صغریٰ دا پنجاب

صغریٰ دا پنجاب
صغریٰ دا پنجاب
کیپشن: najam wali khan

  

مَیں پنجاب انسٹیٹیوٹ آف آرٹ ، کلچر اینڈ لینگوئج کی ڈائریکٹر ڈاکٹر صغریٰ صدف اوران کے کام کو دیکھتا ہوں تو حیران رہ جاتا ہوں کہ اے میرے خدا، کیا سرکاری ملازم واقعی کام کرتے ہیں، اتنا زیادہ کام کرتے ہیں اور اتنا خوبصورت کام کرتے ہیں۔ مَیں نے ”پلاک “ میں اس وقت پہلی بار حاضری دی تھی، جب معروف فنکار شوکت علی کوپرائیڈ آف پنجاب کا ایوارڈ دیا گیا تھا، اس سے پہلے اور اس کے بعد بھی ان تقریبات کے لئے سینکڑوں کا لفظ ہی مناسب ہو گا، جن کا اہتمام ڈاکٹر صغریٰ صدف نے کیا، جن کی رپورٹنگ الیکٹرانک اور پرنٹ ہی نہیں، سوشل میڈیا کے ذریعے بھی بھرپور ہوتی رہی۔ اس مرتبہ دعوت انٹرنیشنل مدر لینگوئج ڈے کے حوالے سے تھی۔ کسے انکار ہے کہ کسی بھی بچے کو اس کی ماں بولی میں ہی بہترین تعلیم دی جا سکتی ہے، مگر کیا اس سے بھی انکار ہو سکتا ہے کہ پنجابی کے ساتھ ظلم بھی پنجابیوں نے ہی روا رکھا ہے۔ آج ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ پہلی سے چودہویں جماعت تک پنجابی زبان کی تعلیم کو شامل کیا جائے، آج ہم پنجابی زبان کے اخبارات اور چینلوں کو اشتہارات سندھ کی طرح 40فیصد کوٹہ جاری کرنے سمیت بہت سارے مطالبات کرتے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ ہم مطالبات کن سے کر رہے ہیں، کیا اس کا فیصلہ کرنے کا اختیار رکھنے والوں کاپنجاب سے کوئی تعلق نہیں؟

مَیں جانتا ہوں اس لئے کہہ بھی سکتا ہوں کہ ڈاکٹر صغریٰ صدف پنجاب کے آرٹ، کلچر اور زبان کے لئے اس لئے دن رات کام کر رہی ہیں کہ انہیں وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید کی بھرپور سرپرستی اور تعاون حاصل ہے ، یہ درست ہے کہ آپ ایک طرف شاہدرہ اور دوسری طرف ٹھوکر نیاز بیگ سے پرے نکل جائیں تو ہر طرف پنجابی ہی بولی اور سمجھی جاتی ہے، ہماری خوشی اس وقت پوری نہیں ہوتی، جب تک ہم مہندی میں پنجابی ٹپے نہ گالیں، پنجابی گانوں پر رقص نہ کر لیں،ہماراغصہ اس وقت تک پوری طرح ریلیز نہیں ہوتا جب تک پنجابی میں گالیاں نہ نکال لی جائیں، مگر اس کے باوجود ڈاکٹر صاحبہ جن پنجابیوں کے فن، ثقافت اور زبان کو پروموٹ کرنا چاہتی ہیں وہ پنجابی اگر دو، چار جماعتیں پڑھ جاتے ہیں تو پنجابی میں بات کرتے ہوئے ڈرتے ہیں کہ کہیںانہیں اجڈ، گنوار اور جاہل نہ سمجھ لیا جائے۔ کتنی عجیب بات ہے کہ آپ اپنے وطن میں بولی جانے والی اردو غلط اور پنجابی بالکل ہی نہ بولیں تو آپ ماڈرن ہیں، لیکن اگر آپ بدیسی زبان انگریزی غلط بولتے ہیں، تو دوسرے ہی نہیں، آپ خود بھی اپنے آپ کو جاہل سمجھتے ہیں۔ شکوہ تو جائز ہے کہ حمزہ شہباز دو ، تین سال سے سپورٹس یونیورسٹی بنانے کا بار بار اعلان کر رہے ہیں، وہ پنجابی یونیورسٹی بنانے کا اعلان کیوں نہیں کرتے، اس پنجاب کے دیس اور پنجابیوں کی ماں بولی کی یونیورسٹی، جنہوں نے انہیں اک بار نہیں بار بار سر پر بٹھایا، جنہوں نے اپنے کندھوں پر بٹھا کے سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے مینڈیٹوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے اسلام آباد سے پورے ملک کی حکمرانی عطا کر دی، اگر وہ پنجاب اور پنجابی مطالبہ کریں کہ ان کی ماں بولی میں تعلیم دینے والی یونیورسٹی ہونی چاہئے تو کیا غلط ہے۔ ہاں غلط صرف یہ ہے کہ فیصلہ ساز پنجابی تو اپنے گھروں میں بھی پنجابی نہیں بولتے، سکولوں میں پنجابی کی تعلیم کے لئے شور نہیں مچاتے، یہ تو وہ ہیں پنجابی چینل اس وجہ سے بچوں کو نہیں دیکھنے دیتے کہ ان کا ”ایکسنٹ“ خراب ہو جائے گا، اصل میں یہ ان کا مطالبہ نہیں۔ دل میں گھر کر گئی اردو سپیکنگ حسین نقی صاحب کی وہ بات کہ اگر پنجاب میں پنجابی ادب پڑھایا جا رہا ہوتا، پنجاب کے صوفی شاعروں کی تعلیمات پنجاب کے بچوں کو بتائی جا رہی ہوتیں تو کبھی پنجابی طالبان جنم نہ لیتے۔ آہ، پنجابیوں کو شرمندہ کیا جاتا ہے کہ وہ ہر حملہ آور کے میزبان بنتے رہے، انہیں راہ دیتے رہے، مگر اس فخر کیوں نہ کریں کہ پنجابی تلوار اٹھا کے دوسروں کی دھرتیوں پر حملے نہیں کرتے رہے، انہیں تہہ تیغ نہیں کرتے رہے۔

مَیں پنجاب میں پیدا ہوا، یہیں تعلیم حاصل کی، یہیں صحافت کرتے ہوئے عشرے گزر گئے۔ مجھے بہت ہی عجیب لگتا ہے کہ مہاجر ایم کیو ایم بنا سکتے ہیں، سندھی اور بلوچ قوم پرست تنظیمیں بنا کے ان کے پلیٹ فارم سے اپنے مفادات کی جنگ لڑ سکتے ہیں، مگر جب پنجاب اور پنجابیوں کی بات آتی ہے تو جاگ پنجابی جاگ کا نعرہ الزام بن جاتا ہے، گالی بن جاتا ہے، جنہوں نے کبھی 25سال پہلے اس نعرے کو لگایا تھا وہ مجھے 20، 25 سال سے ہی اس پر شرمندہ نظرآتے ہیں۔ پنجاب اور پنجابی زبان کی بات کرنے کے لئے پلاک میں موجود تھے، مگر سٹیج پر اور سٹیج سے نیچے کسی نے بھی پنجابی لباس زیب تن نہیں کر رکھا تھا۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ ہم نے پنجاب میں عزت داروں کی پگ کو چوکیداروں اور چپڑاسیوں کے سر پر سجا دیا ہے۔ مَیں نے جناب مجیب الرحمن شامی سے کہا کہ پنجاب کے لباس کو چھوڑئیے، ہم نے قائداعظم ؒ کی مشہور جناح کیپ کو ماتحت عدالتوں میں نائب قاصدوں کے سر پر سجا دیا ہے، اللہ معاف کرے میں نائب قاصدوں کو چھوٹا آدمی نہیں سمجھتا کہ ان میں سے بہت سارے عمر ، شعور اور تقویٰ میں مجھ سے بہت بہتر ہوں گے، مگر کیا یہ جناح کیپ چپڑاسیوں کی بجائے ججوں کے سر پر نہیں ہونی چاہئے تھی، شامی صاحب نے بتایا کہ انہیں پہنائی گئی تھی، مگر انہوں نے اتار دی۔ جب پنجاب سے نفرت پھیلانے والے پنجاب کی تقسیم کی بات کرتے ہیں تو ان کے پیش نظر انتظامی تقسیم تو ہر گز نہیں ہوتی کہ اگر انتظامی نوعیت کی تقسیم ہو گی تو اس سے تو پنجاب میں انتظام و انصرام مزید بہتر ہوجائے گا، یہ مطالبہ کرنے والے تو پنجاب کو مزید تقسیم کر کے اس کی طاقت کو توڑنا چاہتے ہیں، وہ طاقت جو اس وقت فوج میں بھی ہے، بیورو کریسی میں بھی ہے، قومی اسمبلی میں بھی ہے، مگر جن لوگوں کے پاس اس پاور سٹیشن کا سوئچ ہے، اسے آف ہی رکھنا چاہتے ہیں۔ تخریب کی طاقت اور خواہش ہونا تو بہت دور کی بات، اس طاقت کو تعمیر کی طاقت اور خواہش کے ساتھ بھی استعمال کرنے کی سوچ بھی کہیں نہیں پائی جاتی۔ مجھے اس امر کی نشاندہی کرتے ہوئے افسوس ہوتا ہے کہ پنجاب سے جس مسلم لیگ (ن) نے پورے ملک میں حکمرانی کا مینڈیٹ لیا ہے ، اس کے دور میں بھی پنجاب اور پنجابیوں سے ہی زیادتی ہو رہی ہے۔ آج بھی پنجاب کا صنعتکار، سندھی اور پٹھان صنعتکاروں سے کہیں زیادہ مہنگی بجلی خریدتا ہے، آج پنجابی گاڑی سوار دوسرے صوبوں کے گاڑی سواروں کے مقابلے میں کہیں مہنگا پٹرول ڈلواتا ہے، کیونکہ اس کا سی این جی پر حق نہیں مانا جاتا۔ یہاں آج بھی دوسرے صوبوں سے زیادہ لوڈشیڈنگ ہوتی ہے۔ کبھی کہا کرتے تھے کہ رب کتا بنا دے، چھوٹا بھائی نہ بنائے، مگر جب پنجاب جیسے بڑے بھائی کو دیکھتے ہیںتو دُعا کرتے ہیں رب!

بات میرے وطن پنجاب اور میرے پنجابی بھائیوں کی ہو رہی ہے۔ کیا وجہ ہے کہ ایک طویل عرصے سے ہم نے پنجابی زبان کو فحش گانوں اور گالیوں تک ہی محدود کر کے رکھ دیا ہے، پنجابی میں اگر کسی شے کو مقبولیت ملی ہے تو وہ سٹیج ڈرامہ ہے، مگر اس کے ساتھ جڑی ہوئی شہرت مثبت نہیں، منفی نوعیت کی ہے، محترم سید نور کہتے ہیں کہ چوڑیاں اور مجاجن نے جو بزنس کیا وہ اردو فلمیں بھی نہیں کر سکیں، مَیں سید نور کو ذات کو اپنی پوری فلم انڈسٹری کی اک دو استثناﺅں میں سمجھتا ہوں ورنہ پاکستان میں بننے والی پنجابی زبان کی فلموں نے بھی پنجابی دیس اور پنجابی زبان کے ساتھ کوئی انصاف نہیں کیا۔ ہم جس پنجابی ادب کی بات کرتے ہیں وہ بھی سرحدوں کے ساتھ تقسیم ہو چکا، اب پنجابی زبان بولنے میںتو ایک ہی ہے،مگر بھارتی پنجاب کا ادب یہاں نہیں پڑھا جا سکتا اور پاکستانی پنجاب کے شاعر مُنہ زبانی تو اپنے پنجابی شعر بھارتی پنجاب کے رہنے والوں کوسنا سکتے ہیں، مگر ان کی لکھی ہوئی کتابوں کو وہاں قارئین دستیاب نہیں ہو سکتے۔ مَیں اس خوش فہمی میں نہیں رہ سکتا کہ اگر حالات ایسے ہی رہے تو پنجابی تشخص، زبان اور ادب ہمیشہ اپنے وجود کو اپنے ماضی کی شاندار روایات کے مطابق برقرار رکھ پائیں گے۔ پنجابی اپنی پہچان پر شرمندہ ہونا چھوڑ دیں اور مان لیں کہ یہ کمزور ہوتے چلے جا رہے ہیں، انہیں تباہ کرنے کے لئے دانستہ یا بادانستہ طور پر طوفان برپا ہو رہے ہیں۔ ان آندھیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے پنجاب کی جٹی، پنجاب کی بیٹی صغریٰ، پنجاب آرٹ، کلچر اینڈ لینگوئج کی چھوٹی سی پہاڑی پر کھڑی ، پنجاب کے فن، ثقافت اور زبان کو بچانے کے لئے ہاتھ ، پیر مار رہی ہے ، وہ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا ہی تو ہے لگی رہیں ڈاکٹر صاحبہ کہ کبھی کبھی تنکے کنارے پر پہنچا بھی دیتے ہیں۔

مزید :

کالم -