شمالی وزیرستان پر بمباری

شمالی وزیرستان پر بمباری

  

شمالی وزیرستان کی تحصیل میر علی اور خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ کے دو مختلف علاقوں میں ازبک ، تاجک اور ترکمان دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر سیکیورٹی فورسز کے فضائی حملوں میں50کے قریب دہشت گرد مارے گئے، جن میں ان کے بعض کمانڈرز اور خود کش جیکٹیں تیار کرنے والے ماہر بھی شامل ہیں۔ ان کے علاوہ اسلحہ اور گولہ بارود کے بھاری ذخائر بھی تباہ کردیئے گئے ہیں۔ وزیر داخلہ چودھری نثار علی نے ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ فضائی حملے جوابی کارروائی کا حصہ ہیں۔ وزیراعظم نے فوجی قیادت سے مشورے کے بعد فیصلہ کیا کہ طالبان حملوں کے بعد بات چیت آگے بڑھانا متاثرین سے ناانصافی ہو گی۔ چودھری نثار نے کہا کہ فوج کو اپنے دفاع میں کارروائی کی اجازت دی گئی۔ ستمبر سے کوئی آپریشن نہیں کیا اور کونسی جنگ بندی کریں؟ مذاکرات تعطل کا شکار ہیں، مگر توقع ہے کہ جلد ٹریک پر آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد محفوظ ہے۔ یہاں القاعدہ طالبان کا وجود نہیں۔ ادھر طالبان کے ترجمان نے کہا ہے کہ طالبان مذاکرات سے پیچھے نہیں ہٹے۔ جنگ بندی سمیت کسی فیصلے پر عمل درآمد میں مشکل نہیں۔

پاکستان کے ان حلقوں اور جماعتوں کی طرف سے جو پہلے ہی سے مذاکرات کی مخالفت کررہی تھیں طالبان کے خلاف کی گئی اس کارروائی پر اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے جبکہ غیر جانبدار قسم کے پاکستانیوں کی طرف سے بھی طالبان کی بہیمانہ کارروائیوں کے بعد اس آپریشن کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔ طالبان سے ہمدردی رکھنے والوں اور صرف مذاکرات ہی کے ذریعے مسئلہ حل کرنے والوں نے سیکیورٹی فورسز کی اس کارروائی کو پسند نہیں کیا۔ تاہم انہوں نے طالبان کی طرف سے قیدی ایف سی اہلکاروں کو قتل کرنے اور کراچی میں پولیس کمانڈوز کی گاڑی پر خود کش حملے کی مذمت بھی کی ہے۔ کوئی بھی صحیح الفکر پاکستانی شہری دہشت گردوں کو قانون اور آئین کے مطابق کام کرنے والی حکومت اور ملک کی محافظ افواج کے برابر رکھ کر نہیں دیکھ سکتا۔ دہشت گردی نے ہر حالت میں ختم ہونا ہے۔ عوام اپنی حکومت اور افواج کا پورا ساتھ دیں گے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ان کی ہر پالیسی کی تائید کریں گے۔ یہ ملک دشمنوں کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے۔

مزید :

اداریہ -