سرکاری محکموں کی کارکردگی، ماضی کے آئینے میں!

سرکاری محکموں کی کارکردگی، ماضی کے آئینے میں!
سرکاری محکموں کی کارکردگی، ماضی کے آئینے میں!
کیپشن: ch

  

اصغر خان نے ریٹائرمنٹ کے بعد سیاست میں بھی حصہ لیا اور قومی اسمبلی کے رکن بنے، ان کی ملازمت پولیس کی تھی۔لاہور میں سٹی انسپکٹر، ڈی ایس پی اور ایس پی تک عہدوں پر کام کیا اور ترقی کرکے انسپکٹر جنرل بن کر ریٹائر ہوئے۔ چودھری محمد امین بھی منزلیں طے کرکے آئی جی ہوئے، جبکہ حاجی حبیب الرحمن ایس ایس پی لاہور تعینات ہوئے اور انسپکٹرجنرل پولیس بنے۔ایک صاحب اور تھے، اسم گرامی سعید احمد اور لاہور کارپوریشن کے ایڈمنسٹریٹر رہے، پہلے دونوں حضرات رینکر تھے تو دوسرے دونوں سی ایس پی تھے۔

یہ چاروں حضرات آج اس دنیا میں موجود نہیں، لیکن ان کی بہت سی یادیں اور کارنامے اب بھی یاد آئیں تو داد کے الفاظ نکل ہی جاتے ہیں۔اصغر خان جب لاہور سٹی انسپکٹر تھے تو سخت گیر افسر بنے، جلد ہی ان کا رعب بن گیا اور وہ ہلاکو خان کہلائے جانے لگے۔ جب وہ ایس پی بنے تو رات کو اپنے حلقے کے ایس ایچ او حضرات کو فون اور وائرلیس پر چیک کیا کرتے تھے۔ پیپلزپارٹی جب ایوب خان کے خلاف تحریک میں شریک تھی تو یہ تھانہ سول لائنز کے ڈی ایس پی تھے۔شاہراہ قائداعظم ان کے دائرہ اختیار میں تھی اور تمام تر احتجاجی جلوس ادھر ہی آتے تھے، چنانچہ آخری معرکہ آرائی بھی اسی سڑک پر ہوتی۔ اصغر خان خود چھڑی ہاتھ میں لئے سڑک پر بھاگنے دوڑتے دکھائی دیتے اور ان کی کمان میں پولیس تشدد بھی کرتی تھی، چنانچہ پیپلزپارٹی والوں کی بھی دھنائی ہوتی رہتی۔پھر پیپلزپارٹی کا دور آیا، مصطفےٰ کھر گورنر بنے تو اصغر خان کو ایس پی کے عہدے پر ترقی ملی اور وہ خصوصی فورس کے انچارج بنائے گئے۔ اس فورس کی تحویل میں ہیلی کاپٹر بھی تھا۔ پیپلزپارٹی کے کارکنوں نے احتجاج کیا تو مصطفےٰ کھر نے جواب دیا ہم نے حکومت کرنا ہے۔ہمیں اچھے افسروں کی ضرورت ہے، یہی اصغر خان تھانہ انچارجوں کے لئے بھی سخت گیر تھے۔کہا کرتے تھے کہ کسی ایس ایچ او کو رشوت کی ضرورت نہیں، اس کے بچے اچھے سکول میں پڑھتے ہیں، کھانا بھی اچھا پکتا ہے اور ضرورت ہو تو اچھی سے اچھی کار بھی مل جاتی ہے، اس لئے ان افسروں کو لالچ کے بغیر علاقے کی خدمت اور خبرگیری کرنا چاہیے، یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے علاقے میں جرائم کی شرح کم رہتی تھی۔

چودھری امین ٹھیٹھ دیسی بندے تھے۔ڈی ایس پی تھے تو ڈی ایس پی ریکوری مشہور ہوئے، بہت ایکٹو تھے، خود بھی آرام نہ کرتے اور ماتحتوں کو بھی بیٹھنے نہیں دیتے تھے، جہاں تک ان کی مشہوری کا تعلق ہے تو ڈی ایس پی اچھرہ کی حیثیت سے ہر ہفتے ایک پریس کانفرنس کرتے اور چوریوں کے سراغ اور مال مسروقہ کی برآمدگی والی تفصیل بتاتے۔ رپورٹر بھائیوں نے جلد ہی نوٹ کر لیا کہ برآمدگی میں کم نئی اشیاءاور باقی پہلے والی ہوتی ہیں۔صرف ترتیب بدل جاتی ہے۔

الحاج حبیب الرحمن لاہور کے ایس ایس پی تھے تو گورنر جنرل محمد موسیٰ تھے، اس زمانے میں پولیس مقابلے شروع ہوئے جب ان سے پوچھا جاتا کہ یہ جعلی ہیں تو جواب میں انکار کے بعد تفصیل بھی بتائی جاتی اور پھر وہ پوچھتے ،عوام کیا کہتے ہیں، جواب فطری ہوتا کہ وہ تو سنگین نوعیت کے جرائم میں ملوث بااثر ملزموں کے مرنے پر اطمینان کا سانس لیتے ہیں، یہ بھی مضبوط اعصاب کے افسر تھے اور ماتحت کو غفلت نہیں کرنے دیتے تھے،یہ بھی یاد ہے کہ اس دور کے کئی نامی گرامی دادا حضرات نے ازخود غنڈہ ایکٹ میں گرفتاری دے کر خود کو جیل میں بند کرا لیا تھا۔ یہ بڑے اعتدال پسند تھے ان کے دور میں ہم نے ڈبہ پیر برآمد کیا اور حاجی حبیب الرحمن نے مذکورہ شخص کو گرفتار کراکے سب کے سامنے پیش کردیا اور پھر وہ سین بھی یادگار تھا کہ کشف اور کرامت کا یہ دعویدار ایس ایس پی کے دفتر میں رپورٹروں کے سامنے ہی کانپتے ہوئے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ رہا تھا اور اس نے یہ بھی دہائی دی کہ وہ یہ دھندا چھوڑ دے گا۔بھینس کا دودھ بیچ کر گزارا کرے گا، ان کے دور میں بھی جرائم میں کمی ہوئی اور پولیس کی رشوت ستائی میں بھی فرق آیا تھا۔

سعید احمد مرحوم سی ایس پی تھے ان کو بھٹو دور میں لاہور کارپوریشن کا ایڈمنسٹریٹر لگا دیا گیا۔ زبردست صلاحیتوں کے مالک تھے بہت جلد کارپوریشن کے عملے نے عوام کے کام بحسن و خوبی پورا کرنا شروع کردیئے۔ یہ نہیں کہ رشوت ختم ہوگئی تھی،لیکن اتنا ضرور ہوا کہ پہلے بھاﺅ تاﺅ ہوتا تھا۔ان کے دور میں ملازم جائز کام کرکے انعام کے طور پر کچھ حاصل کرتا تھا۔

ہمیں ان حضرات کی یاد آئی تو یہ نہ سمجھا جائے کہ صرف یہی تین چار لوگ اپنے نقوش چھوڑ کر گئے، ان کے علاوہ بھی اچھے افسروں کی کمی نہیں تھی، تاہم ان حضرات کی یاد یوں آئی کہ جوہر ٹاﺅن میں ایک ہی خاندان کے آٹھ افراد کا بہیمانہ قتل ہوا، پولیس نے پھرتی کا مظاہرہ کیا اور ایک ہی روز میں تفتیش مکمل کرکے میڈیا کا منہ بند کردیا کہ ایک بھائی نے سب کو قتل کرکے خودکشی کی۔یہ نظریہ پوسٹ مارٹم رپورٹ سے قبل ہی قائم کرلیا گیا،حالانکہ یہ تو پوسٹ مارٹم کے بعد کیمیکل رپورٹ سے معلوم ہونا تھا کہ مقتولین کو بے ہوش کیا گیا یا نہیں اور ان کی بے ہوشی کی وجہ کیا ہے؟ یہ تکلف گوارا نہیں کیا گیا اور مقتولین ہی میں سے قربانی کا بکرا تلاش کرکے خانہ بند کردیا کہ کون درد سر مول لے۔

اسی طرح آج کل ڈی سی او کی طرف سے تجاوزات کے خلاف مہم شروع کرنے کے علاوہ مویشی باہر نکالنے کا حکم بھی دیا گیا ہے اور جس طرح یہ مہم شروع ہوئی اور جاری ہے اس کا انجام بھی بالکل واضح ہے کہ ویسا ہی ہوگا جیسا پہلی کئی مہموں کا ہوا، اس میں سوال یہ ہے کہ جب یہ تجاوزارت ہوتی ہیں تو کس کی ملی بھگت سے ہوتی ہیں اور مویشی نکال دیئے جانے کے بعد بھی واپس کیوں آ جاتے ہیں؟ اور پھر کئی علاقوں کے مویشی احاطوں میں بند کرکے کیسے دن گزار لئے جاتے ہیں۔یہ سب بلدیہ اور ایل ڈی اے کے عملے کی ملی بھگت اور ذاتی آمدنی کے باعث ہوتا ہے۔سعید احمد(مرحوم) کے دور میں ایسا نہیں ہوتا تھا۔انہوں نے ہر ہدائت اور حکم کے لئے ایک فالواپ کا نظام بھی متعارف کرایا تھا، اس کے لئے جو حضرات متعین کئے جاتے وہ چھان پھٹک کر لئے جاتے تھے۔

ماضی سب کو اچھا لگتا ہے۔لیکن یقین جانئے ہم نے اپنی اس پیشہ ورانہ زندگی میں جو کچھ گزشتہ پچاس، اکیاون سالوں میں دیکھا ، اس کے مطابق تو ہر آنےو الا دن پہلے سے بدتر ہی ثابت ہوا، آج جرائم کی شرح زیادہ ہے تو جرائم پر قابو پانے والوں کی اہلیت کا بھی سوال ہے۔اسی لئے چند نام لے کر کچھ کہنے کی جسارت کی ہے، جن حضرات کا ذکر کیا وہ کوئی ولی تو نہیں تھے ،لیکن اپنے اپنے انداز کے افسر ضرور تھے کہ آج بھی وہ یاد آ جاتے ہیں۔  ٭

مزید :

کالم -