قانون کہاں ہے؟

قانون کہاں ہے؟
قانون کہاں ہے؟

  

اہل پاکستان کو جب بھی پارلیمنٹ کے ممبران کا انتخاب کرنے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے، وہ پورے جوش اور جذبے کے ساتھ انتخابی عمل میں حصہ لیتے ہیں۔ ان کا خیال ہوتا ہے کہ ان کے منتخب شدہ ممبران ملک کے لئے قانون سازی کریں گے تو ہماری تقدیر بدل جائے گی۔ ہمارا شمار دنیا کی باعزت اقوام میں ہو گا، لیکن بدقسمتی سے قوم کے ارمانوں کا خون ہو جاتا ہے، جب خود وہی قانون ساز قانون شکن بن جاتے ہیں۔ مزید ستم یہ کہ وہ ساری انتظامی مشینری کو بھی اپنا غلام بنا لیتے ہیں۔ گویا باڑ ہی خود کھیت کو کھانے لگ پڑتی ہے۔

2004ءمیں موٹروے پر ایک واقعہ اس طرح پیش آیا کہ قومی اسمبلی کی ایک خاتون ممبر طاہرہ آصف نے ڈیوٹی پر موجود ایک انسپکٹر کو تھپڑ مار دیا۔اخبارات نے انسپکٹر کا قصور یہ بتایا کہ محترمہ کی گاڑی نے ٹریفک کے قوانین کی خلاف ورزی کی تھی اور انسپکٹر نے اس پر اعتراض کیا تھا۔ مزید تفصیل یہ تھی کہ صرف خاتون ہی نے نہیں، اس کے شوہر نے بھی اس انسپکٹر پر تشدد کیا۔اس کے بعد طاہرہ آصف نے اسلام آباد پہنچ کر بیان دیا کہ اس نے انسپکٹرکو معطل کرا دیا ہے۔اس واقعہ کا بہت افسوسناک پہلو یہ تھا کہ طاہرہ آصف اور ان کے شوہر نے پولیس انسپکٹر پر تشدد کرلیا تو اس کے شعبہ کے انچارج ڈی ایس پی صاحب اس رکن اسمبلی خاتون اور ان کے شوہر کو اپنے دفتر لے گئے اور وہاں ان کی خاطر مدارت کی گئی۔ قانون کے مُنہ پر دوسرا تھپڑ تب لگا جب متعلقہ ایس پی بھی موقع پر پہنچے اور خاتون رکن اسمبلی اور ان کے شوہر سے معذرت کی۔

جناب سرفراز سید نے اس واقعہ کو اپنے کالم کا موضوع بنایا اور محترمہ سے پوچھا: کیا یہ بات کسی آئین یا قانون میں درج ہے کہ آپ قانون کی خلاف ورزی کریں تو آپ کی روک ٹوک نہ ہو اور کوئی محافظ قانون آپ کو بتائے کہ آپ قانون کی خلاف ورزی کررہی ہیں تو آپ اس کو تھپڑ مار دیں۔کیا قومی اسمبلی کا رکن بن کر انسان کو سرخاب کے پَر لگ جاتے ہیں کہ وہ قانون سے بالاتر ہوجاتا ہے۔سید صاحب نے موٹروے پولیس کے متعلقہ ڈی ایس پی سے بھی پوچھا کہ ایک ایم این اے نے آپ کے ساتھی کو تھپڑ مارا،آپ ان لوگوں کو گرفتار کرنے کے بجائے کس خوشی میں انہیں اپنے دفتر لے گئے اور ان لوگوں کی خاطر مدارت کی؟

اگر اس رکن قومی اسمبلی کو قانون شکنی کی سزا مل جاتی تو آئندہ اسے کسی انتظامی افسر پر ہاتھ اٹھانے کی جرات نہ ہوتی، لیکن ہوا یہ کہ اُلٹا انتظامیہ قانون شکنی کرنے والوں کو تحفظ دینے میں مصروف ہوگئی۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اسی خاتون ممبر قومی اسمبلی نے ریڈیوپاکستان لاہور کے ایک سینئر پروڈیوسر اکمل شہزاد گھمن کو بھی تشدد کا نشانہ بنا ڈالا ہے۔ طاہرہ آصف 2008ءکے انتخابات میں مسلم لیگ (ق) کی طرف سے ممبر منتخب ہوئی تھیں اور 2013ءکے انتخابات میں وہ ایم کیو ایم کی طرف سے خواتین کے کوٹے سے قومی اسمبلی کی ممبر منتخب ہوئی ہیں۔

اکمل شہزاد گھمن کے بیان کے مطابق 27 ستمبر 2013ءکو وہ جب شملہ پہاڑی کے نزدیک واقع پٹرول پمپ پر پہنچے تو ان کی گاڑی کی کلچ پلیٹ خراب ہو گئی۔ وہ گاڑی کو وہیں روک دینے پر مجبور ہو گئے۔اتفاق سے عین ان کے پیچھے سفید رنگ کی ایک پراڈو نمودار ہوئی۔ اس میں سوار طاہرہ آصف نے گاڑی میں بیٹھے بیٹھے اکمل شہزاد کو بُرا بھلا کہا کہ اُس نے گاڑی عین اُس کی گاڑی کے آگے کیوں کھڑی کی ہے؟ گھمن نے بڑے تحمل سے صورت حال کی وضاحت کی، لیکن اس کے بعد طاہرہ کا پارہ اور چڑھ گیا۔ انہوں نے گالیاں بھی دیں اور اپنے گارڈوں کے ذریعے اکمل پر گھونسوں کی بارش کرا دی۔ گھمن نے پولیس سٹیشن پہنچ کر طاہرہ آصف کے خلاف رپورٹ درج کروائی تو جواب میں طاہرہ نے موقف یہ ظاہر کیاکہ وہ اس روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں شریک تھیں، حالانکہ اسمبلی کا ریکارڈ ان کے بیان سے مطابقت نہیں رکھتا۔

طاہرہ آصف نے مزید کارروائی یہ کی کہ ریڈیو پاکستان لاہور کی سٹیشن ڈائریکٹر ثمینہ وقار سے اکمل شہزاد کو معطل کرا دیا۔ باخبر لوگ بتاتے ہیں کہ ثمینہ اور طاہرہ گزشتہ سال اکٹھی ہی حج پر گئی تھیں اور دونوں میں دوستانہ روابط ہیں۔ ثمینہ نے دوستی کا حق اس طرح ادا کیا کہ انہوں نے اکمل شہزاد گھمن کو سروس سے معطل کردیا۔ یہ واقعہ میڈیا نے بھی فلیش کیا۔

سوال یہ ہے کہ جماعتیں ایسے لوگوں کو امیدوار کیوں بناتی ہیں، جن کے اخلاق کا یہ عالم ہوتا ہے کہ جب چاہیں ڈیوٹی پر متعین کسی افسر کو تھپڑ رسید کر دیں یا کسی کو اپنے ذاتی محافظوں سے پٹوا دیں اور پھر جب چاہیں واردات کرنے کے بعد واردات کے وجود ہی سے انکار کر دیں۔ آخر قانون کہاں ہے؟ بے لگاموں کو لگام کب پڑے گی اور ہمارا شمار باوقار اقوام میں کب ہو گا؟ ٭ 

مزید : کالم