کاش کوئی معجزہ ہو جائے

کاش کوئی معجزہ ہو جائے
کاش کوئی معجزہ ہو جائے

  

مذاکرات کی بساط تو اب لپیٹی جاچکی ہے۔اس کا ذمہ دار کون ہے؟ اس کا جواب تو سب کو معلوم ہے، مگر اسے تسلیم کرنے کے لئے کوئی تیار نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ مذاکرات کی بیل کبھی منڈھے چڑھ ہی نہیں سکتی، کیونکہ اس کے لئے طالبان اور حکومت کے سامنے جو دیوہیکل رکاوٹیں کھڑی ہیں، انہیں ہٹانا ممکن ہی نہیں ہے۔یہ کیسے مذاکرات تھے کہ جن میں کوئی ایجنڈا ہی طے نہیں کیا گیا تھا۔یہ کہنا بے وقوف بنانے کے سوا اور کچھ نہیں تھا کہ مذاکرات آگے بڑھیں گے تو ایجنڈا بھی طے ہو جائے گا ، اگر پہلے سے ایجنڈا طے ہوتا تو پھر طالبان کی طرف سے حملے بھی نہیں ہونے تھے اور مذاکرات میں ڈیڈ لاک بھی نہیں آنا تھا۔مَیں نے جب سے سوشل میڈیا پر ایف سی اہلکاروں کے قتل کی ویڈیو دیکھی ہے اور ان کی سرکٹی لاشوں کو سڑک کنارے بے دردی سے روندے جانے کا منظر دیکھا ہے،مجھے کہیں سے بھی نہیں لگتا کہ مذاکرات کا عمل کامیاب ہوگا، جو لوگ اس حد تک جا سکتے ہیں ، انہیں دینے کے لئے حکومت کے پاس کیا ہے کہ وہ اس کی بنیاد پر سب کچھ چھوڑ کر قومی دھارے میں آ جائیں، طالبان تو اپنے مطالبات میں بالکل واضح ہیں، البتہ ہماری حکومت کئی طرح کے مخمصوں کا شکار ہے، ایسے مخمصے جن کا حل ہی موجود نہیں، جو لوگ یہ آس لگائے بیٹھے ہیں کہ طالبان اپنی غیر اعلانیہ سلطنت سے دستبردار ہوجائیں گے، وہ شاید خود کو بھی دھوکہ دے رہے ہیں۔طالبان کی اب تک ہونے والی جدوجہد اس امر کا اظہار ہے کہ وہ حکومت سے اپنا وجود منوانا چاہتے ہیں۔وہ ریاست کے اندر ریاست کا مطالبہ کررہے ہیں اور پھر یہ بھی چاہتے ہیں کہ ان کا وضع کردہ ریاستی نظام پورے پاکستان تک پھیل جائے۔اب یہ ایسا مطالبہ ہے جسے پاکستان کی کوئی حکومت منظور نہیں کر سکتی، گویا ایک واضح رکاوٹ تو سامنے کھڑی ہے، جس سے نظریں چرائی جا رہی ہیں۔

کہتے ہیں کہ طالبان کی شوریٰ بہت ذہین افراد پر مشتمل ہے۔یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی طاقت کو سنوار رہے ہیں۔ اگر اس بات کو درست مان بھی لیا جائے تو بھی یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ طالبان کی شوریٰ نے مذاکرات کے دوران حملے نہ روک کر اپنا ہی نقصان کیا ہے۔ان کے حق میں رائے عامہ بہتر ہو سکتی تھی، اگر وہ ایک ایسے موقع پر مثبت سوچ کا اظہار کرتے، جب پاکستان کی حکومت اندرونی دباﺅ کی وجہ سے طالبان کے ساتھ مذاکرات پر مجبور ہو گئی تھی۔ایسا نہ کرکے انہوں نے خود اپنی کمیٹی کو دفاعی پوزیشن پر لاکھڑا کیا۔ خاص طور پر ایف سی اہلکاروںکے شہادت کے واقعہ نے تو سارا منظر ہی تبدیل کرکے رکھ دیا۔خود طالبان کمیٹی کے ارکان کو بھی اس پر افسوس کا اظہار کرنا پڑا۔جیسا کہ خود وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے کہا ہے۔ حکومت آپریشن کا فیصلہ کر چکی تھی اور تقریر بھی تیار تھی، مگر پُرامن مذاکرات کو ایک اور موقع دیا گیا۔اب ایسے میں ایک سنجیدگی دونوں کمیٹیوں کے ارکان میں نظر آنی چاہئے تھی، لیکن ایسا نہیں ہوا، جس کی وجہ سے حالات میں بگاڑ آتا چلا گیا اور اب کوئی معجزہ ہی دونوں طرف کی کمیٹیوں کو آپس میں ملا سکتا ہے ۔آپریشن سے روکنے والے اور مذاکرات کے حامیوں کا موقف اب کمزور پڑتا جا رہا ہے۔صرف یہ کہہ دینا کہ آپریشن مسئلے کا حل نہیں، اس سے خون خرابہ بڑھے گا، اب شاید کارگر نہ ہو، کیونکہ خون خرابہ تو جاری ہے۔ طالبان کمیٹی کو شاید مینڈیٹ نہیں تھا یا پھر وہ طالبان شوریٰ کو حملے روکنے پر قائل نہیں کر پائی ایک لمحے کے لئے آپ طالبان کو مذاکرات شروع ہونے کے بعد اگر حملے نہ ہوتے تو صورت حال کتنی مختلف ہوتی۔ طالبان کے چھوٹے موٹے مطالبات تو حکومت کے لئے ماننا مشکل ہی نہ ہوتا۔ مثلاً گرفتار خواتین، بچوں اور بزرگوں کی رہائی۔ آپریشن نہ ہونے کی ضمانت اور ماضی میں کئے گئے واقعات پر کارروائی نہ کرنے کی یقین دہانی۔ یہ مطالبات مانے جاتے تو مذاکرات کی میز پر طالبان اپنے دوسرے مطالبات بھی رکھ سکتے تھے۔ وہ پاکستان میں ایک بہتر سماجی و سیاسی نظام اور آئین پر حقیقی عمل درآمد جیسے مطالبات بھی سامنے لاتے، تو شاید حکومت کے لئے انکار کرنا مشکل نہ ہوتا، مگر یہ نوبت ہی نہیں آئی، قتل و غارت گری کے تسلسل نے سب کچھ ملیا میٹ کر دیا۔

اس وقت پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر غور کیا جائے، توآپریشن کے حامیوںکی آواز زیادہ بلند نظر آ رہی ہے، جبکہ مذاکرات کے حامی اپنی تمام تر ہمدردیوں کے باوجود خود کو کمزور محسوس کر رہے ہیں۔ جماعت اسلامی اگرچہ اب بھی مذاکرات کے آپشن پر ڈٹی ہوئی ہے، لیکن قابل ِ غور نکتہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے موقف میں اب لچک نظر آ رہی ہے۔ منور حسن نے شمالی وزیرستان میں حملوں کی مخالفت کرتے ہوئے انہیں فوری روکنے کا مطالبہ کیا ہے، لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ وزیراعظم نے اگر آپریشن کا فیصلہ کر لیا ہے تو اس کا اعلان کریں، گویا شمالی وزیرستان میں غیر اعلانیہ حملے قبول نہیں ۔ تاہم اگر اعلانیہ آپریشن کیا جائے، تو اسے قبول کر لیا جائے۔ حقیقت تو آج بھی وہی ہے، جو کل تھی کہ ملک میں ہر پُرامن سوچ رکھنے والا فرد یہی چاہتا ہے کہ مذاکرات کے ذریعے امن آ جائے۔ خون بہانے سے کبھی امن قائم نہیں ہو سکتا، مگر حکومت جتنی بھی خود مختار ہو، وہ اپنے عوام کے سامنے جوابدہ ہوتی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ طالبان کے مقابلے میں ریاست کو بڑے دل کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ بیس پچیس انسانی جانوں کے ضیاع پر آپریشن شروع کر کے لاکھوں جانوں کو داﺅ پر نہ لگایا جائے۔ یہ بات بادی النظر میں بہت پُرکشش نظر آتی ہے، لیکن ایسی باریک باتیںعوام کو سمجھ نہیں آتیں۔ وہ جب اپنے اردگرد لوگوں کو دہشت گردی کے واقعات میں مرتے دیکھتے ہیں، تو اُن کا پہلا ردعمل یہی ہوتا ہے کہ حکومت کیا کر رہی ہے۔ جب حکومت کی ناکامی کا شائبہ اُبھرنے لگے تو ریاست کی بنیادیں ہلنا شروع ہو جاتی ہیں۔ دیکھا جائے تو اب بھی حکومت کی طرف سے ایک کمزور ردعمل سامنے آ رہا ہے۔

وزیر داخلہ اور وزیر دفاع کا یہ کہنا کہ عسکری اداروں کو اپنے دفاع کا حق دیا گیا ہے اور وہ طالبان کو حملوں کا جواب دے رہے ہیں، اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ حکومت اب بھی ایک پورے اور بھرپور آپریشن کی ذمہ داری اپنے کاندھوں پر نہیں لینا چاہتی۔ دوسری طرف یہ حقیقت بھی کسی سے مخفی نہیں کہ خود مسلح افواج پر قوم کی طرف سے دباﺅ بڑھ رہا ہے۔ جب عاصمہ جہانگیر جیسی شخصیات ٹی وی چینلوں پر یہ کہنے لگیں کہ فوج اگر آپریشن نہیں کرنا چاہتی، تو ہمیں اسلحہ دے دیں ہم طالبان کا مقابلہ کریں گے، تب اس ادارے کی قیادت کے اضطراب کو بخوبی محسوس کیا جا سکتا ہے، جس پر پہلے ہی اپنے افسروں و جوانوں کی شہادت کے باعث ردعمل کے حوالے سے خاصا دباﺅ ہے، جس طرح حکومت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ طاقت کی بنیاد پرکبھی اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکتی، اسی طرح طالبان کی قیادت کو بھی اس بارے میں سوچنے کی ضرورت ہے۔ یہ ممکن ہے کہ آپریشن کے نتیجے میں امن قائم نہ ہو سکے، مگر یہ بھی تو نہیں کہا جا سکتا کہ اس سے دونوں فریقوں میں سے کسی ایک کو فائدہ ہو گا۔ جیسا کہ طالبان کمیٹی کے ارکان دعویٰ کرتے ہیں کہ آپریشن 10سال بھی جاری رہے ، مسئلے کا حل مذاکرات سے ہی نکلے گا، تو پھر انہیں یہ بات سب سے پہلے طالبان کو باور کرانی چاہئے، وہ اگر حملے بند کرنے کا دو ٹوک اعلان کردیں ، تو لامحالہ حکومت کو بھی اسی قسم کے ردِ عمل کا اظہار کرنا پڑے گا۔

حملوں کا بند ہونا کوئی ایسی چیز تو ہے نہیں کہ ایک بار بند ہو گئی تو دوبارہ چل نہیں سکے گی، جب بات مذاکرات کی سطح تک پہنچ جائے، تو سمجھ لینا چاہئے کہ دونوں فریقوں نے ایک دوسرے کوتسلیم کر لیا ہے۔ اس مرحلے پر طاقت کے استعمال کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ مذاکرات کی میز پر اپنے مو¿قف کو گفتگو کے ذریعے منوانے کا طریقہ اختیار کیا جاتا ہے، پہلے تو یہ کہا جاتا تھا کہ امریکہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کے حق میں نہیں، اس لئے اُنہیں مختلف حربوں سے سبوتاژ کر دیتا ہے، مگر اس بار تو امریکہ کی بجائے کو خود فریقین نے سارے معاملے کو الجھا دیا ہے، یہ بہت اُمید افزا بات ہے کہ حکومت اور طالبان کی طرف سے تازہ اشارے ملے ہیں کہ وہ دوبارہ مطالبات شروع کرنے کے حق میں ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ سب سے پہلے ہر قسم کے حملے بند کرنے کا اعلان کیا جائے، اس حوالے سے کسی نوعیت کی پیشگی شرط نہیں رکھی جانی چاہئے، کیونکہ ایسی شرائط سے مذاکرات تک پہنچنا مشکل ہو جاتا ہے، ریاست اور اُس کا آئین بہتر طور پر بڑی اہمیت رکھتے ہیں، انہیں غیر مشروط طور پر تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں، ان دونوں کے دائرے میں رہ کر مذاکرات کو آگے بڑھایا جائے تو شاید ہم اُس ہونی سے بچ جائیں، جو اب نوشتہ ¿ دیوار نظر آرہی ہے۔ کاش کوئی معجزہ ہوجائے یہ نوشتہ ¿ دیوار امن کی تحریر میں بدل جائے۔ ٭

مزید : کالم