایا۔ اس سکول سے متصل دارارقم کی دوسری برانچ سمیت گرد ونواح کے تمام سکولوں میں اس سانحہ کے سوگ میں بند کر دئیے گئے اور علاقہ دن بھر سوگ کا سماں رہا۔ مقامی رکن قومی اسمبلی ملک ریاض اور ارکان صوبائی اسمبلی سمیت محکمہ تعلیم کے اعلیٰ افسران جائے وقوعہ پر پہنچ گئے جبکہ پولیس کی بھاری نفری نے ہنگامی حالت نافذ کر کے متاثرہ علاقہ میں آمد و رفت پر پابندی عائد کر دی۔ جائے وقوعہ پر پہنچنے والے ”پاکستان“ ٹیم نے جو تفصیلات اکٹھی کی اور جو مناظر دیکھے ان کے مطابق دارارقم سکول شاہدرہ جو سب سے مہنگا سکول ہے۔ انتظامیہ کی غفلت و لاپرواہی کی وجہ سے 30 سے زائد معصوم بچوں کی زندگیوں سے کھیلنے کا موجب بن گیا۔ گزشتہ روز صحب8 بجے کے قریب سکول کی کلاس نمبر ایک جو کہ سکول بلڈنگ کے سیکنڈ فلور پر واقع ہے۔ میں ایک دم آگ بھڑک اٹھی۔ کلاس روم کا دروازہ بند ہونے کی وجہ سے بچے ایک دم کلاس سے باہر نہ نکل پائے اور کلاس میں موجود تقریباً تمام بچے بُری طرح سے جھلس گئے۔ کلاس ٹیچر ماریہ نے بچوں کو باہر نکالنے کی کوشش کی، اس دوران وہ خود جھلس گئی۔ بعد ازاں سکول کا دوسرا سٹاف بھی مدد کے لئے آیا لیکن آگ کے شعلے بلند ہوتے گئے جو کہ آہستہ آہستہ آسمان سے باتیں کرنے لگے۔ فائر بریگیڈ اور ریسکیو کی آمد تک سکول سٹاف اپنی مدد آپ کے تحت کام کرتا رہا جبکہ بچوں کے والدین کو جیسے ہی اس وقوعہ کا علم ہوا، سب سرپٹ دوڑتے ہوئے سکول کی جانب آئے اور آہ و بکا چیخ و پکار شروع ہوگئی۔ اس طرح ریسکیو کا عملہ وہاں پہنچ گیا اور بچوں کو لے کر میو ہسپتال پہنچایا۔ جائے وقوعہ پر تھوڑی دیر کے بعد ایجوکیشن کے اعلیٰ افسران اور مقامی ایم این اے ملک ریاض پہنچے اور اس واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا۔ ریسکیو عملے کی دو گھنٹے تک کارروائی جاری رہی جبکہ پولیس کی بھاری نفری بھی موقع پر پہنچ گئی اور اہل محلہ کو روکنے کی کوشش کرتی رہی۔ واقعہ کے فوری بعد اہل علاقہ کی بڑی تعداد سکول کے اردگرد جمع ہوگیا اور اس واقعہ کا ذمہ دار سکول انتظامیہ کو ٹھہرایا گیا جبکہ سکول انتظامیہ کے موقف کے مطابق گیس ہیٹر کی وجہ سے واقعہ نہیں آیا جبکہ یہ امر قابل ذکر ہے کہ دارارقم کی کسی بھی برانچ میں گیس ہیٹر موجود نہیں ہے۔ ایک روز قبل سے گیس کی بدبو سکول کی کلاس روم میں آ رہی تھی۔ سکول انتظامیہ نے اس کو ٹھیک نہیں کروایا جس کی وجہ سے اندوہناک واقعہ پیش آیا۔ سکول انتظامیہ کی طرف سے سینئر ٹیچر نے ”پاکستان“ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ صرف ہمارے سکول میں ہی بلکہ پوری شاہدرہ میں گیس کی لیکج کے مسائل ہیں۔ بارہا اس بات کا نوٹس کروانے کے باوجود اس کا حل نہیں نکالا جاتا ہے۔ گزشتہ روز سکول میں گیس لیکج کا مسئلہ تھا۔ ہم نے پلمبر کو بلوایا بھی تھا، لیکن اس کے باوجود یہ ٹھیک نہیں ہوا اور آج یہ واقعہ رونما ہوا ہے۔ دارارقم شاہدرہ میں ہونے والے ہولناک واقعہ میں کئی انسان جانوں کے ضیاع کا خدشہ موجود ہے۔ اہل محلہ نے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ سکول انتظامیہ کی تھوڑی سی لاپرواہی کی وجہ سے معصوم بچوں کی جانیں جا سکتی ہیں۔ اس حوالے سے سکول انتظامیہ کے حوالے سے سخت ایکشن لیا جائے تاکہ آئندہ اس طرح کے واقعات سے بچا جا سکے۔دریں اثناءمسلم لیگ ن کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی نے شاہدرہ میں دارارقم سکول میں لگنے والی آگ کے باعث جھلس کر زخمی ہونے والے 22 بچوں کی میوہسپتال میں عیادت کی اور ان کوپھولوں کے دستے پیش کئے۔ میاں حمزہ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ وہ ورثاءکے غم میں برابر کے شریک ہیں اور اس واقعہ کے متعلق تفصیلی تحقیقات کروائیں گے۔ صرف چوکیدار کو گرفتار کرلینے سے کام نہیں بنے گا جو کوئی بھی اس واقعہ میں ملوث ہوگا، اس کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے گی۔ دارارقم سکول انتظامیہ نے اس ناگہانی واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ انتظامیہ والدین کے دکھ میں برابر کی شریک ہے جن کے بچے اس حادثے میں زخمی ہوئے ہیں، الحمداللہ سب طلباءاور ٹیچرز بخیرو عافیت سے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں دارارقم سکولز کی انتظامیہ بچوں اور اساتذہ جو اس حادثے میں زخمی ہوئے ہیں ان کے ہر قسم کے علاج معالجہ کی طبی اور مالی سہولت فراہم کرے گی۔

مزید : صفحہ اول