پاک چین دفاعی اور اقتصادی تعاون

پاک چین دفاعی اور اقتصادی تعاون

  

صدر ممنون حسین کے دورہ چین کے اختتام پر جاری کئے گئے مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ دونوں ملک ایک دوسرے کی سالمیت اور خود مختاری کی حفاظت کریں گے۔ دونوں ممالک نے دفاعی ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ دینے اور علاقائی و عالمی پلیٹ فارموں پر مشترکہ موقف اختیار کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ پاکستان نے اپنی ون چین پالیسی کا اعادہ کیا اور چین کی طرف سے یہ کہا گیا ہے کہ اقتصادی راہداری سے مسئلہ کشمیر کی حیثیت متاثر نہیں ہو گی۔ اس کے علاوہ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف اور ان کے وفد نے اپنے دورے کے تیسرے دن بھی بیجنگ میں بجلی پیدا کرنے والی مختلف کمپنیوں ، مالیاتی اداروں، ترقیاتی محکموں اور بنکوں کے سربراہوں سے ملاقاتیں کیں اور ان سے پنجاب میں کوئلہ، شمسی توانائی اور پانی سے بجلی کی پیداوار میں سرمایہ کاری کی مختلف تجاویز پر تبادلہ خیال کیا۔ ان ملاقاتوں کے نتیجے میں پنجاب میں توانائی کے شعبے میں بھاری سرمایہ کاری متوقع ہے۔ وزیراعلیٰ نے چینی سرمایہ کاروں کو بتایا کہ پاکستان میں ہر طرح سے بجلی پیدا کرنے کی گنجائش ہے۔ حکومت پنجاب ان منصوبوں کے لئے سرمایہ کاروں کو منافع کی بہترین شرح آفر کر رہی ہے۔ میڈیاسے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ چین پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ ہماری تاریخ میں یہ چین کی طرف سے پاکستان میں ہونے والی سب سے بڑی سرمایہ کاری ہو گی۔ چین نے صرف انرجی کے شعبے میں20ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا ہے، جس سے20ہزار میگاواٹ بجلی پیدا ہو سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ اب معاملہ ہماری کورٹ میں ہے کہ ہم ان منصوبوں کو کس تیزی سے لے کر آگے بڑھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم چین کے اعتماد پر پورا اتریں گے۔

ان مشکل حالات میں پاکستان کے دیرینہ اور آزمودہ کار دوست چین کی طرف سے ہماری سالمیت اور خود مختاری کے لئے ہمارے ساتھ دفاعی تعاون بڑھانے اور بین الاقوامی سیاست میں ہر سطح پر یکساں موقف اختیار کرنے کا اعادہ قوم کے لئے حوصلہ افزا بات ہے۔ چین دنیا کی بڑی اقتصادی اور فوجی طاقت ہے اس کی اہمیت کسی طرح بین الاقوامی سطح پر کم نہیں کی جا سکتی۔ اس کی طرف سے پاکستان کے ساتھ آج تک گراں قدر دفاعی اور اقتصادی تعاون کیا گیا ہے۔ قراقرم ہائی وے(شاہراہ ریشم) کی تعمیر، ٹیکسلا ہیوی کمپلیکس اور گوادر بندرگاہ اس کی چند مثالیں ہیں۔ اس وقت ہمیں لوڈشیڈنگ سے نجات دلانے کے لئے20ارب ڈالر کی لاگت سے 20ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے منصوبے ہماری معیشت کے لئے ایک انقلاب آفرین اقدام ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان سے ہماری صنعت اور زراعت کو بھی فروغ ملے گا اور ملک میں روزگار کے لاکھوں نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

چینی بے حد محنتی قوم ہیں ، ان سے ہمارے لوگ بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ چینی نظام کا سب سے اہم پہلو چینی حکومت کے ہر منصوبے اور ہر اقدام کے پیچھے صرف قومی مفاد اور عوامی فلاح کی روح کا کارفرما ہونا ہے۔ اس کا یک جماعتی نظام اس کی قیادت کو اپوزیشن کی ہر طرح کی بلیک میل سے محفوظ رکھتا ہے۔ ہر سطح پر پوری جمہوری سپرٹ کے ساتھ مکمل مشاورت اور شفاف انداز میں فیصلے کئے جاتے اور ان پر مستعدی کے ساتھ عمل درآمد کرایا جاتا ہے۔ پاکستان کی چین کے ساتھ زمین کے راستے سے بھی ایک ارب سے زیادہ کی تجارت شروع ہوگئی تھی، جس میں روز بروز اضافہ ہو رہا تھا کہ ہنزہ کے قریب عطا آباد کے مقام پر لینڈ سلائیڈنگ سے دریائے ہنزہ کا راستہ بلاک ہونے کی وجہ سے وہاں جھیل بن گئی اور شاہراہ ریشم کا بیس میل کے قریب حصہ اس میں ڈوب گیا، جس سے اس زمینی تجارت کو شدید دھچکا پہنچا اور یہ بڑھنے کے بجائے گھٹ کر چند کروڑ تک رہ گئی۔ عام رائے یہی ہے کہ یہ جھیل بننے سے پہلے دریا کے رکے ہوئے پانی کے نکلنے کا راستہ بنایا اور شاہراہ ریشم پر ٹریفک کو بحال کیا جا سکتا تھا،لیکن ایسا ابھی تک نہیں کیا گیا۔ ایک موقع پر ہر دوسرے دن کنٹرولڈ بلاسٹنگ کے ذریعے جھیل سے پانی نکالنے کا پروگرام بنایا گیا۔ ایک روز بلاسٹنگ کی گئی، جس سے 300فٹ گہری جھیل کا پانی 80 فٹ تک کم ہو گیا، لیکن اس کے اگلے ہی روز چلاس میں 50بے گناہ افراد کو بسوں سے اتار کر قتل کر دیا گیا، جس سے علاقے میں شدید فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہو گئی، جس کے بعد بلاسٹنگ کا سلسلہ روک دیا گیا۔ خنجراب سے گوادر تک اقتصادی کاریڈور (راہداری) کا منصوبہ اس قدر شاندار اور پاکستان اور چین دونوں ملکوں کی معیشت کے لئے اتنا اہم اور انقلاب آفرین ہے کہ ہمارے دشمنوں کے لئے اس کے ٹھنڈے پیٹوں ہضم کر لینے کی توقع نہیں۔ آج تک پاکستان کی دشمن طاقتیں ہمیں اقتصادی طور پر کمزور کرنے اور بعض عظیم الشان منصوبوں کو ناکام بنانے کے لئے ہر حربہ اور اربوں کھربوں روپے خرچ کرتی رہی ہیں۔ دشمن کے مقابلے میں ہم صرف اپنی بہتری اور شاندار مستقبل کی خواہشیں ہی کرتے رہے ہیں۔

وزیراعلیٰ شبہاز شریف کی طرف سے یہ درست کہا گیا کہ اب معاملہ ہماری کورٹ میں ہے کہ ہم ان منصوبوں کو کس تیزی سے لے کر آگے بڑھتے ہیں۔ دوسرے ملکوں کے سرمایہ کار ”ون ونڈو آپریشن“ کی سہولت نہ ملنے کے علاوہ بیورو کریسی کی طرف سے کک بیکس کے لئے برتے جانے والے ہتھکنڈوں سے تنگ آکر بھی واپس چلے جاتے ہیں۔ ہمارے بہت سے سرمایہ کار پاکستان سے کما کر بیرونی ملکوں میں سرمایہ کاری کرنے جاتے ہیں۔ ان کے ساتھ آسٹریلیا جسیے ملکوں کی حکومتوں کا انتہائی شاندار سلوک اور ان کی سرمایہ کاری تک ان کی مسلسل رہنمائی اور اعانت کے رویہ کا مطالعہ کیا جائے، تو یہ طریق کار ہمارے ہاں آنے کے خواہشمند سرمایہ کاروں کے لئے کشش کا باعث ہو گا۔ ضروری نہیں کہ ہم اپنے قومی مفاد کو پیچھے رکھ کر غیر ملکی سرمایہ کاروں کو مراعات اور سہولتیں دیں۔ صرف ان کے ساتھ اچھی پبلک ریلیشنز اور بیور و کریسی کی طرف سے ان کے معاملات جلد سے جلد نمٹانے کی ضرورت ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے ملک میں آتے ہی ا ن کے ساتھ بیرونی سرمایہ کاری کے طریق کار سے آگاہ افراد ان کی اعانت کے لئے حکو مت کی طرف سے مقرر کر دیئے جائیں، جو شفاف طریقے سے سرمایہ کاری کے لئے ان کی اعانت کریں، تو اس سے ایسے سرمایہ کاروں کو ہمارے لوگوں سے مایوس نہیں ہونا پڑے گا۔ اگر ایسا نہ ہو سکا تو پھر شاید چینی کمپنیوں سے کئے گئے موجودہ وعدے بھی آگے نہ بڑھ سکیں۔ چینی حکومت کی طرف سے ملتان تک موٹر وے کی تعمیر میں تعاون ایک بہت اچھی بات ہے۔ اس منصوبے پر پہلے ہی سے کام شروع ہے، لیکن قوم گوادر سے خنجراب تک کی راہداری کے منصوبے کے بلیو پرنٹ کے متعلق بھی جلد ٹھوس اور مثبت خبر سننے کی منتظر ہے۔

مزید :

اداریہ -