فاسٹ فوڈ، فاسٹ بیماری

فاسٹ فوڈ، فاسٹ بیماری
فاسٹ فوڈ، فاسٹ بیماری

  

سرطان یا کینسر کی بیماری اب اتنی عام ہو گئی ہے کہ برطانیہ میں یہ کہا جاتا ہے کہ 2020ءمیں 50فیصد آبادی اس موذی مرض میں مبتلا ہو جائے گی، یعنی نصف آبادی صرف اسی ایک مہلک مرض میں مبتلا ہوگی۔ دل کے امراض، شوگر کی بیماری اور دیگر کو بھی شامل کرلیں تو ایسا لگتا ہے کہ ساری آبادی ہی امراض میں مبتلا ہوگئی۔بہرحال دنیا کے ترقی یافتہ ملک جہاں صحت عامہ، حکومت کی ترجیح اول رہی ہے اور پورے ملک میں اعلیٰ درجے کے ہسپتال پھیلے ہوئے ہیں، جہاں علاج بالکل مفت ہوتا ہے۔پاکستان سے بھی جو خبریں سرطان کے مرض کے متعلق آ رہی ہیں، وہ بھی ہولناک ہیں، ان کی ہولناکی میں اس وقت مزیداضافہ ہوجاتا ہے،جب یہ بھی احساس ہوتا ہے کہ علاج معالجے کی سہولتیں، عام آدمی کی دسترس سے عموماً باہر ہوتی ہیں، نیز اس خاص مرض کا علاج بھی کہیں کہیں ہوتا ہے اور وہ بھی بہت مہنگا۔

سرطان کے مرض میں اضافے کا باعث، بسیار خوری، شراب نوشی، سگریٹ، پان مع گٹکا، سستے فاسٹ فوڈ، ہوا میں تعفن اور آلودگی، حفظانِ صحت کے اصولوں سے قومی سطح پر عمومی انحراف، یہ سارے عوامل قومی صحت کے جانی دشمن ہیں اور نتیجتاً پوری قوم صحت کی خرابی سے دوچار ہے۔ایک زمانہ تھا کہ اگر کسی کو ہارٹ اٹیک ہوتا تھا تو پھر اس کی موت یقینی تھی۔اس میدان میں بڑی ترقی ہوئی، مختلف اقسام کی تدابیر پیدا ہوئیں، نیز دوائیں بھی دریافت ہوئیںجو زیادہ مہنگی بھی نہیں ہوتیں اور بعض اوقات اللہ تعالیٰ کے حکم سے جراحی کے ذریعے انسان کو ایک نئی زندگی عطا ہو جاتی ہے۔کینسر کے سلسلے میں تجربات تو بہت ہو رہے ہیں اور اگر مرض کی ابتدائی حالت میں تشخیص ہو جائے تو علاج معالجہ اور آپریشن کے ذریعے مہلت حیات بڑھ بھی جاتی ہے۔

دواﺅں پر بھی ریسرچ ہو رہی ہے، مگر سوائے کیمو تھراپی اور ریڈیائی شعاعوں کے علاج کے ابھی تک کوئی ایسی دوا ایجاد نہیں ہو سکی جو عام طور پر مل بھی جاتی ہو اور موثر بھی ہو۔ابھی حال ہی امریکہ کی ایک کمپنی نے ایک دوا ایجاد کی، مگر اس کا ایک سال کا خرچ 90ہزار ڈالر ہے، ہندوستان کی ایک کمپنی نے اسے 60ہزار میں مہیا کرنے کا عندیہ دیا ہے، مگر امریکہ کی کمپنی جو اس کی موجد ہے، اسے ”حقِ تیاری“ نہیں دے رہی اور شائد نہہی دے، یوں بھی 60 ہزار ڈالر سالانہ ایک بڑی رقم ہے جو چند مریض ہی دے سکتے ہوں۔اس صورت میں ضرورت اس بات کی ہے کہ بچپن سے ہی ہم حفظانِ صحت کے اصولوں کی پابندی کریں اور وہ ساری عادتیں جو سرطان کا موجب بنتی ہیں، فوری طور پر چھوڑ دیں، نیز تازہ سبزیوں، پھلوںکا استعمال کریں اور اصلی گائے، بھینس یا بکری کا دودھ پئیں اور نہ جانے کن کن تیلوں اور اجزاءسے ہمارے فاسٹ فوڈ بنتے ہیں، ان سے پرہیز کریں۔اس دور کا بڑا ہی فسوں انگیز ماحول ہے کہ ہم ہر معاملے میں بہت ہی فاسٹ ہیں، آمدورفت، رسل و رسائل، حتیٰ کہ فون پر ایک دوسرے کو پیغام رسانی میں بھی فاسٹ ٹریک استعمال کرتے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ ہم سب کو بہت جلدی ہے، نہ جانے کس بات کی؟ اب تک نہیں سمجھ سکا۔ ٭

مزید : کالم