ثقا فتی تر قی

ثقا فتی تر قی
ثقا فتی تر قی
کیپشن: ئمار

  

نو آبادیاتی مما لک کی عوام کی لئی تہذیبی اور ثقافتی علامتیں اس لئی زیادہ اہمیت کی حامل رہی ہیں، کیونکہ 20ویں صدی میں سامراج مخالف تحریکوں کی دوران سیا سی جہدوجہد کی ساتھ ساتھ ایسی ثقافتی اظہار بھی اپنائی جاتی، جن کا مقصد یہ ثا بت کرنا ہوتا تھا کہ سامراج کی غلامی کی باوجود ان ممالک کی اپنی الگ شناخت ہی اور وہ اپنی شناخت یا ثقافت کی لئی سامراج کی مرہون منت نہیں ہیں۔ تاہم سامراج سی آزادی کی بعد ان میں اکثر ممالک ایسی تھی جہاں کی فوجی، یک جماعتی آمریت اور جمہوری حکمرانوں نی بھی اپنی حکمرانی کو جواز بخشنی کی لئی تہذیبی اور ثقافتی رویوں کو اپنی سیاسی مقاصد کی لئی استعمال کرنا شروع کر دیا۔ سیاست ہمیشہ سماجی رویوں کی تابع ہوتی ہی اور سماجی رویوں کی تشکیل میں تہذیبی اور ثقافتی رویوں کا گہرا عمل دخل ہوتا ہی۔ ثقافت کی اسی اہمیت کی پیش نظر حکمران طبقات ثقافت اور تہذیب کو اپنی سیاسی ضروریات کی مطابق نئی نئی رنگ اور زاویی دیتی رہتی ہیں۔ مختلف نظریات اور رجحانات کو اپنی مفادات کی لئی من پسند معنی دینا ہمیشہ سی حکمران طبقات کا وطیرہ رہا ہی۔ علامہ اقبال ؒ کی شاعری کو ہی لیجئی۔ ایوب خان، ذوالفقار علی بھٹو اور جنرل ضیاءالحق کی ادوار میں علامہ اقبال ؒ کی شاعری کو اپنی سیاسی مقاصد کی لئی مختلف زاویوں سی پیش کیا جاتا رہا۔ بھٹو دور میں سرکا ری ٹی وی اور ریڈیو پر اقبال کی ایسی اشعار ترجیحی بنیادوں پر پیش کئی جاتی کہ جن سی بھٹو کا اسلامی سوشلزم کا تصور کسی حد تک مطابقت رکھتا ہو، جبکہ ضیاءدور میں اقبال کی ایسی اشعار پیش کئی جاتی کہ جن سی جنرل ضیاءکی نام نہاد اسلامائزیشن پالیسی کو تقویت ملی۔

 پاکستان ہی نہیں تیسری دنیا کی کئی مما لک سی بھی ایسی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں کہ کیسی حکمرانوں نی تہذیب اور تاریخ کی مخصوص گو شوں کو ایسی زاویوں سی پیش کیا کہ جن کا مقصد سرا سر سیاسی ہوتا تھا۔ خاص طور پر عرب اور افریقی ممالک کی آمروں نی اپنی سخت گیر آمر یتوں کو جواز بخشنی کی لئی ایسی تہذیبی اور تاریخی علامتوں کا استعمال کیا کہ جو ان کی اقتدار اور سیاسی ضروریات سی میل کھاتی تھی۔ صدام حسین کویت پر عراقی حملی تک اپنی سخت گیر آمر یت کی لئی قدیم بابلی تہذیب اور اس کی انتہائی مضبوط بادشاہ Nebuchadnezzar (بخت نصر) کو نمونہ کی طور پر پیش کرتی تھی۔ مصر کی جمال عبدلناصر اپنی قوم پرست سیاست کی لئی فرعونی تہذیب پر فخر کرتی۔ ایران کی پہلوی بادشاہ اپنی ملوکیت کو جواز بخشنی کی لئی قدیم فارس کی تاریخ کو استعمال کر تی۔ اسی پہلوی خاندان کی رضا شاہ پہلوی نی 1971ءمیں 200ملین ڈالرز کی خرچی سی ایران میں بادشاہت کی2500سال پوری ہونی پر ایسا جشن منایا، جس میں تقریباً پوری دنیا کی حکمرانوں نی شرکت کی۔

نائن الیون کی بعد پاکستانی سماج میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی اور دہشت گردی سی ریاست کی رٹ بُری طرح سی پاما ل ہو رہی ہی۔ ایسی میں حکمران طبقات کی چند دھڑوں کی یہ کوشش ہی کہ وہ پاکستانی تہذیب اور ثقافت کی ایسی زاویی اور علامتیں دنیا کی سامنی پیش کریں کہ جن سی پاکستان کی روشن خیال تصویر اُبھر کر سامنی آئی۔ مشرف دور میں نام نہاد روشن خیالی کی پالیسی اسی سلسلی کی کڑی تھی۔ حال ہی میں اختتام پذیر ہونی والی سندھ ثقافتی میلی کا مقصد بھی بظاہر یہی تھا کہ پاکستان کا روشن خیال چہرہ عیاں کیا جا ئی۔

یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہی کہ کیا 2000 سی زائد پولیس اہلکاروں کی حصار میں جدید آلات کی ذریعی موسیقی پیش کرنی، مصنوعی چمک دمک کا سہارا لینی، ایل ای ڈی رقص،کنسرٹس اور فیشن شوز جیسی علامتوں کی ذریعی صحیح معنوں میں ثقافت کو اجاگر کیا جا سکتا ہی؟ کیا ایسی علامتوں کا سندھ دھرتی کی باسیوں کی اکثریت سی کوئی ثقافتی تعلق بنتا ہی؟ کیا ان میلوں میں شریک اشرافیہ کی چند سو افراد ہی سندھ کی ثقافت کی امین تھی؟ حقیقت تو یہ ہی کہ سندھ دھرتی کی باسیوں کی اکثریت آج بھی قرون وسطی کی عہد کی کلاسیکل جاگیرداری نظام کی تحت انتہائی افلاس، غربت، ناخواندگی،سماجی و معاشی بی انصا فی اور عدم مساوات کی تحت اپنی زندگی گزارنی پر مجبور ہی۔ پیروں ، جاگیرداروں، وڈیروں اور سجادہ نشینوں کی غلامی میں رہنی والا ایک عام سندھی کس ثقافت کا نمائندہ ہی؟سندھ کی اکثر جاگیرداروں کا تعلق پیپلزپارٹی سی ہی ہی جو سندھ کی ساتھ ساتھ مرکز میں بھی کئی بار اقتدار میں آئی، مگر اس کی باوجود اس جماعت نی سندھ کی باسیوں کو غربت اور افلاس سی نکالنی کی لئی کچھ نہیں کیا ۔

طبقاتی معاشری کی تہذیب اور ثقافت بھی طبقاتی ہوتی ہی، لہٰذا پاکستان یا سندھ کی ثقافتی اور تہذیبی مسائل پر غور کرتی ہوئی ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ ہم کس طبقی کی ثقا فت کا تحفظ چاہتی ہیں۔ وڈیروں، جاگیرداروں، پیروں اور سجادہ نشینوں کی ثقافت کا یا ہاریوں، کاشتکاروں اور سندھ کی عام آدمی کی ثقافت کا؟ کسی معاشری کی بامقصد تخلیقات اور سماجی اقدار اس کی طرز زندگی اور طرز فکر و احساس کا جوہر ہوتی ہیں، چنانچہ زبان، آلات و اوزار، سماجی رشتی، رہن سہن، فنون لطیفہ، علم و ادب، فلسفہ و حکمت،اخلاق و عادات اور عشق و محبت کی سلوک وغیرہ تہذیب اور ثقافت کی مختلف مظاہر ہیں۔ یہ ثقافتی، ترقی اور اختراع افراد ہی کی مرہون منت ہوتی ہی، مگر ایسی افراد ثقافتی ترقی کی لئی اپنا کردار کیسی ادا کر سکتی ہیں، جو معاشی وسائل نہ ہونی کی باعث جاگیرداری نظا م میں بی بسی سی اپنی زندگی گزار رہی ہوں۔

بلاول بھٹو زرداری اگر واقعی سندھی ثقافت کو ترقی دینا چاہتی ہیں تو وہ سندھ کی باسیوں کو استحصالی نظام سی نجات دلائیں۔ سندھ کی تہذیب اور ثقافت بہت قدیم اور عظیم ہی۔ اس عظیم ثقا فت کو ترقی صرف اسی صورت میں مل سکتی ہی کہ جب سندھ دھرتی کی عام باسی بھی اس میں اپنا کردار ادا کر نی کی قابل ہو سکیں۔ اس حوالی سی ہماری پاس وینزویلا اور لاطینی امر یکی ممالک کی نظیر بھی موجود ہی ۔ ہیوگو شا ویز نی 1999ءمیں اقتدار میں آنی کی بعدBolivarian Revolution کی نام پر جہاں ایک طرف مقامی ثقافت کو اپنانی اور ترقی دینی کی ساتھ ساتھ اسی Bolivarian Revolution کی ہی نام پر اپنی ملک کی عوام کی معاشی بہتری ، سماجی انصاف اور انہیں بھی وسائل میں حصہ دار بنا نی کی لئی ٹھوس اقدا مات اٹھا ئی۔ یہی وجہ ہی کہ ہوگیو شاویز کی یہ سوچ اور فکر لاطینی امریکہ کی دیگر ممالک کی لئی مثال بن گئی۔ لاطینی امریکہ کی اس تجر بی سی پاکستان سمیت ایشیا ئی اور افر یقی ممالک بھی فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔ عوام کی حقیقی شمولیت کی بغیر نہ صرف ثقافتی ترقی کا عمل رک جاتا ہی، بلکہ یہ حکمران طبقات کی ہاتھوں میں موم کی گڑیا بنی رہتی ہی جسی وہ اپنی سیا سی مقاصد کی لئی من چاہی شکل دیتی رہتی ہیں۔ ثقافتی ترقی میں عوام کی شمولیت اسی وقت ممکن ہی کہ جب انہیں معا شی وسائل میں بھی حصی دار بنا یا جائی۔  ٭

مزید :

کالم -