دنیا بھر میں سالانہ خوراک کا نصف حصہ ضائع ہوجاتا ہے‘عالمی ماہرین

دنیا بھر میں سالانہ خوراک کا نصف حصہ ضائع ہوجاتا ہے‘عالمی ماہرین

  

کراچی ( اکنامک رپورٹر) برطانیہ کے مشہور ادارے،، انسٹی ٹیوٹ آف میکینیکل انجینئرنگ،، نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں ہرسال خوراک کا تقریبا نصف حصہ ضائع ہوجاتا ہے جس کی وجہ اس کی حفاظت کیلئے مناسب اقدامات کی کمی اور گھروں میں وقت سے پہلے کثیر مقدار میں خوراک ذخیرہ کرنے کا رجحان ہے۔ادارے کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں خوراک کا 1.2 ارب سے 2 ارب ٹن تک ذخیرہ نامناسب حفاظتی اقدامات اور دیگر وجوہات کے باعث ہر سال ضائع ہو جاتا ہے جو مجموعی عالمی خوراک کا 30 سے 50 فیصدہے اوراسے محفوظ کر کے 3 ارب لوگوں کو خوراک فراہم کی جا سکتی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ خوراک کے ضیاع کی اہم وجوہات روایتی طور پر خوراک کی غیر محفوظ ذخیرہ اندوزی کے ساتھ ساتھ جدید تجارتی اصولوں کے تحت ایک کے بدلے ایک فری جیسے زبردستی فروخت کے اقدامات بھی ہیں جن کے تحت خریدار چیزیں خریدنے کے باوجود انھیں استعمال کرنے سے قاصر رہتے ہیں جس کا نتیجہ ان اشیاءکا یقینی ضیاع ہے۔صرف برطانیہ میں 30 فیصد سبزیوں کی کاشت فقط اس بنیاد پر نہیں کی جاتی کہ وہ ظاہری طور پر صارف کے مطلوبہ معیار پر پوری نہیں اترتیں،اس کے علاوہ یورپی اور امریکی خطے میں شہریوں کی جانب سے خریدی گئی نصف کے قریب خوراک ہر سال تلف کر دی جاتی ہے۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر زرعی شعبے میں سالانہ 550 ارب کیوبک میٹر پانی ضائع کیا جاتا ہے جوکہ عام آدمی کے لیے قابل استعمال نہیں رہتا، اس کے علاوہ زرعی اجناس کی نسبت گوشت کی پیداوار میں بھی پانی نسبتا زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک کلو سبزی کی پیداوار میں جتناپانی استعمال ہوتا ہے اس سے 20 سے 50 گنا پانی ایک کلو گوشت کی پیداوار پر صرف ہوتا ہے، پانی کے استعمال و ضیاع کی یہی صورتحال رہی تو 2050 ءتک اس کی زرعی مقاصد کیلئے طلب 10 سے 13 ٹریلین کیوبک میٹر تک پہنچ جائے گی جوکہ آج ہر شخص کی ضرورت سے اڑھائی سے ساڑھے تین گنا زیادہ ہوگی جس سے پانی کا شدید بحران پیدا ہوسکتا ہے۔انھوں نے کہا کہ اگر پانی کے ضیاع کو روکا جائے تو اس سے زرعی پیداوار میں 60 سے100 فیصد اضافے کے ساتھ ساتھ توانائی اور پانی کے ذخائر کی بھی بچت کی جاسکتی ہے۔

مزید :

کامرس -