حکومت،چڑیا ،کھچڑی اور امن

حکومت،چڑیا ،کھچڑی اور امن
حکومت،چڑیا ،کھچڑی اور امن
کیپشن: sarfraz

  

چڑیا، کّوے سے بھی چالاک تھی، دونوں بھوکے اور موسم انتہائی خوشگوار تھا۔ چڑیا بولی: ”ماموںکوا! چلو کھچڑی بنا کر کھاتے ہیں“۔کوا جانتا تھا کہ ان کے پاس چاول ہیں نہ دال، گھی ہے، نہ نمک ،کھچڑی بنانا کیسے ممکن ہے؟ اس نے چڑیا کو سمجھانے کی کوشش کی، لیکن چڑیا نے کوے کو عجب انداز میں بھڑکایا ،اس نے کہا:”کوے ماموں ! آپ دلیرہیں ،بڑے پھرتیلے ہیں اور آپ کی برق رفتاری؟واہ ! سبحان اللہ! آپ کے لئے ساری چیزیں اکٹھی کرنا مشکل نہیں، ایک لمحہ میں آپ نے گاﺅں کی طرف جانا ہے اور سب کچھ لے آنا ہے“۔ کوا ،چڑیا کی باتوں میں آ گیا اور پُھرسے اڑا،چڑیا کو یقین تھا کہ اب ماموں سب کچھ کہیں نہ کہیں سے چرا کر لے آئے گا۔ اس نے آسمان کی طرف دیکھا ،گہرے بادل گھرکر آئے تھے، وہ اس خیال سے ہی مسرور تھی کہ رم جھم برسات میں کھچڑ ی کھانے کا خوب مزا آئے گا، وہ اٹھکیلیاں لینے لگی ،ٹہنی ٹہنی پھدکنے لگی ،دوسری طرف کوا ”مشن“ پر تھا ، اس نے دیکھا کہ ایک چوبارے پر خاتون بیٹھی چاول چُن رہی ہے اور قریب ہی اس کا بچہ جھو لے میں لیٹا ہے، وہ منڈیر پر اِس آس میں بیٹھ گیا کہ جیسے ہی خاتون کی نظر اِدھر اُدھر ہو وہ چاول چُرا لے گا۔

 خاتون چاولوں کے تھال پر پوری طرح جھکی ہوئی تھی اور ان کی صفائی میں مگن تھی۔کوا بیٹھے بیٹھے تھک گیا تو اس نے عجب انداز میں شور مچانا شروع کر دیا۔ خاتون نے نظر اُٹھا کر اس کی طرف دیکھا، لیکن پھر تھال پر جھک گئی ، وہ جان گیا کہ کوئی بڑا ”ڈرامہ“ کئے بغیر چاول ہاتھ نہیں آئیں گے۔ اس نے اُڈاری بھری اور خاتون کے سوئے بچے کے جھولے پر جا بیٹھا، خا تو ن گھبرا کر اٹھی کہ کہیں وہ اس کے معصوم بچے کو نقصان نہ پہنچا دے، یہی وہ لمحہ تھا، جس کا کوّے نے بھرپور فائدہ اٹھا یا اور بجلی جیسی تیزی سے چاو لوں والے تھال پر جھپٹ پڑا، وہ منصوبے میں کامیاب رہا ،چاول اس کی چونچ میں تھے،مگر اس سے پہلے کہ وہ دال لینے جاتا اس نے چاول لےجا کر چڑیا کو تھما دیئے اور کہا کہ دیگر چیزیں ابھی لے کر آتا ہوں، تم کھچڑی بنانے کی تیار ی کرو، لیکن چڑیا کے سر پر تو ”عیاشی“ سوا ر تھی،اس نے تہیہ کر رکھا تھا کہ ساری کھچڑی کوے سے بنوانی ہے۔

اب کوا کریانے کی ایک دکان پر تاک لگائے بیٹھا تھا، اس کا خیال تھا کہ جیسے ہی دکاندار آگے پیچھے ہو گا، وہ دال اور گھی چرا لے جائے گا ۔ ایسا ہی ہوا، وہ ساری چیزیں لے کر چڑیا کے پاس پہنچ چکا تھا، لیکن اسے اس بات پر سخت غصہ آیا کہ چڑیا نے ابھی تک چولہا گرم نہیں کیا تھا۔ اس نے ”سستی“ کی وجہ پوچھنا چاہی، تو چڑیا نے مزید چالاکی سے کہا: ”ماموں کوّے ! آپ تو ”ایویں“ ہی ناراض ہو رہے ہیں، مَیں نے امی سے سنا تھا، آپ بہت اچھی ”کوکنگ“ کرتے ہیں،اس لئے مَیں نے چاہا کہ آج کھچڑی آپ بنائیں، دیکھیں!موسم کتنا اچھا ہے اور ایسے موسم میں میری بنی بدمزہ کھچڑی کا خاک مزا آئے گا“؟کوا پھر چڑیا کی باتوں میں آ گیا اور اس نے اِترا کر ”باورچی خانہ“ سنبھال لیا ،چولہا جلایا ، چاول دھوئے ، دال صاف کی، شاندار تڑکا لگاکر بہترین کھچڑی بنائی، چڑیا سارا منظر چپ چاپ دیکھتی رہی، لیکن جیسے ہی کوئے نے گرما گرم کھچڑی چولہے سے اتاری، تو اس کے مُنہ میں پانی بھر آیا، اس نے اڈاری بھری اور سیدھی کھچڑی والے دیگچے کے پاس آ بیٹھی، جی چاہا سارا دیگچا ہڑپ کر جائے اور کوئے کو کچھ نہ دے، اب وہ کوّے کی تعریفوں میں لگ گئی، وہ کہہ رہی تھی ۔

”واہ!ماموں ! آپ نے تو بہت اعلیٰ ”ڈش“بنائی ، کتنی پیاری خوشبو آ رہی ہے، ابھی مل کر کھائیں گے، لیکن اس سے پہلے بھاگ کر کنوئیں سے پانی بھر لائیں، کیونکہ بغیر پانی کے دستر خوان نہیں سجے گا اور کھانے کا مزا نہیں آئے گا“۔ کوا ”کوکنگ“ کی تعریفوں پر پھولا نہ سماتا پانی لینے چلا گیا، یہی وہ وقت تھا، جس کا چڑیا انتظار کر رہی تھی ، اس سے پہلے کہ کوا پانی لے کر واپس آتا ،چڑیا ساری کھچڑی ہڑپ کر چکی تھی۔ کوا آیا تو اسے یہ دیکھ کر بہت غصہ آیا کہ چڑیا نے اس کے ساتھ سخت دھوکا کیا ، وہ آگ بگولہ ہوکر چولہے کی طرف بڑھا اور گرما گرم چِمٹا اُٹھا کر چڑیا کی دُم پر رکھ دیا ،چڑیا کی چیخیں نکل گئیں ، ساتھ ہی اس کے مُنہ سے نکلا: ”ہائے! ہائے ! میرا ” جسم سڑیا“۔ کوّے نے بھڑک کر جواب دیا: ”کیوں توں سارا کھِچڑ کھادا....؟“

صاحبو! ویسے تو یہ کہانی بچپن میں نانی اماں کے بستر میں گھس کر سنا کرتے تھے، لیکن اِن دنوں رہ رہ کر یاد آ رہی ہے، یوں لگ رہا ہے، جیسے مسلم لیگ (ن)کی حکومت وہ ”نادا ن کوا“ ہے جو شوخیانہ انداز میں ”کھچڑی “بنائے جا رہی ہے، لیکن کھانے والی چڑیاں کوّے کو داد دے رہی ہیں اور نہ ہی کوئی صفحہ، الٹا ہو رہا ہے کہ مسلم لیگ(ن) کے نصیب میں طرح طرح کی تنقید لکھی جا رہی ہے، حکومت نے پوری نیک نیتی کے ساتھ طالبان سے مذاکرات کے ”چاول“ بنائے تھے، بھاگ بھاگ کر کمیٹیاں بنائیں اور سوچا کہ اگر بات چیت سے معاملات حل ہو جائیں اور بغیر لڑائی جھگڑے کے پاک وطن سے دہشت گردی کا خاتمہ کیا جا سکے، تو اس سے بہتر کوئی بات نہیں، مگر برے نصیبوں کا کیا کیا جائے کہ دوسری جانب ایسی چڑیاں ہیں جو چاولوں پر گزارا کرنے والی نہیں، ان کے مُنہ کو خون لگا ہوا ہے اور وہ مذاکرات کی آڑ میں اپنے ”ٹارگٹس اچیو“ کرنے کے چکر میں ہیں، سچی بات ہے کہ ان مذاکرات کو نہ صرف سیاسی پارٹیوں، بلکہ ملک بھر کے عوام کی تائید و حمایت حاصل تھی، ہر کوئی چاہتا تھا کہ کسی طرح خودکش حملوں ،بم دھماکوں سے اپنے ملک و عوام کو بچا لیا جائے، لیکن کیا کیا جائے کہ ایسا نہ ہو سکا۔

وہ جن کے مفادات پاکستان کی تباہی و بربادی سے جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے اپنے خواب چکنا چور ہوتے دیکھے تو مذاکرات کی اس بیل کو منڈیر چڑھنے نہ دیا۔ مذاکرات کی آڑ میں آئے دن کے دھماکوں اور ایف سی اہلکاروں کی شہادت کے نتیجے میں حکومت کی طرف سے اگر مذاکرات میں ذرا سا تعطل آیا تو دوسری طرف طالبان کمیٹی کے ارکان نے بھی ذرا سی نرمی نہ دکھائی، الٹا کہا گیا کہ ہمیںحکومت سے مذاکرات کا کوئی شوق نہیں ، ٹیم ارکان نے یہاں تک دھمکی دے دی کہ اگر مذاکرات نہیں ہوتے تو پاکستانی عوام پر حملے مزید بڑھ سکتے ہیں .... لو جی صاحبو! بات ماموں کوّے اور چڑیا کی کھچڑی والی ہی بنتی نظر آ رہی ہے۔ حکومت ماموں کوّے کی طرح بھرپور کھچڑی تیار کرنے میں تو کامیاب رہی، لیکن جو چڑیاں پوری کھچڑی سمیٹنے کے چکر میں ہیں، ان کو اب اگر گرم گرم ”چمٹا “لگا تو ان کی طرف سے چیخم دھاڑ ضرور ہو گی، لیکن سوچنے والی بات یہ ہے کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو اس میں گناہ ”ماموں کوّے“کا ہے یا نہیں“؟  ٭

مزید :

کالم -